(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
حبت کوئی مستقل مسکن نہیں، یہ ایک مسلسل ہجرت ہے؛ ایسی ہجرت جو مٹی کے تپتے ہوئے گھروندوں سے آغاز کرتی ہے اور روح کی لامتناہی وسعتوں میں اپنا آسمان تلاش کرتی رہتی ہے۔ اس کائنات میں سب سے زیادہ غریب بھی وہی ہے اور سب سے زیادہ امیر بھی وہی، جس نے محبت کو ملکیت نہیں بلکہ مسافرت سمجھا۔ اس کا کوئی مستقل پتہ نہیں ہوتا، کیونکہ اس کی رہائش کسی شہر میں نہیں، دلوں کے اخلاص میں ہوتی ہے۔ اس کا سرمایہ صرف ایک بے داغ روح ہے، اور اس روح کی تمام قیمت ایک سچی، بے ریا پکار ہے۔
جب کوئی دل پوری صداقت کے ساتھ آواز دیتا ہے تو صرف الفاظ نہیں گونجتے، بلکہ روح کی ایسی لہریں بیدار ہوتی ہیں جو فاصلے، زمانے اور مصلحتوں کی تمام دیواریں عبور کر جاتی ہیں۔ محبت کا خانہ بدوش انہی لہروں کا ہمسفر ہوتا ہے۔ وہ قدموں سے کم اور دل کی کشش سے زیادہ سفر کرتا ہے۔ اس کے لیے سب سے بڑی مسافت زمین کی نہیں، “میں” سے “تو” تک کی ہوتی ہے۔
لیکن محبت کا سفر صرف وہاں تک ہے جہاں محبت کی سانس باقی ہو۔ بعض دروازے دستکوں کی کمی سے نہیں، انا کی کثافت سے بند رہتے ہیں۔ وہاں محبت نہیں، ملکیت کا غرور پہرہ دیتا ہے؛ اس لیے بار بار کی صدائیں بھی اُن کی خاموشی میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں کرتیں۔ ایسے آستانوں پر عمر بھر ٹھہرے رہنا وفا نہیں، اپنی روح کو آہستہ آہستہ فرسودہ کرنا ہے۔ محبت کی سب سے بڑی حکمت ہر دروازہ کھلوانا نہیں، بلکہ اُس لمحے کو پہچان لینا ہے جب خاموشی آخری دستک بن جائے اور ہجرت، اصرار سے زیادہ باوقار محسوس ہونے لگے۔
اس مقام سے رخصت ہونا شکست نہیں، شعور کی فتح ہے۔ کیونکہ محبت کبھی بند دروازوں کے پیچھے قید نہیں رہتی۔ وہ اُن دلوں کی سمت کوچ کر جاتی ہے جہاں قبولیت عبادت ہو، احترام فطرت ہو اور اخلاص چراغ کی مانند روشن ہو۔ زندگی کا ایک عظیم راز یہ بھی ہے کہ بعض راستے منزل تک پہنچانے کے لیے نہیں، بلکہ غلط منزل سے نکالنے کے لیے وجود میں آتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی دل بارہا کی سچی پکار کے باوجود بیدار نہ ہو تو مایوس ہونے کے بجائے آگے بڑھ جانا چاہیے، کیونکہ محبت اکثر اگلے ہی موڑ پر اُن ہاتھوں میں منتظر ہوتی ہے جو آپ کو بوجھ نہیں، نعمت سمجھ کر تھام لیتے ہیں۔
اگر اس فلسفے کی تہہ میں اترا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ محبت کبھی قبضے اور اختیار کا نام نہیں رہی۔ جہاں دائرے کھینچے گئے، وہاں محبت کا پرندہ اُڑ گیا۔ محبت کی خانہ بدوشی دراصل تعلق کی معراج ہے، جہاں انسان پتھر کی سختی چھوڑ کر دریا کی روانی اختیار کر لیتا ہے۔ وہ ہر دل کو سیراب کرتا ہے مگر کسی دل پر قبضہ نہیں کرتا، ہر رشتے کو نبھاتا ہے مگر کسی رشتے کو زنجیر نہیں بننے دیتا۔
یہی کائنات کا حسین ترین تضاد ہے کہ دنیا جسے بے گھر سمجھتی ہے، حقیقت میں پوری کائنات اسی کا گھر بن جاتی ہے۔ وہ کسی ایک دل کا قیدی نہیں رہتا بلکہ محبت کا آفاقی استعارہ بن جاتا ہے۔ جب تک انسان اپنے اندر کے اس خانہ بدوش کو زندہ رکھتا ہے، اس کی روح کبھی بوڑھی نہیں ہوتی۔ وہ ہر ہجرت کے بعد پہلے سے زیادہ وسیع ہو جاتا ہے، ہر سچی پکار پر ایک نئی کائنات دریافت کرتا ہے، اور فنا کے سمندر میں بقا کا وہ جزیرہ بن جاتا ہے جسے صرف اہلِ محبت ہی پہچان سکتے ہیں۔
