(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کائنات کی سب سے بڑی خاموشی قبرستانوں میں نہیں اترتی، انسان کے اس دل میں اترتی ہے جو جینا بھول چکا ہو۔ موت سے پہلے مر جانے والے لوگ ہی موت سے سب سے زیادہ خوف زدہ ہوتے ہیں، کیونکہ انہوں نے زندگی کو کبھی اپنے خون میں گھلنے ہی نہیں دیا۔
موت کسی چراغ کا بجھ جانا نہیں؛ یہ اس شعلے کا سورج میں ضم ہو جانا ہے جسے ہم اپنی محدود آنکھوں سے صرف ایک چراغ سمجھتے رہے۔
انسان ساری عمر آئینوں کو چمکاتا رہتا ہے مگر اس چہرے کو نہیں پہچانتا جو ہر آئینے کے پیچھے کھڑا ہے۔ پھر جب موت آتی ہے تو وہ آئینہ توڑتی نہیں، صرف پردہ ہٹا دیتی ہے۔ پہلی مرتبہ انسان خود کو اپنی اصل روشنی میں دیکھتا ہے۔
دریا کبھی سمندر میں گر کر نہیں مرتا؛ وہ اپنی تنگ شناخت کھو کر اپنی اصل وسعت پا لیتا ہے۔ شاید موت بھی انسان کی اسی وسعت کا دوسرا نام ہے۔ ہم اسے اختتام کہتے ہیں، جبکہ کائنات اسے واپسی کہتی ہے۔
وقت دراصل ریت کی گھڑی نہیں، ایک خاموش درزی ہے۔ وہ ہر سانس سے ہماری عمر کا لباس سیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن آخری ٹانکا لگا کر مسکرا دیتا ہے۔ ہم اسے موت کہتے ہیں، جبکہ وہ صرف تخلیق کو مکمل کرتا ہے۔
ہر انسان اپنے اندر ایک پرندہ لیے پھرتا ہے۔ جسم اس کا پنجرہ ہے، خواہشات اس کی سلاخیں، اور خوف اس کا تالہ۔ موت شاید وہ لمحہ ہے جب پنجرہ کھلتا ہے اور پرندہ پہلی مرتبہ آسمان کا اصل معنی سمجھتا ہے۔
جو لوگ صرف جسم میں بستے ہیں، موت ان سے سب کچھ چھین لیتی ہے۔ مگر جو روح میں آباد ہوتے ہیں، موت ان سے کچھ نہیں چھینتی؛ وہ صرف انہیں ان کے اصل گھر تک چھوڑ آتی ہے۔
زندگی اگر صرف سانسوں کا شمار ہو تو موت سب سے بڑا خسارہ ہے، لیکن اگر زندگی شعور، محبت، ایثار اور حقیقت کی دریافت کا نام ہو تو موت اس مسافر کی آخری منزل نہیں بلکہ اس کی پہلی کامیابی ہے۔ بیج مٹی میں دفن ہو کر فنا نہیں ہوتا؛ وہ درخت بننے کی اجازت حاصل کرتا ہے۔
ہر غروبِ آفتاب دراصل سورج کا ماتم نہیں، کسی اور افق کی صبح کا اعلان ہوتا ہے۔ شاید موت بھی کسی ایسے ہی افق پر طلوع ہونے والی صبح ہے جسے ہماری نگاہ ابھی دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
سب سے المناک موت وہ نہیں جس میں سانس رک جائے؛ سب سے المناک موت وہ ہے جس میں انسان کی حیرت مر جائے، محبت مر جائے، سچ کی پیاس مر جائے، اور اس کا ضمیر خاموش ہو جائے۔ ایسے لوگ قبروں میں نہیں، چلتی پھرتی بستیوں میں دفن ہوتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ موت کب آئے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب وہ دروازہ کھٹکھٹائے تو کیا ہماری روح ایک بے نوا مسافر ہوگی یا ایک ایسا پرندہ جس کے پروں پر محبت، خدمت، صداقت اور شعور کے آسمان لکھے ہوں۔
زندگی اگر ایک دعا بن جائے تو موت اس دعا کا آمین ہے۔ زندگی اگر ایک سفر ہو تو موت اس سفر کی تکمیل ہے۔ اور اگر زندگی ایک رقص بن جائے تو موت اس رقص کا وہ آخری قدم ہے جس کے بعد رقص کرنے والا خود موسیقی بن جاتا ہے۔
تب انسان نہیں مرتا؛ صرف اس کا نام زمین پر رہ جاتا ہے، اور اس کی روشنی ازل کے آسمانوں میں اپنا نیا سفر شروع کر دیتی ہے۔
