(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
ہم اکثر محبت کو ایک یاد سمجھ لیتے ہیں؛
وہ لمحہ جب کسی کے چہرے نے ہمیں اپنی طرف کھینچا، کسی آواز نے دل میں گھر کیا، یا کسی وجود کی قربت نے زندگی کو اچانک معنی دے دیے۔ پھر ہم چاہتے ہیں کہ وہ شخص ہمیشہ وہی رہے جس سے ہم پہلی بار محبت کر بیٹھے تھے۔
مگر انسان تصویر نہیں، سفر ہے۔
جو شخص آج آپ کے سامنے بیٹھا ہے، وہ وہی نہیں جو برسوں پہلے آپ کے سامنے بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر وقت نے کچھ سطریں لکھی ہیں، دل میں کچھ خاموش باب بڑھائے ہیں، خوابوں کے معنی بدلے ہیں، ترجیحات نے کروٹ لی ہے اور زندگی نے اسے ایسے دکھ دکھائے ہیں جن کا اسے کبھی علم نہ تھا۔
اس لیے پائیدار محبت کا سب سے بڑا امتحان یہ نہیں کہ آپ نے کسی کو کتنی شدت سے چاہا تھا؛
اصل امتحان یہ ہے کہ جب وہ بدل گیا تو کیا آپ کی محبت نے بھی اپنی شکل بدلنے کا ہنر سیکھا؟
جوانی میں محبت اکثر لمس مانگتی ہے، عمر کے ساتھ وہ التفات مانگتی ہے۔
ابتدا میں انسان چاہتا ہے کہ اسے دیکھا جائے؛ پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ چاہتا ہے کہ اسے سمجھا جائے۔
کبھی اسے الفاظ درکار ہوتے ہیں، کبھی خاموشی۔
کبھی اسے اپنے خواب سنانے والا ساتھی چاہیے ہوتا ہے، کبھی اپنے تھکے ہوئے دن کا سایہ۔
نادان محبت ایک شخص سے ایک ہی طرح محبت کرتی رہتی ہے؛
بالغ محبت انسان کے بدلتے ہوئے موسم پڑھتی رہتی ہے۔
زندگی دو لوگوں کو صرف قریب نہیں لاتی، انہیں مسلسل نئے انسانوں میں ڈھالتی رہتی ہے۔ اولاد آتی ہے تو محبت کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ ذمہ داریاں بڑھتی ہیں تو خواہشوں کا وزن بدل جاتا ہے۔ ناکامیاں آتی ہیں تو انسان کے اندر کی کچھ آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں۔ کامیابیاں آتی ہیں تو کچھ نئے سوال جنم لیتے ہیں۔ بیماری جسم کو نہیں، کبھی کبھی شخصیت کے پورے لہجے کو بدل دیتی ہے۔ بڑھاپا تو انسان سے اس کی بہت سی ظاہری قوتیں لے کر اس کے باطن کی ضرورتیں نمایاں کر دیتا ہے۔
تب محبت کا امتحان شروع ہوتا ہے۔
جو شخص کبھی آپ کے ساتھ دوڑتا تھا، شاید اب آہستہ چلنا چاہتا ہو۔
جو کبھی ہر بات پر بحث کرتا تھا، شاید اب صرف یہ چاہتا ہو کہ کوئی اسے بغیر بحث کے سن لے۔
جو کبھی مستقبل کے منصوبے بناتا تھا، شاید اب گزرے ہوئے دنوں کو کسی کے ساتھ خاموشی سے یاد کرنا چاہتا ہو۔
اور محبت اگر واقعی محبت ہے تو اسے کہنا چاہیے:
“میں تمہیں صرف تمہاری کل کی صورت میں نہیں چاہتا؛ میں تمہیں اُس صورت میں بھی قبول کرتا ہوں جس تک زندگی تمہیں آج لے آئی ہے۔”
رشتے اکثر بے وفائی سے نہیں ٹوٹتے؛
کبھی کبھی وہ اس لیے ٹوٹ جاتے ہیں کہ دو لوگ ایک دوسرے کو دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے اجنبی ہو جاتے ہیں۔
انہیں یاد رہتا ہے کہ سامنے والا کبھی کیسا تھا، مگر یہ خبر نہیں رہتی کہ اب کیسا ہے۔
یہی ازدواجی زندگی کا سب سے خاموش المیہ ہے۔
ہم کہتے ہیں:
“میں اسے جانتا ہوں۔”
