(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان نے پہلی آگ پتھروں کو رگڑ کر پیدا کی تھی۔ وہ آگ اس کے لیے صرف حرارت نہیں تھی؛ وہ خوف کے خلاف پہلا اعلان تھی۔ اس نے غاروں کی تاریکی کو پیچھے دھکیلا، درندوں کو دور رکھا اور رات کو پہلی بار انسان کے سامنے شکست خوردہ کھڑا کر دیا۔ پھر انسان نے آگ کو سمجھا، اسے قابو کیا، اس سے دھاتیں پگھلائیں، لوہا بنایا، پہیے گھمائے، شہر آباد کیے، سمندر عبور کیے اور آسمان تک پہنچ گیا۔ ہر قدم پر اس نے تاریکی کے ایک نئے حصے کو روشنی میں بدل دیا۔ مگر شاید انسانی تاریخ کا سب سے عجیب موڑ وہ تھا جب اس نے ایک ایسی روشنی پیدا کر دی جو سورج کی محتاج نہیں تھی۔ ایک ایسی دنیا جہاں نہ مٹی تھی، نہ پتھر، نہ راستے، نہ سرحدیں؛ مگر جہاں انسان کی آواز، تصویر، دولت، شناخت، یادداشت، علم اور راز سب موجود تھے۔ یہ ڈیجیٹل کائنات تھی۔ انسان نے سمجھا تھا کہ اس نے ایک نئی دنیا بنائی ہے۔ وہ شاید یہ نہیں سمجھ سکا کہ اس نے اپنی ذات کا ایک نیا عکس بھی تخلیق کر دیا ہے۔ اور عکس ہمیشہ صرف چہرہ نہیں دکھاتا۔ کبھی وہ انسان کے خوف دکھاتا ہے، کبھی اس کی حرص، کبھی اس کی کمزوری، کبھی اس کی تنہائی۔ اور کبھی اس کے خلاف استعمال ہونے والی پوری شخصیت۔
ہم نے فاصلے ختم کیے تو فریب نے بھی فاصلے ختم کر دیے۔ ہم نے آواز کو لمحوں میں دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے پہنچایا تو جھوٹ نے بھی یہی رفتار حاصل کر لی۔ ہم نے تصویر کو محفوظ کرنا سیکھا تو تصویر کو جعل سازی سے حقیقت جیسا بنانا بھی سیکھ لیا۔ ہم نے انسان کے ذہن کی مدد کے لیے مصنوعی ذہانت بنائی تو اسی ذہانت نے انسان کے اعتماد کو دھوکا دینے کے نئے طریقے بھی پیدا کر دیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈیجیٹل عہد کا سب سے بڑا سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہر وہ چیز جو ہم بنا سکتے ہیں، لازماً ہمارے لیے خیر بھی ثابت ہوگی؟
ٹیکنالوجی خود نہ نیک ہے نہ بد۔ وہ ایک قوت ہے۔ اور قوت کا اخلاق اس ہاتھ سے پیدا ہوتا ہے جس میں وہ آتی ہے۔ چھری سے روٹی بھی کاٹی جا سکتی ہے اور زخم بھی دیا جا سکتا ہے۔ آگ سے گھر بھی گرم ہوتا ہے اور شہر بھی جل سکتا ہے۔ اور ڈیجیٹل ذہانت سے بیماری کی تشخیص، علم کی ترسیل اور انسانی مسائل کا حل بھی تلاش کیا جا سکتا ہے، مگر اسی قوت کو فریب، جعل سازی، شناخت کی چوری اور نفسیاتی اثراندازی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں۔ اصل مسئلہ انسان کی اخلاقی رفتار اور تکنیکی رفتار کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔
