خوابوں کا قرض

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کچھ خواب صرف دیکھے نہیں جاتے،
وہ انسان سے اپنی قیمت وصول کرتے ہیں۔
وہ خاموشی سے آنکھوں میں جنم لیتے ہیں، پھر دل کے کسی پوشیدہ کمرے میں پلتے رہتے ہیں۔ ابتدا میں وہ ننھے چراغوں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں ہوا سے بچانے کے لئے انسان اپنی ہتھیلیاں ان کے گرد رکھتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ وہ چراغ سورج بننے کی ضد کرنے لگتے ہیں۔
اور سورج بننے کی خواہش رکھنے والی روشنی اکثر کچھ سایوں کو جنم دیتی ہے۔
انسان سمجھتا ہے کہ وہ خوابوں کا مالک ہے، حالانکہ اکثر خواب ہی انسان کو اپنا مسافر بنا لیتے ہیں۔
وہ ہاتھ پکڑ کر اسے ان راستوں پر لے جاتے ہیں جہاں منزل تو دکھائی دیتی ہے، مگر راستے میں چھوٹ جانے والی آوازیں سنائی نہیں دیتیں۔
ایک خواب جب دل میں اترتا ہے تو وہ صرف ایک خواہش نہیں رہتا۔
وہ ایک الگ وجود بن جاتا ہے۔
وہ صبح سویرے انسان کو جگاتا ہے، رات دیر تک اس کے ساتھ بیٹھتا ہے، اس کی تھکن کو بہانے دیتا ہے، اس کے زخموں پر کامیابی کا مرہم رکھتا ہے۔
وہ کہتا ہے:
“بس تھوڑا اور چل لو۔”
اور انسان چلتا رہتا ہے۔
پہلے قدموں سے خون نکلتا ہے، پھر احساس ختم ہو جاتا ہے۔
پہلے راستے کی سختی محسوس ہوتی ہے، پھر انسان خود پتھر بن جاتا ہے۔
کبھی کبھی خواب بہت مہربان دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ وہ انسان کو ایک ایسی دنیا دکھاتے ہیں جو ابھی موجود نہیں ہوتی۔
وہ اسے مستقبل کے باغوں کی خوشبو سناتے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے کہ ان باغوں تک پہنچنے کے لئے کتنے جنگل کاٹنے پڑیں گے۔
وہ تاج دکھاتے ہیں، مگر کانٹوں کا حساب نہیں دیتے۔
وہ چوٹی دکھاتے ہیں، مگر پہاڑ کی تنہائی نہیں بتاتے۔
اور انسان بھی عجیب ہے۔
وہ خواب کے چہرے پر توجہ دیتا ہے، اس کے قدموں میں بکھرے ہوئے زخم نہیں دیکھتا۔
وہ کامیابی کی تصویر سنبھال کر رکھتا ہے، مگر اس راستے میں گم ہو جانے والے لمحوں کا کوئی ریکارڈ نہیں بناتا۔
ایک دن وہ بڑی عمارت کے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے۔
لوگ اسے کامیاب کہتے ہیں۔
اس کے پاس وہ سب کچھ ہوتا ہے جسے دنیا کامیابی کا نام دیتی ہے۔
مگر کبھی کبھی انسان اپنی بنائی ہوئی سلطنت کے بیچ میں کھڑا ہو کر محسوس کرتا ہے کہ جس چیز کو حاصل کرنے کے لئے وہ نکلا تھا، شاید وہ راستے میں کہیں پیچھے رہ گئی۔
وہ گھر جس کے لئے عمر گزاری، اس کے کمروں میں اجنبی خاموشیاں بسی ہوتی ہیں۔
وہ دولت جس کے لئے وقت بیچا، اسے خرچ کرنے کے لئے وقت باقی نہیں رہتا۔
وہ مقام جس کے لئے رشتوں کو انتظار کی قطار میں کھڑا رکھا، وہاں پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اب انتظار کرنا چھوڑ چکے ہیں۔
خواب عجیب قرض خواہ ہوتے ہیں۔
یہ قرض رقم میں نہیں مانگتے۔
یہ وقت مانگتے ہیں۔
یہ توجہ مانگتے ہیں۔
یہ کبھی کبھی انسان کی ہنسی، اس کی فرصت، اس کی معصومیت، حتیٰ کہ اس کے اپنے لوگوں کی قربت بھی اپنے حساب میں لکھ لیتے ہیں۔
لیکن انسان حساب نہیں کرتا۔
کیونکہ نشے میں ڈوبا ہوا آدمی آئینے میں اپنا بکھرا ہوا چہرہ نہیں دیکھتا۔
وہ صرف وہ منظر دیکھتا ہے جو اس کا نشہ اسے دکھاتا ہے۔
خواب بھی ایک نشہ ہیں۔
ان کے زیرِ اثر دنیا زیادہ روشن، زیادہ خوبصورت، زیادہ قابلِ برداشت محسوس ہوتی ہے۔
انسان اپنی تھکن کو جدوجہد کہتا ہے، اپنی تنہائی کو قربانی، اپنی محرومیوں کو مستقبل کی سرمایہ کاری۔
پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب خواب کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
جسم کہتا ہے:
“اب میرے پاس پہلے جیسی طاقت نہیں۔”
وقت کہتا ہے:
“اب واپسی کا راستہ چھوٹا رہ گیا ہے۔”
اور انسان پہلی بار خاموشی میں اپنے اردگرد دیکھتا ہے۔
تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ راستے جیتنے کے لئے نہیں، سمجھنے کے لئے ہوتے ہیں۔
تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ زندگی صرف ان چوٹیوں کا نام نہیں جہاں جھنڈے گاڑے جاتے ہیں؛ زندگی ان وادیوں کا نام بھی ہے جہاں کسی کا ہاتھ تھاما جاتا ہے۔
وہ بچے جن کی انگلی پکڑ کر چلنا تھا، شاید اب اتنے بڑے ہو چکے ہیں کہ انہیں سہارے کی ضرورت نہیں۔
وہ چہرے جنہیں ایک جملے کی محبت درکار تھی، شاید اب تعریف کے محتاج نہیں رہے۔
وہ لمحے جو واپس آ سکتے تھے، اب صرف یادوں کے عجائب گھر میں رکھے ہیں۔
اور پھر انسان سوچتا ہے:
کیا خواب غلط تھے؟
نہیں۔
خواب غلط نہیں ہوتے۔
غلطی صرف یہ ہے کہ ہم انہیں زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں، جبکہ وہ زندگی کے راستے میں آنے والے چراغ تھے۔
چراغ راستہ دکھاتے ہیں،
گھر نہیں بن جاتے۔
انسان کا المیہ یہ نہیں کہ وہ بڑے خواب دیکھتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ کبھی کبھی وہ خواب پورے کرتے کرتے خود کو ادھورا چھوڑ دیتا ہے۔
اس لئے شاید سب سے بڑی کامیابی وہ نہیں جس پر دنیا تالیاں بجائے۔
سب سے بڑی کامیابی وہ ہے جب انسان اپنی منزل تک پہنچ کر بھی اپنے اندر کے انسان کو زندہ پائے۔
کیونکہ آخر میں سوال یہ نہیں ہوگا کہ:
“تم نے کیا حاصل کیا؟”
بلکہ یہ ہوگا:
“جس چیز کو حاصل کرنے کے لئے تم نکلے تھے، کیا سفر کے اختتام پر بھی وہ تمہارے اندر باقی تھی؟”

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top