(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
مرد کی عظمت اس بات میں نہیں کہ لوگ اس کے نام سے راستہ بدل لیں، بلکہ اس مقام پر ہے کہ لوگ اس کے قریب آ کر اپنے خوف بھول جائیں۔
دنیا نے طاقت کو اکثر غلط سمجھا ہے۔
لوگ سمجھتے رہے کہ بلند آواز، سخت لہجہ، غصہ اور اختیار ہی رعب کی نشانیاں ہیں، حالانکہ حقیقی رعب تو وہ خاموش قوت ہے جو کسی کمزور دل کو یہ احساس دے کہ “یہاں مجھے کوئی خطرہ نہیں۔”
ایک باوقار مرد وہ نہیں جس کے سامنے لوگ خاموش ہو جائیں، بلکہ وہ ہے جس کے سامنے لوگ خود کو محفوظ محسوس کرتے ہوئے بول سکیں۔
اس کی موجودگی میں عورت کو اپنی عزت کی حفاظت کے لیے محتاط نہ ہونا پڑے، بلکہ اس کے کردار کی دیواریں اسے یہ یقین دلائیں کہ یہاں نگاہوں میں ہوس نہیں، دل میں احترام ہے۔
کیونکہ مرد کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنی طاقت رکھتا ہے،
اصل امتحان یہ ہے کہ طاقت رکھنے کے باوجود وہ کتنا مہذب، شفیق اور ذمہ دار رہتا ہے۔
کمزور آدمی اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو خوفزدہ کرتا ہے،
مگر مضبوط آدمی اپنی طاقت اس لیے چھپاتا ہے کہ کسی کمزور کو خوف محسوس نہ ہو۔
شیر کی پہچان یہ نہیں کہ وہ ہر وقت دھاڑتا رہے،
بلکہ یہ ہے کہ جنگل اس کی موجودگی سے واقف ہوتا ہے، چاہے وہ خاموش ہی کیوں نہ ہو۔
مرد کی شخصیت کا رعب اس کے لباس، دولت یا عہدے سے نہیں نکلتا؛
یہ اس وقت جنم لیتا ہے جب اس کے الفاظ اور اعمال کے درمیان کوئی فاصلہ نہ رہے۔ جب اس کی نگاہ میں پاکیزگی، فیصلوں میں انصاف اور رویوں میں وقار ہو۔
ایک عورت کو سب سے زیادہ متاثر وہ مرد نہیں کرتا جو دنیا کو فتح کرنے کے دعوے کرے، بلکہ وہ مرد کرتا ہے جس کے ساتھ چلتے ہوئے اسے محسوس ہو کہ یہ شخص میری عزت، میرے خوف اور میری خاموشیوں کا محافظ ہے۔
کیونکہ اصل مرد وہ نہیں جو کسی کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر دے،
اصل مرد وہ ہے جس کے کردار کی بلندی دیکھ کر لوگ خود احترام سے سر جھکا دیں۔
یاد رکھیں:
“مرد کی سب سے بڑی طاقت اس کے بازوؤں میں نہیں، اس احساس میں ہوتی ہے جو اس کی موجودگی دوسروں کے دل میں پیدا کرتی ہے۔”
وہ مرد قابلِ احترام ہے جس کے قدموں کی چاپ سے راستے نہیں ڈرتے،
جس کے قریب آ کر دل مطمئن ہوتے ہیں،
اور جس کے سائے میں کمزور انسان خود کو کمزور نہیں بلکہ محفوظ محسوس کرتا ہے۔
کیونکہ دنیا کو مزید طاقتور مردوں کی نہیں،
ایسے باکردار مردوں کی ضرورت ہے جن کی طاقت خوف نہیں، امن پیدا کرے۔