آج خطرہ صرف یہ نہیں کہ کوئی ہمارے کھاتے سے رقم چرا لے گا۔ اصل خطرہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ کسی زمانے میں انسان کی شناخت اس کے چہرے سے ہوتی تھی۔ پھر شناختی کارڈ آیا۔ پھر پاسپورٹ آیا۔ پھر پاس ورڈ۔ اب چہرہ، آواز، تحریر اور ویڈیو بھی جعل سازی کے قابل ہو چکے ہیں۔ تو سوال یہ ہے: جب چہرہ بھی قابلِ جعل ہو، آواز بھی، تصویر بھی اور الفاظ بھی، تو انسان کس چیز پر یقین کرے گا؟ یہ سوال محض سائبر تحفظ کا سوال نہیں۔ یہ معرفت کا سوال ہے۔ کیونکہ تہذیب صرف اس وقت نہیں ٹوٹتی جب اس کے پل گر جائیں۔ تہذیب اس وقت بھی ٹوٹ سکتی ہے جب اس کے لوگوں کو یہ معلوم نہ رہے کہ سچ کیا ہے۔ اگر ایک جعلی ویڈیو کسی بے گناہ کو مجرم دکھا سکے، اگر مصنوعی آواز کسی عزیز کی آواز بن کر اعتماد حاصل کر سکے، اگر ایک جعلی تصویر جنگ، فساد یا نفرت کو بھڑکا سکے، اگر مصنوعی متن کسی انسان کے نام سے ایسی بات کہہ سکے جو اس نے کبھی کہی ہی نہ ہو، تو پھر مسئلہ صرف جعل سازی نہیں رہتا۔ پھر حقیقت کی سماجی بنیاد متزلزل ہونے لگتی ہے۔ اور جب معاشرہ ہر چیز پر شک کرنے لگے تو جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے بہت محنت نہیں کرنی پڑتی؛ اسے صرف اتنا کرنا ہوتا ہے کہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو دھندلا دے۔ یہی ڈیجیٹل عہد کی سب سے خوفناک ساحری ہے۔
دو ہزار چھبیس کے عالمی سائبر تحفظ کے جائزوں میں یہی تشویش واضح ہو کر سامنے آ رہی ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کے مطابق ستاسی فیصد جواب دہندگان نے دو ہزار پچیس کے دوران مصنوعی ذہانت سے متعلق کمزوریوں میں اضافے کو سب سے تیزی سے بڑھنے والا سائبر خطرہ قرار دیا، جبکہ چورانوے فیصد رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت کو دو ہزار چھبیس میں سائبر تحفظ کو تشکیل دینے والی سب سے اہم قوت قرار دیا۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف حملہ آوروں کا ہتھیار نہیں بن رہی؛ دفاع کرنے والے بھی اسی قوت کو استعمال کر رہے ہیں۔ یعنی آنے والی دنیا میں جنگ صرف انسان بمقابلہ مشین نہیں ہوگی۔ زیادہ درست صورت شاید یہ ہوگی: انسان بمقابلہ انسان، مگر دونوں کے ہاتھ میں مشین۔ یہ فرق بہت بڑا ہے۔ کیونکہ مشین کی طاقت بڑھنے سے انسان کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی؛ اس کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
ہم اکثر سائبر حملے کو ایک دور بیٹھے ہوئے ہیکر کی تصویر میں دیکھتے ہیں۔ مگر اصل کمزوری اکثر سرور میں نہیں ہوتی۔ وہ انسان میں ہوتی ہے۔ ایک جلد بازی۔ ایک جعلی پیغام پر اعتماد۔ ایک معمولی سا لنک۔ ایک ایسا پاس ورڈ جو برسوں سے تبدیل نہیں ہوا۔ کسی کی آواز پر اندھا یقین۔ کسی خوفناک خبر کو تصدیق کے بغیر آگے بڑھا دینا۔ یا پھر یہ یقین: مجھے تو کچھ نہیں ہوگا۔ یہی انسانی نفسیات اب ڈیجیٹل میدان کا سب سے قیمتی ہدف بن چکی ہے۔ کیونکہ کسی نظام کو توڑنے سے آسان کبھی کبھی انسان کے یقین کو توڑنا ہوتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نے فریب کو صرف تیز نہیں کیا؛ اسے زیادہ شخصی، زیادہ قابلِ یقین اور زیادہ وسیع پیمانے پر قابلِ استعمال بنا دیا ہے۔ عالمی سائبر تحفظ کی تحقیق میں بھی مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی پیغامات، کسی کی شناخت بن کر دھوکا دینے، جعلی آواز و تصویر اور انسانی نفسیات کو متاثر کرنے کے زیادہ قابلِ اعتبار ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ چنانچہ آنے والے زمانے میں شاید سب سے قیمتی چیز سونا، تیل یا حتیٰ کہ ڈیٹا بھی نہیں ہوگی۔ سب سے قیمتی چیز اعتماد ہوگی۔ اور جس تہذیب کا اعتماد مر جائے، اس کے پاس باقی سب کچھ ہونے کے باوجود اس کی بنیاد کھوکھلی ہو جاتی ہے۔
پھر خطرہ فرد سے ریاست تک پہنچتا ہے۔ دنیا اب اس حد تک ایک دوسرے سے جڑ چکی ہے کہ کسی ایک نظام کی کمزوری دوسرے نظاموں تک اثر پہنچا سکتی ہے۔ بینک، اسپتال، مواصلات، توانائی، نقل و حمل، سرکاری خدمات، کاروباری رسد کے نظام، یہ سب الگ الگ جزیرے نہیں رہے۔ یہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اعصابی نظام کی طرح ہیں۔ اس لیے مستقبل کی جنگ کا مطلب صرف میدانِ جنگ نہیں ہوگا۔ کسی ریاست کو کمزور کرنے کے لیے ہمیشہ اس کی سرحد پار کرنا ضروری نہیں۔ اس کے اعتماد کو نشانہ بنانا، اس کے معلوماتی ماحول کو آلودہ کرنا، اس کے اہم ڈیجیٹل نظاموں کو متاثر کرنا یا اس کی معاشی اور مواصلاتی زنجیروں میں خلل ڈالنا بھی قومی سلامتی کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ دو ہزار چھبیس کے عالمی جائزے میں بھی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، اہم بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل حملوں کو باہم جڑے ہوئے خطرات کے طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ یعنی سرحدیں اب صرف زمین پر نہیں رہیں۔ کچھ سرحدیں ڈیٹا میں ہیں۔ کچھ سرورز میں۔ کچھ الگورتھم میں۔ اور کچھ انسان کے ذہن میں۔
مگر اس سارے اندھیرے میں ایک بات ہمیں کبھی نہیں بھولنی چاہیے: روشنی مجرم نہیں۔ انسان نے ڈیجیٹل دنیا بنائی ہے کیونکہ اسے علم، رفتار، رابطے اور تخلیق کی ضرورت تھی۔ ہمیں واپس غاروں میں نہیں جانا۔ ہمیں اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی روشنی بجھانی بھی نہیں۔ ہمیں صرف یہ سیکھنا ہے کہ روشنی کو کس سمت میں رکھنا ہے۔ یہ فرق معمولی نہیں۔ جس طرح ہر تعلیم انسان کو دانا نہیں بناتی، اسی طرح ہر ٹیکنالوجی انسان کو محفوظ نہیں بناتی۔ علم کے ساتھ بصیرت چاہیے۔ رفتار کے ساتھ توقف چاہیے۔ ذہانت کے ساتھ اخلاق چاہیے۔ اور طاقت کے ساتھ ذمہ داری۔ ورنہ انسان جتنا طاقتور ہوتا جائے گا، اس کی غلطی بھی اتنی ہی تباہ کن ہوتی جائے گی۔
ہمیں آنے والی نسل کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ کمپیوٹر کیسے استعمال کرنا ہے۔ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ کس چیز پر یقین کرنا ہے، کس چیز پر شک کرنا ہے، کب رک جانا ہے، کب تصدیق کرنی ہے، کون سی معلومات اپنی نہیں کرنی، کون سی تصویر آگے نہیں بھیجنی، کون سی آواز کو صرف اس لیے سچ نہیں ماننا کہ وہ کسی اپنے کی آواز لگتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر: اپنے ذہن کو بھی ہیک ہونے سے کیسے بچانا ہے۔ کیونکہ مستقبل کا سب سے خطرناک حملہ شاید وہ نہیں ہوگا جو ہمارے کمپیوٹر کو بند کر دے۔ وہ ہوگا جو ہمارے ذہن میں ایسا یقین پیدا کر دے جس کی بنیاد حقیقت پر نہ ہو۔
