معرفت کی آخری دہلیز

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی روح ایک طویل سفر پر بھیجی گئی ہے۔ اس سفر میں اسے بے شمار چہروں، رشتوں، خواہشوں، محرومیوں اور محبتوں سے گزارا جاتا ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہی منزلیں ہیں، حالانکہ یہ سب صرف راستے ہیں۔ منزل وہ نہیں جسے انسان پا لیتا ہے، منزل وہ ہے جو انسان کو پا لیتی ہے۔
محبت کو اکثر ایک جذبہ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ محبت جذبہ نہیں، وجود کی بنیادی حقیقت ہے۔ سورج کو روشنی پیدا نہیں کرنی پڑتی، دریا کو بہنا نہیں سیکھنا پڑتا، خوشبو کو مہکنے کی مشق نہیں کرنا پڑتی؛ اسی طرح محبت بھی کسی ارادے سے جنم نہیں لیتی۔ وہ پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ انسان صرف اس کے ادراک تک پہنچتا ہے۔ جسے ہم “محبت کرنا” کہتے ہیں، دراصل محبت کے اس ازلی سمندر میں اپنی پیاس کا شعور حاصل کرنا ہے۔
عشقِ مجازی اسی شعور کی پہلی کرن ہے۔ یہ کسی انسان، کسی چہرے، کسی آواز یا کسی حسن کے وسیلے سے دل کے بند دریچوں پر دستک دیتا ہے۔ بظاہر ہمیں لگتا ہے کہ ہم کسی ایک وجود سے وابستہ ہو گئے ہیں، مگر حقیقت میں ہماری روح پہلی بار اپنے اندر کی وسعت سے متعارف ہو رہی ہوتی ہے۔ محبوب اکثر منزل نہیں ہوتا، وہ تو صرف وہ آئینہ ہوتا ہے جس میں انسان پہلی مرتبہ اپنی باطنی گہرائی کو دیکھتا ہے۔
لیکن اگر مسافر یہیں رک جائے تو وہ آئینے کو اصل سمجھ بیٹھتا ہے اور عکس سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ معرفت کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں انسان آئینے سے نظر اٹھا کر اس حسن کے سرچشمے کو تلاش کرتا ہے جس کی جھلک ہر شے میں بکھری ہوئی ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ ہر خوب صورتی ایک اشارہ تھی، ہر جدائی ایک تربیت تھی، ہر ملاقات ایک سبق تھی، اور ہر محبت دراصل ایک ہی حقیقت کی طرف بلانے والی صدا تھی۔
جب باطن کی آنکھ کھلتی ہے تو کائنات بدلتی نہیں، دیکھنے والا بدل جاتا ہے۔ پھر پھول صرف پھول نہیں رہتا، وہ تخلیق کار کی صناعی بن جاتا ہے۔ دریا صرف پانی نہیں رہتا، وہ ازلیت کی روانی معلوم ہوتا ہے۔ انسان صرف جسم نہیں رہتا، وہ ایک امانتِ الٰہی دکھائی دیتا ہے۔ اسی لمحے عشق اپنی تمام نسبتیں اتار دیتا ہے اور صرف حقیقت کا نام رہ جاتا ہے۔
یہی معرفت ہے؛ جہاں عبادت رسم نہیں رہتی بلکہ سانس بن جاتی ہے، جہاں بندگی بوجھ نہیں بلکہ آزادی بن جاتی ہے، جہاں محبت کسی ایک دل کی قید سے نکل کر تمام جہان کے لیے رحمت بن جاتی ہے۔ اس مقام پر عاشق کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کبھی کسی انسان کا عاشق تھا ہی نہیں؛ وہ تو ابتدا ہی سے حسنِ مطلق کی کشش میں سفر کر رہا تھا، صرف راستوں کے نام بدلتے رہے۔
اس لیے عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی دو الگ حقیقتیں نہیں، بلکہ ایک ہی آفتاب کے مختلف اوقات ہیں۔ پہلا افق پر نمودار ہونے والی روشنی ہے اور دوسرا نصف النہار کا پورا سورج۔ جو طلوع کی روشنی کو ہی مکمل دن سمجھ لے، وہ دوپہر کی وسعت سے محروم رہ جاتا ہے؛ اور جو ہر کرن کے پیچھے سورج کو تلاش کرتا ہے، آخرکار اس پر یہ راز منکشف ہو جاتا ہے کہ تمام محبتیں ایک ہی محبت کی منتشر شعاعیں تھیں۔
پس انسان کی اصل کامیابی کسی محبت کو پالینا نہیں، بلکہ اس حقیقت کو پالینا ہے جس سے ہر محبت نے جنم لیا ہے۔ باقی سب مراحل ہیں، اشارے ہیں، وسیلے ہیں، سبق ہیں؛ منزل صرف معرفت ہے، کیونکہ جب معرفت نصیب ہو جائے تو محبت اپنا حقیقی نام پا لیتی ہے، اور عاشق پہلی بار جانتا ہے کہ جسے وہ تمام عمر ڈھونڈتا رہا، وہ تو ہمیشہ سے اس کے اپنے دل کی دھڑکنوں میں موجود تھا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top