درد کا تقدس

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو انسان صرف جھیلتا نہیں، اُنہیں اپنی رُوح میں بسا لیتا ہے۔
وقت اُن پر مٹی نہیں ڈال پاتا، بلکہ وہ درد آہستہ آہستہ انسان کے وجود کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہی درد اُس کا شعور، اُس کی خاموشی، اُس کی عبادت، بلکہ اُس کا ایمان بن جاتا ہے۔
ایسے لوگ ہر ایک سے اپنے زخم نہیں کھولتے۔
وہ برسوں اپنے اندر جلتے رہتے ہیں، مگر اظہار نہیں کرتے، کیونکہ درد جب حد سے گزر جائے تو لفظوں سے زیادہ خاموشی میں رہنا پسند کرتا ہے۔
پھر اگر کبھی وہ کسی کے سامنے اپنے دل کا بند دروازہ کھول دیں، تو سمجھ لیجیے کہ وہ آپ کو محض سننے والا نہیں، بلکہ اپنے درد کا امین، غمخوار اور شاید درماں سمجھ بیٹھے ہیں۔
اُس لمحے اُنہیں صرف کان نہیں چاہیے ہوتے،
اُنہیں پوری توجہ چاہیے ہوتی ہے…
ایسی توجہ جس میں بےدھیانی نہ ہو، جلدی نہ ہو، موبائل کی طرف جاتی نظریں نہ ہوں، مصنوعی ہمدردی نہ ہو۔
کیونکہ درد سنانا محض گفتگو نہیں ہوتا، وہ اپنے اندر کے مزار کا دروازہ کھولنا ہوتا ہے۔
اور جب سننے والا بےپرواہی سے، ادھوری توجہ سے، یا سرد لہجے سے اُس درد کو ٹال دیتا ہے، تو وہ صرف ایک بات کو نظرانداز نہیں کرتا، بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے وجود کے تقدس کو مجروح کر دیتا ہے۔
پھر درد رکھنے والا شخص خاموش تو ہو جاتا ہے، مگر اُس کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے مر جاتا ہے۔
وہ آئندہ شاید کبھی کسی پر اعتبار نہیں کرتا، کبھی اپنے زخم نہیں دکھاتا، کیونکہ اُسے محسوس ہو جاتا ہے کہ دنیا درد سننے نہیں، صرف باتیں کرنے کے لیے موجود ہے۔
یاد رکھیے…
ہر درد کا ایک تقدس ہوتا ہے۔
کچھ زخم مذاق نہیں ہوتے، کچھ خاموشیاں معمولی نہیں ہوتیں۔
اگر کوئی شخص آپ کے سامنے اپنا درد رکھ دے تو اُسے عبادت کی طرح سنیں، کیونکہ ممکن ہے وہ پوری دنیا میں پہلی بار کسی کے سامنے ٹوٹ رہا ہو۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top