یہاں ایک اور عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ انسان مصنوعی ذہانت کو زیادہ سے زیادہ ذہین بنا رہا ہے، مگر خود اپنی توجہ کھوتا جا رہا ہے۔ وہ معلومات کے سمندر میں ہے، مگر غور کے صحرا میں۔ اس کے پاس ہر سوال کا جواب تلاش کرنے کا ذریعہ ہے، مگر یہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے کہ کون سا سوال واقعی اہم ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ڈیجیٹل مسئلہ وجودی مسئلہ بن جاتا ہے۔ خطرہ صرف یہ نہیں کہ مشین انسان جیسی ہو جائے گی۔ زیادہ گہرا خطرہ یہ ہے کہ انسان مشین جیسا ہونے لگے گا۔ وہ جذبات کو اطلاعی پیغامات میں ناپے گا۔ تعلقات کو پسندیدگی اور مقبولیت میں۔ علم کو تلاش کے نتائج میں۔ اپنی قدر کو پسند کیے جانے کی تعداد میں۔ اور زندگی کو پردۂ نمایش کے سامنے گزارے گئے وقت میں۔ تب ممکن ہے کہ انسان نے پوری دنیا سے رابطہ قائم کر لیا ہو، مگر اپنے آپ سے رابطہ کھو دیا ہو۔
اس لیے ڈیجیٹل عہد کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں: مصنوعی ذہانت کتنی ذہین ہو جائے گی؟ اصل سوال یہ ہے: انسان اپنی قدرتی بصیرت کو کتنا زندہ رکھ سکے گا؟ کیونکہ مصنوعی ذہانت حساب کر سکتی ہے، مگر ہر حساب کا مقصد نہیں جانتی۔ وہ زبان بنا سکتی ہے، مگر ہر لفظ کی اخلاقی ذمہ داری محسوس نہیں کرتی۔ وہ چہرہ بنا سکتی ہے، مگر ہر چہرے کے پیچھے چھپا ہوا درد نہیں جانتی۔ وہ انسان کے لہجے کی نقل کر سکتی ہے، مگر انسان کے ضمیر کی آواز نہیں بن سکتی۔ اور شاید یہی وہ آخری قلعہ ہے جسے انسان کو بچانا ہے: ضمیر۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف ڈیجیٹل خواندگی نہیں دینی؛ ہمیں انہیں ڈیجیٹل دانائی دینی ہوگی۔ ہمیں انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ ہر چمکتی ہوئی چیز روشنی نہیں ہوتی۔ کچھ روشنی آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے تاکہ حقیقت دکھائی نہ دے۔ ہر تیز رفتار چیز ترقی نہیں ہوتی۔ کچھ رفتاریں انسان کو اتنی تیزی سے آگے لے جاتی ہیں کہ وہ یہ دیکھ ہی نہیں پاتا کہ پیچھے کیا چھوڑ آیا ہے۔ ہر مصنوعی ذہانت دانش نہیں ہوتی۔ اور ہر انسانی عقل بصیرت نہیں ہوتی۔ اس لیے اصل مستقبل اس قوم کا نہیں جو سب سے زیادہ مشینیں بنا لے گی۔ اصل مستقبل اس قوم کا ہوگا جو مشینوں کے درمیان بھی انسان رہ سکے گی۔
