اقوالِ نعیم

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

فاصلوں کی حکمت
فاصلے راستوں میں نہیں، ادراک میں پیدا ہوتے ہیں؛ ورنہ دو کناروں کے بیچ دریا بھی ہو تو پل بن جاتا ہے۔

قربت اگر روح کو نہ چھوئے تو ایک ہی گھر میں رہنے والے بھی اجنبی شہروں کے باسی ہوتے ہیں۔

کچھ لوگ دور جا کر نہیں بچھڑتے؛ وہ قریب رہ کر اپنی جگہ سے اتر جاتے ہیں۔

جدائی ہمیشہ کسی کے جانے کا نام نہیں؛ کبھی کسی کی موجودگی سے دل کا خالی ہو جانا بھی ہجر ہے۔

مسافت قدموں کو نہیں، نیتوں کو آزماتی ہے؛ راستے تو تھکاتے ہیں، مگر آدمی کو منزل سے زیادہ ہم سفر پہچانتا ہے۔

وقت کا سب سے بڑا فاصلہ گھڑی میں نہیں، ایک ایسے دل میں ہوتا ہے جو آپ کی بات سمجھنا چھوڑ دے۔

کچھ قربتیں زنجیر ہوتی ہیں اور کچھ دوریاں آزادی کا پہلا دروازہ۔

جو لوگ انتظار سے گزرے ہوں، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ خاموشی بھی ایک زبان ہے اور نہ آنا بھی ایک جواب۔

کبھی انسان کسی شخص سے نہیں، اپنے اُس خواب سے جدا ہوتا ہے جو اس شخص کے ساتھ وابستہ تھا۔

فاصلے اگر آنکھ کو رلاتے ہیں تو قربتیں کبھی کبھی بصیرت عطا کرتی ہیں؛ کیونکہ دوری چہرہ دکھاتی ہے، قربت حقیقت۔

زندگی میں بعض لوگ راستہ نہیں ہوتے، راستے کا سبق ہوتے ہیں؛ ان کے گزر جانے کے بعد منزل کا مفہوم بدل جاتا ہے۔

دل کی دنیا میں نقشے نہیں ہوتے؛ یہاں ایک لفظ صدیوں کی مسافت طے کر لیتا ہے اور ایک خاموشی عمر بھر کا سفر بن جاتی ہے۔

کسی کے قریب ہونے کا ثبوت یہ نہیں کہ وہ آپ کے پاس ہے؛ اصل قربت یہ ہے کہ وہ آپ کے نہ ہونے میں بھی آپ کے اندر موجود رہے۔

اور انسان کی آخری مسافت شاید یہی ہے کہ وہ لوگوں سے فاصلے ناپتے ناپتے ایک دن اپنے رب، اپنے باطن اور اپنی اصل کے درمیان پڑے پردے ناپنے لگے۔

کیونکہ ہر مسافر منزل نہیں ڈھونڈتا؛ کچھ مسافر سفر کے بہانے خود کو ڈھونڈتے ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top