(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی سب سے بڑی تنہائی یہ نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی نہ ہو؛ اصل تنہائی وہ لمحہ ہے جب وہ خود اپنے لیے بھی اجنبی ہو جائے۔ اسی اجنبیت کے بطن سے وہ سوال جنم لیتا ہے جو صدیوں سے ہر بیدار روح کا تعاقب کرتا آیا ہے: میں کون ہوں؟
یہ سوال زبان پر کم اور وجود کے اندر زیادہ اٹھتا ہے۔ کبھی کسی جدائی کی خاموش شام میں، کبھی کسی محبت کی پہلی دھڑکن میں، کبھی کسی شکست کے ملبے تلے، اور کبھی کسی ایسی کامیابی کے بعد بھی جس نے دل کو مطمئن نہ کیا ہو۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی ہمیں منزلیں نہیں دیتی، صرف آئینے دیتی ہے؛ ہر آئینہ چہرہ تو دکھاتا ہے مگر ذات نہیں۔
محبت بھی انہی آئینوں میں سے ایک ہے۔ اکثر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کسی انسان کی طرف کھنچے چلے جا رہے ہیں، مگر حقیقت میں ہمیں اپنے اندر کی ایک نامعلوم سرزمین بلا رہی ہوتی ہے۔ محبوب تو محض ایک استعارہ ہوتا ہے، ایک دروازہ، ایک روشنی، جس کے پار انسان کو اپنی ہی روح کے ایسے گوشے دکھائی دیتے ہیں جہاں اس کی کبھی نظر نہیں پہنچی تھی۔ اس لیے محبت کا سب سے بڑا معجزہ وصال نہیں، بیداری ہے۔
مگر ہر بیداری سکون نہیں لاتی۔ کچھ شعور ایسے بھی ہوتے ہیں جو نیند سے زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ انسان جب اپنی باطنی وسعت کو دیکھ لیتا ہے تو پھر دنیا کی بہت سی کامیابیاں اسے کھوکھلی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ وہ لوگوں کے درمیان رہ کر بھی ایک انجانی سرحد پر کھڑا رہتا ہے، جہاں ہر آواز سنائی دیتی ہے مگر کوئی صدا اس کے اندر تک نہیں اترتی۔
تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ قید ہمیشہ دیواروں سے نہیں بنتی۔ بعض اوقات ایک یاد، ایک چہرہ، ایک سوال، یا ایک ادھورا احساس بھی ایسا زندان تعمیر کر دیتا ہے جس کی سلاخیں نظر نہیں آتیں مگر عمر بھر ٹوٹتی بھی نہیں۔ انسان بارہا سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہو گیا ہے، لیکن پھر احساس ہوتا ہے کہ اس نے صرف ایک زنجیر اتاری تھی اور دوسری خود اپنے ہاتھوں سے پہن لی۔
یہی زندگی کا عجیب ترین راز ہے کہ آزادی کسی مقام کا نام نہیں، ایک معرفت کا نام ہے۔ جب تک انسان اپنی پہچان کو نام، رشتوں، شہرت، محرومی، یا محبت کے سہاروں میں تلاش کرتا رہے گا، وہ ہر نئی روشنی کے ساتھ ایک نئے سایے کا بھی اسیر بنتا رہے گا۔ لیکن جس دن وہ اپنی حقیقت کو ان تمام حوالوں سے بلند دیکھ لے گا، اسی دن اس کے اندر وہ چراغ روشن ہوگا جسے نہ وقت بجھا سکے گا، نہ جدائی، نہ موت۔
تب اسے معلوم ہوگا کہ انسان کا اصل سفر کسی دوسرے تک پہنچنے کا نہیں تھا؛ وہ تو ہمیشہ اپنے ہی اندر چھپے اس مسافر کی تلاش میں تھا جو ہر دکھ کے بعد بھی زندہ رہا، ہر شکست کے بعد بھی چلتا رہا، اور ہر محبت کے بعد بھی کسی ابدی محبت کی خوشبو پہچانتا رہا۔
شاید اسی لیے کائنات کے تمام راستے آخرکار ایک ہی دروازے پر آ کر ختم ہوتے ہیں؛ وہ دروازہ جہاں انسان پہلی بار اپنے نام سے نہیں، اپنے شعور سے پہچانا جاتا ہے۔ اور جب یہ پہچان نصیب ہو جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی تمام بھول بھلیاں، تمام عشق، تمام جدائیاں، تمام زخم اور تمام انتظار دراصل ایک ہی حقیقت کی تمہید تھے۔ اس کے بعد نہ سوال باقی رہتا ہے، نہ شکایت؛ صرف ایک خاموش یقین رہ جاتا ہے کہ جس حقیقت کو ہم باہر ڈھونڈتے رہے، وہ ہمیشہ سے ہمارے اپنے وجود کی گہرائیوں میں ہماری منتظر تھی۔