ہم نے کبھی غاروں کی تاریکی سے بچنے کے لیے آگ جلائی تھی۔ آج ہمیں ایک اور آگ کی ضرورت ہے۔ مگر یہ آگ مشین کی نہیں۔ یہ شعور کی آگ ہے۔ ایسی آگ جو ہر چمکتی ہوئی چیز کو حقیقت نہ مانے۔ ایسی آگ جو ہر آواز پر یقین نہ کرے۔ ایسی آگ جو خبر سے پہلے سوال پیدا کرے۔ ایسی آگ جو سہولت کے پیچھے چھپی قیمت کو دیکھ سکے۔ ایسی آگ جو انسان کو اس کی اپنی بنائی ہوئی دنیا کا غلام نہ بننے دے۔ اور شاید سب سے بڑھ کر، ایسی آگ جو ہمیں یہ یاد دلاتی رہے کہ ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کے لیے ہے، انسان ٹیکنالوجی کی خدمت کے لیے نہیں۔
ڈیجیٹل دنیا سے فرار ممکن نہیں۔ اور شاید مطلوب بھی نہیں۔ مطلوب یہ ہے کہ ہم اس دنیا میں بے خبر داخل نہ ہوں۔ ہمیں اپنے دروازے بند نہیں کرنے؛ ہمیں دروازوں پر نگہبان بٹھانے ہیں۔ ہمیں روشنی بجھانی نہیں؛ ہمیں اس کے سائے پہچاننے ہیں۔ ہمیں مصنوعی ذہانت سے ڈرنا نہیں؛ ہمیں اپنی اخلاقی ذہانت کو اس سے پیچھے نہیں چھوڑنا۔ ہمیں ڈیٹا سے نفرت نہیں؛ ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ ڈیٹا انسان کی زندگی کا خام مال ہے، اور جس کے پاس انسان کا ڈیٹا ہے، اس کے پاس انسان کی زندگی کے کئی راز بھی ہیں۔ ہمیں رفتار سے انکار نہیں؛ ہمیں یہ حق محفوظ رکھنا ہے کہ کبھی کبھی رفتار سے پہلے توقف بھی ضروری ہے۔ کیونکہ شاید آنے والی دنیا میں سب سے آزاد انسان وہ نہیں ہوگا جس کے پاس سب سے زیادہ ٹیکنالوجی ہوگی۔ بلکہ وہ ہوگا جو ٹیکنالوجی استعمال کرے، مگر ٹیکنالوجی اسے استعمال نہ کرے۔
اور پھر شاید ایک دن تاریخ اس عہد کو دیکھ کر یہ سوال کرے گی: انسان نے چاند تک پہنچنے کے بعد اپنے اندر کتنی روشنی پیدا کی؟ اس نے مصنوعی ذہانت بنانے کے بعد اپنی قدرتی بصیرت کو کتنا محفوظ رکھا؟ اس نے پوری دنیا کو ایک پردۂ نمایش پر سمیٹنے کے بعد اپنے دل کی دنیا کتنی وسیع رکھی؟ اور جب اس نے ایسا جہان بنا لیا جہاں تصویر جھوٹی ہو سکتی تھی، آواز جعلی ہو سکتی تھی، الفاظ مصنوعی ہو سکتے تھے اور حقیقت کی نقل حقیقت سے زیادہ قابلِ یقین لگ سکتی تھی، تب اس نے سچ کی حفاظت کیسے کی؟
اس سوال کا جواب کسی سرور میں محفوظ نہیں ہوگا۔ نہ کسی الگورتھم میں۔ نہ کسی مصنوعی ذہانت کے نمونے میں۔ اس کا جواب انسان کے اندر ہوگا۔ اس کے ضمیر میں۔ اس کی بصیرت میں۔ اس کی اخلاقی تربیت میں۔ اور اس صلاحیت میں کہ وہ لاکھوں مصنوعی آوازوں کے ہجوم میں بھی اپنے اندر سے آنے والی سچی آواز کو پہچان سکے۔
کیونکہ آخرکار انسان کی سب سے بڑی ایجاد نہ آگ تھی، نہ پہیہ، نہ کمپیوٹر، نہ مصنوعی ذہانت۔ اس کی سب سے بڑی ایجاد سچ کو پہچاننے کی صلاحیت تھی۔ اور اگر ڈیجیٹل ساحری کے اس عہد میں بھی ہم اسے زندہ رکھ سکے تو کوئی الگورتھم ہمیں مکمل طور پر شکست نہیں دے سکتا۔ لیکن اگر ہم نے اپنی بصیرت، اپنے اخلاق، اپنے سوال کرنے کی قوت اور اپنے ضمیر کو ٹیکنالوجی کی سہولت کے عوض گروی رکھ دیا، تو پھر ممکن ہے کہ ہم نے دنیا کی تمام تاریکیاں تو روشن کر دیں، مگر اپنے اندر ایک ایسی تاریکی پیدا کر لی جس کے لیے کوئی پردۂ نمایش روشنی نہیں بن سکتا۔
اور شاید یہی ہمارے عہد کا سب سے بڑا سوال ہے:
ہم نے مصنوعی روشنی تو پیدا کر لی، کیا ہم اس کے سائے پہچاننے کے قابل بھی ہوئے؟
