(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
ہم ساری عمر کسی نہ کسی چیز کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔۔کامیابی، محبت، شناخت، سکون، سچائی، خوشی، حتیٰ کہ خدا کی قربت بھی کبھی کبھی ہماری خواہشات کی فہرست کا ایک اور عنوان بن جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ زندگی کا ہر قیمتی راز کہیں آگے، کہیں باہر، کسی اگلی منزل پر ہمارا منتظر ہے۔ اس لیے قدم رکتے نہیں، ذہن خاموش نہیں ہوتا اور دل کو فرصت نہیں ملتی۔
مگر شاید زندگی کا سب سے بڑا فریب یہی ہے کہ ہم جسے پانے کے لیے دوڑ رہے ہوتے ہیں، اس سے دوری ہماری دوڑ ہی پیدا کر رہی ہوتی ہے۔
دریا کو سمندر بننے کے لیے بے چین ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ بس بہتا ہے۔ بیج کو درخت بننے کے لیے اپنے خول سے لڑنا نہیں پڑتا۔ وہ خاموشی سے اپنے اندر چھپی ہوئی زندگی کو جگہ دیتا ہے۔ فجر کو طلوع ہونے کے لیے رات سے کوئی بحث نہیں کرنا پڑتی۔ وقت آتا ہے اور روشنی خود ظاہر ہو جاتی ہے۔
انسان مگر ہر حقیقت کو اپنے اختیار میں لینا چاہتا ہے۔
وہ محبت کو قابو کرنا چاہتا ہے، خوشی کو محفوظ کرنا چاہتا ہے، مستقبل کو یقینی بنانا چاہتا ہے، دوسروں کے دلوں کو پڑھنا چاہتا ہے اور اپنی روح کو بھی اپنی مرضی کے مطابق سکون دینا چاہتا ہے۔ یہی گرفت رفتہ رفتہ اس کے اندر گرہیں ڈال دیتی ہے۔
سکون شاید کسی چیز کے مل جانے کا نام نہیں؛
کچھ چیزوں کو چھوڑ دینے کا نام ہے۔
چھوڑ دینا شکست نہیں۔
چھوڑ دینا اس شعور کا آغاز ہے کہ ہر چیز ہماری ملکیت نہیں، ہر سوال کا جواب اسی لمحے ضروری نہیں، ہر خواہش کا پورا ہونا ضروری نہیں اور ہر راستے پر چلنا لازم نہیں۔
جب انسان اپنے اندر کی مسلسل گفتگو سے ایک قدم پیچھے ہٹتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں کوئی مطالبہ نہیں، کوئی مقابلہ نہیں، کوئی جلدی نہیں۔ وہاں نہ ماضی اپنی زنجیریں لیے کھڑا ہوتا ہے، نہ مستقبل اپنے اندیشوں کے ساتھ۔
وہاں صرف وجود ہوتا ہے۔
اور شاید روح کی سب سے بڑی نعمت یہی ہے کہ انسان کچھ دیر کے لیے اپنے بنائے ہوئے تعارف سے آزاد ہو جائے۔۔۔نہ وہ کامیاب ہونے کی کوشش کرے، نہ عظیم دکھائی دینے کی، نہ کسی کو شکست دینے کی، نہ کسی سے اپنی قدر منوانے کی۔
بس اپنے ہونے کو محسوس کرے۔
تب ایک عجیب حقیقت سامنے آتی ہے:
ہم زندگی کو جینے سے زیادہ اسے درست ثابت کرنے میں مصروف رہے ہیں۔
ہم نے خوشی کو مستقبل کے حوالے کر دیا، سکون کو کامیابی کے ساتھ باندھ دیا اور اطمینان کو کسی آنے والے دن کی امانت بنا دیا۔ یوں زندگی ہمارے سامنے سے گزرتی رہی اور ہم اس کے اگلے لمحے کی تیاری کرتے رہے۔
شاید شعور کا بیدار ہونا یہ ہے کہ انسان پہلی بار اسی لمحے کو مکمل سمجھ کر دیکھے۔
خاموشی میں بیٹھا ہوا انسان خالی نہیں ہوتا۔
وہ پہلی بار ان آوازوں سے آزاد ہوتا ہے جو اسے خود سے دور رکھتی ہیں۔
اور جب اندر کا ہنگامہ مدھم پڑتا ہے تو کائنات اچانک کوئی نیا راز نہیں کھولتی؛ انسان کی نظر بدل جاتی ہے۔ وہی آسمان زیادہ وسیع دکھائی دیتا ہے، وہی ہوا زیادہ زندہ محسوس ہوتی ہے، وہی تنہائی رفاقت بن جاتی ہے، اور وہی زندگی جس سے وہ شاکی تھا، ایک خاموش عطیہ معلوم ہونے لگتی ہے۔
شاید روحانیت کا اصل کمال بھی یہی ہے کہ انسان کائنات کو بدلنے کے بجائے اپنی نگاہ کو بدل لیتا ہے۔
پھر اسے ہر طرف منزلیں نہیں، نشانیاں دکھائی دیتی ہیں؛
ہر واقعے میں حادثہ نہیں، کوئی معنی دکھائی دیتا ہے؛
اور اپنے اندر خلا نہیں، ایک ایسی گہرائی محسوس ہوتی ہے جس کی تہہ تک پہنچنا ممکن نہیں۔
آخرکار انسان سمجھتا ہے کہ سکون کوئی ایسی شے نہیں جسے دنیا کے بازار سے خریدا جا سکے، نہ کوئی ایسی منزل ہے جہاں پہنچ کر زندگی ہمیشہ کے لیے بے اضطراب ہو جائے۔
سکون دراصل وہ لمحہ ہے جب انسان زندگی سے جنگ کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
اور شاید اسی لمحے اسے پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ
جس دروازے پر وہ عمر بھر دستک دیتا رہا،
وہ دروازہ باہر نہیں تھا۔۔۔
وہ اس کے اپنے اندر کھلتا تھا۔