حالانکہ شاید محبت کا سب سے خطرناک جملہ یہی ہے۔
جس دن آپ نے یہ سمجھ لیا کہ آپ کسی انسان کو مکمل طور پر جان چکے ہیں، اسی دن آپ نے اس کے نئے وجود سے واقف ہونے کا دروازہ بند کر دیا۔
محبت کا چراغ صرف وفا کے تیل سے نہیں جلتا؛
اس میں تجسس بھی ڈالنا پڑتا ہے۔
پوچھتے رہیے:
اب تمہیں کس بات سے خوشی ملتی ہے؟
اب تمہیں کس چیز کا خوف ہے؟
اب تمہاری کون سی خواہش دل میں دبی ہوئی ہے؟
اب تمہیں میری قربت چاہیے یا میری خاموش رفاقت؟
کون سی بات تمہیں پہلے معمولی لگتی تھی مگر اب اہم ہو گئی ہے؟
تمہارے اندر کیا بدل گیا ہے جسے میں ابھی تک دیکھ نہیں پایا؟
یہ سوال محض گفتگو نہیں؛
یہ محبت کی نبض ٹٹولنے کا عمل ہیں۔
اور شاید عمر بھر کی وفاداری کا راز بھی یہی ہے کہ انسان اپنے شریکِ حیات سے صرف ایک بار محبت نہیں کرتا؛ وہ زندگی کے ہر نئے موڑ پر اسے دوبارہ دریافت کرتا ہے۔
کبھی محبوب، کبھی دوست۔
کبھی ہم راز، کبھی سہارا۔
کبھی محافظ، کبھی محتاج۔
کبھی دوڑتا ہوا ہم سفر، کبھی تھکے قدموں کے ساتھ چلتا ہوا ہم سفر۔
محبت کا کمال یہ نہیں کہ دو انسان کبھی نہ بدلیں؛
کمال یہ ہے کہ وہ بدلتے رہیں اور پھر بھی ایک دوسرے کے لیے جگہ بناتے رہیں۔
وقت چہرے بدلتا ہے، محبت اگر زندہ ہو تو نگاہ بدل دیتی ہے۔
پہلے ہم محبوب کا چہرہ دیکھتے ہیں؛
بعد میں اس کی تھکن پڑھتے ہیں۔
پہلے اس کی مسکراہٹ ہمیں خوش کرتی ہے؛
بعد میں ہم یہ جاننے لگتے ہیں کہ وہ مسکراہٹ حقیقی ہے یا صرف ہمیں مطمئن کرنے کے لیے ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عشق اپنی جوانی سے نکل کر معرفت میں داخل ہوتا ہے۔
کیونکہ محبت کا آخری درجہ یہ نہیں کہ
“میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔”
بلکہ یہ ہے کہ:
“میں تمہیں ہر اُس صورت میں پہچاننے کی کوشش کروں گا جس میں زندگی تمہیں میرے سامنے لائے گی۔”
عمر بھر ساتھ رہنے کا مطلب ایک ہی کہانی کو دہراتے رہنا نہیں؛
ایک ہی انسان کے اندر جنم لینے والی بے شمار کہانیوں کا گواہ بننا ہے۔
جو شخص کل آپ کا محبوب تھا، آج شاید آپ کا سب سے بڑا سہارا ہے۔
اور جو آج آپ کے پاس خاموش بیٹھا ہے، ممکن ہے کل آپ کی پوری زندگی کا آخری روشن باب بن جائے۔
اس لیے اپنے قریب بیٹھے ہوئے انسان کو معمولی نہ سمجھیں۔
اسے دیکھتے رہیے۔
کیونکہ بعض لوگ ہمارے ساتھ اتنے برس رہتے ہیں کہ ہم انہیں دیکھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
اور کبھی کبھی محبت کے مرنے کا پہلا لمحہ وہ نہیں ہوتا جب دل نفرت کرنے لگے؛
وہ ہوتا ہے جب آنکھ کے سامنے بیٹھا انسان ہمیں نیا دکھائی دینا بند ہو جائے۔
محبت کو زندہ رکھنا ہو تو ایک دوسرے کو دوبارہ دوبارہ دریافت کیجیے۔
وہ شخص جو آج آپ کے پاس ہے، شاید وہی انسان نہیں جس سے آپ نے محبت شروع کی تھی۔
شکر کیجیے۔
کیونکہ محبت کی سب سے حسین منزل وہ نہیں جہاں انسان محبوب کو پہلی بار پاتا ہے؛
وہ ہے جہاں برسوں بعد بھی وہی شخص اسے نیا لگتا ہے۔
اور تب سمجھ آتا ہے:
عمر بھر ایک شخص کے ساتھ رہنا وفاداری ہے؛
مگر عمر بھر اسی شخص کو نئے سرے سے سمجھتے رہنا محبت ہے۔
