(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان ساری عمر چہروں سے ملتا رہتا ہے، مگر ایک ملاقات ایسی بھی ہے جس سے اکثر لوگ عمر بھر محروم رہ جاتے ہیں؛ اور وہ ملاقات ہے اپنے آپ سے۔
ہم نے دنیا کے فاصلے ناپ لیے، ستاروں کے راستے تلاش کر لیے، سمندروں کی تہوں تک اتر گئے، مگر اپنے باطن کے ایک چھوٹے سے کمرے میں جھانکنے کی فرصت نہ ملی۔ ہم دوسروں کے چہروں پر لگی گرد دیکھتے رہے، مگر اپنے آئینے پر جمی دھند کو صاف کرنا بھول گئے۔
شاید انسان کی سب سے بڑی مسافت زمین سے آسمان تک نہیں، بلکہ اپنے ظاہر سے اپنے باطن تک ہے۔
اور اس سفر کا پہلا دروازہ اپنی خامیوں سے ملاقات ہے۔
یہ ملاقات آسان نہیں ہوتی، کیونکہ انسان دنیا کے سامنے اپنے چہرے سنوار کر پیش آتا ہے، مگر اپنی روح کے سامنے کوئی نقاب کام نہیں آتا۔ وہاں نہ تعریفوں کے پردے ہوتے ہیں، نہ عذر کے سہارے، نہ دوسروں کی غلطیوں کا شور۔ وہاں صرف انسان ہوتا ہے اور اس کا اصل وجود۔
یہ وہ لمحہ ہے جب اندر کا خاموش آئینہ اچانک بول اٹھتا ہے۔
وہ کہتا ہے: جس تکبر کو تم دوسروں میں تلاش کرتے رہے، اس کا ایک سایہ تمہارے اندر بھی تھا۔ جس بے حسی پر تم نے انگلی اٹھائی، اس کی کوئی پرچھائیں تمہارے دل میں بھی موجود تھی۔ جن رویوں سے تمہیں شکایت تھی، کہیں نہ کہیں تم بھی انہی راستوں کے مسافر تھے۔
یہ احساس انسان کو توڑتا نہیں، اگر وہ بیدار ہو، تو اسے جوڑ دیتا ہے۔
کیونکہ اپنی خامی کو دیکھ لینا زوال نہیں، کمال کی ابتدا ہے۔ بیج جب تک اپنے خول میں قید رہتا ہے، درخت نہیں بنتا۔ اسے اپنی قید توڑنی پڑتی ہے، اندھیرے مٹی کے اندر دفن ہونا پڑتا ہے، تب کہیں جا کر روشنی کی طرف سفر شروع ہوتا ہے۔
انسان بھی ایسا ہی ہے۔ جب تک وہ اپنی انا کے خول میں بند رہتا ہے، اس کے اندر کا انسان جنم نہیں لیتا۔
ہماری سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ ہم میں خامیاں ہیں؛ خامی تو انسان ہونے کی علامت ہے۔ اصل محرومی یہ ہے کہ ہم اپنی خامیوں کو دیکھنے کی صلاحیت کھو دیں۔ کیونکہ جس آنکھ کو اپنا داغ نظر نہ آئے، وہ دوسروں کے دامن پر دھبے تلاش کرنے میں عمر گزار دیتی ہے۔
اللہ کا کرم بھی شاید اسی لمحے اترتا ہے جب انسان کو اپنی حقیقت دکھائی دینے لگتی ہے۔ جب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ جتنا سمجھتا تھا، اتنا کامل نہیں؛ جتنا دکھاتا تھا، اتنا مضبوط نہیں؛ جتنا ظاہر کرتا تھا، اتنا بے نیاز نہیں۔
یہ احساس شکست نہیں، رحمت ہے۔
کیونکہ درخت جب پھل سے بھر جاتا ہے تو جھک جاتا ہے، اور انسان جب معرفت سے بھرنے لگتا ہے تو اپنی ذات کے بوجھ سے نہیں، عاجزی کے نور سے جھکنے لگتا ہے۔
اپنی خامیوں سے ملاقات انسان کو دوسروں کا منصف نہیں، اپنے نفس کا نگہبان بنا دیتی ہے۔
پھر وہ دوسروں کی لغزشوں پر قہقہہ نہیں لگاتا، کیونکہ اسے اپنے قدموں کے نشانات یاد ہوتے ہیں۔ وہ کسی ٹوٹے ہوئے انسان کو حقیر نہیں سمجھتا، کیونکہ وہ اپنے اندر کے ٹوٹے ہوئے حصوں سے واقف ہو چکا ہوتا ہے۔
عجیب حقیقت ہے کہ انسان دوسروں کو معاف کرنا اس وقت سیکھتا ہے جب وہ پہلے خود کو سمجھ لیتا ہے۔
جو شخص اپنی کمزوریوں سے واقف ہو جائے، اس کے دل میں رحم کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ کیونکہ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ ہر مسافر اپنے اندر ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس کا میدان کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔
زندگی کے کچھ آئینے چہرہ نہیں دکھاتے، حقیقت دکھاتے ہیں۔
ایک ناکامی، ایک تنہائی، ایک سچی تنقید، ایک مخلص دوست، ایک دعا، ایک آنسو—یہ سب وہ آئینے ہیں جن میں انسان اپنی اصل صورت دیکھ سکتا ہے۔
مگر شرط صرف یہ ہے کہ انسان دیکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
کیونکہ خود کو دیکھنا سب سے بڑا امتحان ہے۔ دوسروں کی خامیوں پر روشنی ڈالنا آسان ہے، اپنے اندھیروں میں چراغ لے کر اترنا مشکل ہے۔
اور شاید یہی انسان کی اصل عظمت ہے کہ وہ اپنے اندر کے اندھیروں سے جنگ کرے، اپنی شکستوں سے سبق لے، اپنی خامیوں کو اپنی تعمیر کا سامان بنا لے۔
کامل انسان وہ نہیں جس پر کبھی گرد نہ پڑی ہو؛ کامل وہ ہے جو وقتاً فوقتاً اپنے باطن کی صفائی کرتا رہے۔
جس دن انسان کی اپنی خامیوں سے پہلی ملاقات ہو جاتی ہے، اسی دن اس کی اصلاح کا سفر شروع ہوتا ہے۔
پھر وہ دنیا کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنے لگتا ہے، دوسروں کے گریبان دیکھنے سے پہلے اپنے دامن کو دیکھتا ہے، اور دوسروں کے عیب تلاش کرنے سے پہلے اپنی روح کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے۔
کیونکہ انسان کی سب سے بڑی فتح دوسروں کو شکست دینا نہیں، بلکہ اپنے نفس کے اندھیروں پر قابو پانا ہے۔
اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب انسان پہلی بار اپنے آپ سے ملتا ہے۔
وہ ملاقات جس کے بعد انسان صرف زندہ نہیں رہتا، بیدار ہو جاتا ہے۔
