(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان اکثر اپنی زندگی کو ایک ایسے مسافر کی طرح دیکھتا ہے جسے راستے کم اور منزلیں زیادہ عزیز ہوتی ہیں۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ ہر مسافر کو ایک ہی نقشہ نہیں دیا جاتا۔ کسی کے قدموں کے نیچے ہموار راستے بچھے ہوتے ہیں، کسی کو پتھروں سے بھری پگڈنڈی ملتی ہے، کسی کے ہاتھ میں چراغ ہوتا ہے اور کسی کو اندھیرے میں اپنی انگلیوں سے راستہ ٹٹولنا پڑتا ہے۔
اسی تفاوت کا نام شاید تقدیر ہے۔
تقدیر کوئی بند دروازہ نہیں، نہ ہی انسان کی محنت ایک بے معنی کوشش ہے۔ مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ ہر بیج ہر زمین میں ایک جیسا نہیں پھلتا۔ کچھ بیجوں کو پہلی بارش ہی زندگی دے دیتی ہے اور کچھ اپنی پوری عمر مٹی میں پڑے رہ کر بھی ایک مناسب موسم کے منتظر رہتے ہیں۔
انسان کی سب سے بڑی بھول یہ ہے کہ وہ اپنی کمزوری کو ہمیشہ حالات کا نام دیتا ہے اور اپنی کامیابی کو ہمیشہ اپنی قابلیت کا۔ حالانکہ زندگی کے باغ میں بہت سے پھل ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں انسان کی محنت کے ساتھ کسی ان دیکھی مہربانی کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔
محنت چراغ ضرور ہے، مگر ہر چراغ کو ہوا، تیل اور جلنے کا موقع بھی درکار ہوتا ہے۔ کوئی شخص پوری قوت سے اندھیرے کو مٹانے کی کوشش کرے، مگر اگر اس کے چراغ میں تیل ہی نہ ہو تو انگلیاں جل جائیں گی، رات نہیں بدلے گی۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے۔ کیونکہ بعض اوقات تقدیر کے بند دروازے محنت سے نہیں، انسان کی نیت، صحبت اور تعلق سے کھلتے ہیں۔
زندگی میں کچھ لوگ ایسے آتے ہیں جو محض انسان نہیں ہوتے، وہ موسم ہوتے ہیں۔ ان کے قریب رہنے سے سوچوں میں بہار آتی ہے، راستے آسان ہونے لگتے ہیں اور انسان اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں سے واقف ہونے لگتا ہے۔ بعض تعلقات رزق بڑھاتے ہیں، بعض کردار سنوارتے ہیں، اور بعض محض اس لیے ملتے ہیں کہ انسان کو یاد دلا سکیں کہ رحمت کبھی کبھی انسانوں کے روپ میں بھی اترتی ہے۔
پھر ایک اور دروازہ ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت بند نہیں کر سکتی۔
وہ دعا کا دروازہ ہے۔
دعا محض الفاظ نہیں، ایک شکستہ دل کی وہ صدا ہے جو زمین سے اٹھ کر آسمانوں تک پہنچتی ہے۔ کبھی وہ حالات بدل دیتی ہے، کبھی انسان کو حالات برداشت کرنے کی طاقت دے دیتی ہے، اور کبھی ایسا شعور عطا کرتی ہے کہ انسان سمجھ جاتا ہے کہ جس چیز کو وہ محرومی سمجھ رہا تھا، وہ دراصل کسی بڑی حفاظت کا نام تھی۔
کچھ لوگ دنیا بہت کم رکھتے ہیں، مگر ان کے ہاتھ دعا کی دولت سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان کی خاموش آنکھوں میں ایسی التجائیں چھپی ہوتی ہیں جو بڑے بڑے تختوں کی قسمت بدلنے کی طاقت رکھتی ہیں۔
مگر تقدیر کی منڈی میں ایک ایسا سودا بھی ہوتا ہے جس کی چمک بہت زیادہ اور قیمت بہت خوفناک ہوتی ہے۔
وہ سودا خواہش کا ہے۔
ایک ایسا سوداگر جو انسان کو وہ سب کچھ دینے کا وعدہ کرتا ہے جس کی اسے طلب ہوتی ہے، مگر بدلے میں آہستہ آہستہ وہ چیز لے لیتا ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔
وہ ضمیر کا سکون چھین لیتا ہے، دل کی روشنی مدھم کر دیتا ہے، اور انسان کو کامیابی کے محل میں بٹھا کر اندر سے ویران کر دیتا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ لوگ اس سودے کے لیے قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں۔ انہیں محل نظر آتے ہیں، مگر ان کی بنیادوں میں دفن قیمت دکھائی نہیں دیتی۔ انہیں اختیار نظر آتا ہے، مگر اس اختیار کی زنجیریں محسوس نہیں ہوتیں۔
حالانکہ اصل خوش نصیبی یہ نہیں کہ انسان کے ہاتھ میں دنیا کتنی آ گئی؛ اصل خوش نصیبی یہ ہے کہ دنیا ہاتھ میں آنے کے بعد دل سے نہ نکل جائے۔
کیونکہ کچھ لوگ کم پا کر بھی امیر ہوتے ہیں، اور کچھ سب کچھ پا کر بھی محتاج رہتے ہیں۔
آخرکار انسان کو ایک دن معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر کا سب سے بڑا راز یہ نہیں کہ اسے کیا ملا، بلکہ یہ ہے کہ جو ملا اسے لے کر وہ کیا بن گیا۔
کسی کے پاس خالی ہاتھ ہوتے ہیں مگر دل بھرا ہوتا ہے، اور کسی کے ہاتھ خزانے سے بھرے ہوتے ہیں مگر روح مفلس ہوتی ہے۔
اسی لیے زندگی کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں:
“میرا نصیب کتنا بڑا ہے؟”
بلکہ یہ ہے:
“جو نصیب مجھے ملا، کیا میں اس کے ساتھ اپنے رب کے قریب ہوا یا خود سے بھی دور ہو گیا؟”
کیونکہ آخری کامیابی زمین کے ٹکڑے جیتنے میں نہیں، اپنے اندر کی سرزمین آباد کرنے میں ہے۔
