(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
ہر عہد اپنے احتجاج کی ایک علامت تراشتا ہے۔ کبھی وہ فرانس کی گیلوٹین ہوتی ہے، کبھی روس کا سرخ پرچم، کبھی چین کا لانگ مارچ، کبھی ایران کی مساجد اور کیسٹ ٹیپس، اور کبھی جنوبی افریقہ کی دہائیوں پر محیط مزاحمت۔ آج کی دنیا میں یہ علامت ایک ہیش ٹیگ، ایک میم اور چند سیکنڈ کی وائرل ویڈیو بن چکی ہے۔ مگر تاریخ کا قانون کبھی نہیں بدلا۔ چنگاری ہمیشہ لمحوں میں بھڑکتی ہے، لیکن تہذیبیں ہمیشہ برسوں میں تعمیر ہوتی ہیں۔
ابنِ خلدون نے صدیوں پہلے لکھا تھا کہ ریاستیں صرف قوت سے نہیں بلکہ اجتماعی عصبیت سے قائم رہتی ہیں۔ جب عوام کا اعتماد ٹوٹتا ہے تو اقتدار کی دیواروں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں، مگر اگر اس خلا کو کوئی منظم نظریہ، مضبوط تنظیم اور قابلِ اعتماد قیادت نہ بھرے تو انہی دراڑوں سے پرانا نظام کسی نئے چہرے کے ساتھ دوبارہ جنم لے لیتا ہے۔
اسی لیے فرانس کا انقلاب صرف غصے کی پیداوار نہیں تھا۔ اس کے پیچھے والٹیر، روسو، مونٹیسکیو اور دیدرو کی دہائیوں پر محیط فکری کاوشیں تھیں۔ روس میں بالشویک صرف نعرے لگا کر کامیاب نہیں ہوئے؛ لینن کی منظم پارٹی، مزدور یونینیں اور نظریاتی تربیت ان کی اصل قوت تھیں۔ چین میں ماؤ زے تنگ کا لانگ مارچ صرف ایک سفر نہیں بلکہ تنظیم، قربانی اور اجتماعی نظم کی علامت تھا۔ ایران میں آیت اللہ خمینی کی تحریک مسجد، مدرسہ، بازار اور مذہبی نیٹ ورک کے بغیر کامیاب نہ ہوتی۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا اور افریقی نیشنل کانگریس نے نسل پرستی کو صرف احتجاج سے نہیں بلکہ دہائیوں کی تنظیم، سفارت کاری اور مصالحتی حکمتِ عملی سے شکست دی۔ پولینڈ میں “سولیڈیرٹی” مزدور تحریک نے کمیونسٹ نظام کو مسلسل تنظیم، اتحاد اور مذاکرات کے ذریعے چیلنج کیا۔
پھر ڈیجیٹل عہد آیا، جہاں انسان نے گمان کیا کہ شاید الگورتھم ہی اب تاریخ لکھیں گے۔ عرب بہار سے لے کر وال اسٹریٹ، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور مختلف معاشروں تک نوجوانوں نے حیرت انگیز عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ حکومتیں لرزیں، ایوان خالی ہوئے، چوک بھر گئے، مگر گرد بیٹھنے پر اکثر جگہ صرف چہرے بدلے، ڈھانچے نہیں۔ کہیں پرانے سیاست دان واپس آگئے، کہیں فوج زیادہ مضبوط ہو گئی، اور کہیں ریاست نے احتجاج کو جذب کرکے خود کو پہلے سے زیادہ مستحکم کر لیا۔
ہنّا آرنٹ نے کہا تھا کہ طاقت اور تشدد ایک چیز نہیں۔ طاقت وہاں جنم لیتی ہے جہاں لوگ طویل عرصے تک ایک مقصد پر منظم رہیں۔ تشدد اکثر اس وقت سامنے آتا ہے جب حقیقی طاقت ختم ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہیش ٹیگ لاکھوں انسانوں کو ایک لمحے میں اکٹھا تو کر سکتا ہے، مگر انہیں برسوں تک ایک نظریے پر قائم نہیں رکھ سکتا۔ الگورتھم جذبات کو بڑھاتا ہے، کردار کو نہیں۔
تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہٹلر، اتاترک، ماؤ زے تنگ، ڈینگ ژیاؤ پنگ، نیلسن منڈیلا یا لی کوان یو ایک دوسرے سے نظریاتی طور پر جتنے مختلف تھے، ایک حقیقت پر اتنے ہی متفق نظر آتے ہیں کہ ریاست صرف جذبات سے نہیں چلتی؛ اسے ادارے، نظم، تربیت اور مسلسل سیاسی عمل درکار ہوتا ہے۔ نظریات مختلف ہو سکتے ہیں، مگر پائیدار تبدیلی کا طریقۂ کار تقریباً ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا نعمت ہے یا فتنہ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے احتجاج کو ایک ایونٹ میں تبدیل کر دیا ہے؟ چند گھنٹوں کی ٹرینڈنگ، چند دن کا جوش، پھر خاموشی۔ اگر احتجاج کا اختتام کسی لائحۂ عمل، تنظیم، مذاکراتی حکمتِ عملی اور ادارہ سازی پر نہیں ہوتا تو وہ اکثر تاریخ کا عنوان تو بن جاتا ہے، مگر تاریخ کا رخ نہیں بدل پاتا۔
سیلاب پہاڑ تو کاٹ سکتا ہے مگر کھیت نہیں اگا سکتا۔ کھیت ہمیشہ کسان کے صبر، بیج کی حفاظت اور مسلسل محنت سے لہلہاتے ہیں۔ اسی طرح ہیش ٹیگ آگ تو لگا سکتا ہے، مگر نئے نظام کی تعمیر کے لیے راکھ سے اینٹیں بھی بنانی پڑتی ہیں۔ ہجوم اقتدار کو ہلا سکتا ہے، لیکن ریاست صرف وہی تعمیر کرتا ہے جو جذبات کو نظم، احتجاج کو ادارے، اور خواب کو قانون میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
