(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
قدر کیجیے اُن ہاتھوں کی جو کبھی ہمارے لیے چھاؤں بنے، ہماری انگلی تھام کر ہمیں زندگی کی پہلی راہوں پر چلنا سکھاتے رہے، ہماری لغزشوں کو سہارا دیتے رہے اور ہماری ہر کمزوری کو اپنی قوت بنا کر ہماری بنیادیں مضبوط کرتے رہے۔
وقت عجیب معمار ہے؛ جو ہاتھ کبھی ہمیں اٹھایا کرتے تھے، ایک دن وہی ہاتھ اپنے وجود کو سہارا دینے کے لیے لاٹھی تھام لیتے ہیں۔ مگر المیہ یہ نہیں کہ ہاتھ کمزور ہو گئے؛ المیہ یہ ہے کہ ہم اُن ہاتھوں کی قدر کرنا بھول جاتے ہیں جنہوں نے ہماری زندگی کو مضبوط بنانے میں اپنی پوری عمر لگا دی۔
وہ جھریاں محض عمر کی لکیریں نہیں ہوتیں، ہماری آسائشوں کی رسیدیں ہوتی ہیں۔ وہ جھکی ہوئی کمر صرف بڑھاپے کی علامت نہیں، اُن بوجھوں کی داستان ہوتی ہے جو کسی نے ہمارے حصے کے بھی اپنے کندھوں پر اٹھائے تھے۔ وہ لرزتے ہوئے ہاتھ محض کمزوری نہیں، ہماری کامیابیوں کے وہ خاموش معمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی جوانی کی مضبوطی ہماری زندگی کی بنیاد میں چن دی۔
ہم اکثر درخت کے سائے میں بیٹھ کر درخت کی قدر نہیں کرتے۔ ہمیں ٹھنڈک دکھائی دیتی ہے، وہ موسم نہیں دکھائی دیتے جن میں اس نے دھوپ برداشت کی تھی۔ ہمیں اپنی منزل دکھائی دیتی ہے، وہ قدم نہیں دکھائی دیتے جو ہمیں وہاں تک پہنچانے کے لیے راستوں کی سختی سہتے رہے۔
والدین بھی ایسے ہی درخت ہیں۔
ہماری پہلی شکست پر جنہوں نے ہمیں حوصلہ دیا، ہماری پہلی کامیابی پر جن کی آنکھیں ہم سے زیادہ روشن ہوئیں، ہماری ضرورت کو اپنی خواہش پر مقدم رکھا، ہمارے مستقبل کے لیے اپنے آج کو قربان کیا؛ اُن سے بڑھ کر دنیا میں کون ہمارے احترام کا مستحق ہو سکتا ہے؟
اس لیے جب اُن کے ہاتھ کانپنے لگیں تو اُنہیں کمزور نہ سمجھیں؛ اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
جب اُن کے قدم لڑکھڑائیں تو اُنہیں بوجھ نہ سمجھیں؛ اپنی بنیاد سمجھیں۔
جب اُنہیں لاٹھی کی ضرورت پڑے تو یہ نہ بھولیں کہ کبھی ہماری انگلی اُن کی انگلی کا سہارا تھی۔
زندگی کا سب سے بڑا قرض وہ نہیں جو رقم سے ادا ہو جائے؛ سب سے بڑا قرض وہ ہے جس کا بدلہ صرف محبت، خدمت اور احترام سے دیا جا سکتا ہے۔
آج اگر ہمارے ہاتھ مضبوط ہیں تو اُن ہاتھوں کی دعا شامل ہے جو اب لرزنے لگے ہیں۔
آج اگر ہم اپنے قدموں پر کھڑے ہیں تو کسی وقت اُنہی قدموں نے ہمیں اپنی گود سے اٹھا کر چلنا سکھایا تھا۔
لہٰذا اُن ہاتھوں کی قدر کیجیے جو اب لاٹھی تھامنے لگے ہیں؛ کیونکہ ہماری زندگی کی پہلی لاٹھی کبھی اُنہی ہاتھوں نے ہمیں تھمائی تھی۔
اور یاد رکھیے۔۔۔
جس گھر میں بوڑھے ہاتھ عزت سے تھامے جاتے ہیں، وہاں آنے والی نسلیں بے سہارا نہیں ہوتیں۔
