دیوانگی کا تقدس

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

تخلیق کبھی میز پر رکھی روشنائی سے جنم نہیں لیتی
وہ پہلے انسان کے اندر ایک خاموش قیامت برپا کرتی ہے
وہ دل کے کسی تاریک گوشے میں آہستہ آہستہ خون بنتی ہے پھر آنسو پھر چیخ پھر دعا… اور آخرکار لفظ
ہر بڑا تخلیق کار دراصل دو زندگیاں جیتا ہے
ایک وہ جو دنیا دیکھتی ہے
اور ایک وہ جو اُس کی روح اندر ہی اندر بھگتتی رہتی ہے
وہ ہنستا بھی ہے تو اُس کی ہنسی کے عقب میں کئی شکستہ موسم دفن ہوتے ہیں
وہ لکھتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اپنے وجود کی رگیں کاٹ کر کاغذ پر رکھ رہا ہو
عام انسان زخم چھپاتا ہے مگر تخلیق کار اُن زخموں میں چراغ جلاتا ہے تاکہ دنیا اپنے چہرے دیکھ سکے
کوکھ صرف عورت کے وجود میں نہیں ہوتی
ہر حساس روح کے اندر ایک کوکھ ہوتی ہے
شاعر کے اندر خیال کی کوکھ
ادیب کے اندر کردار کی کوکھ
مصور کے اندر رنگوں کی کوکھ
اور عاشق کے اندر انتظار کی کوکھ
یہ کوکھیں خاموش دکھائی دیتی ہیں مگر اندر مسلسل تخلیق کا کرب پل رہا ہوتا ہے
لفظ یوں ہی صفحے پر نہیں اترتے
وہ پہلے راتوں کی نیند کھاتے ہیں دل کی دھڑکنیں بے ترتیب کرتے ہیں روح کو تھکاتے ہیں تب کہیں جا کر ایک سطر جنم لیتی ہے
بعض تخلیقات لکھی نہیں جاتیں جنی جاتی ہیں
اور جو تخلیق جنی جائے وہ اپنے خالق کے وجود سے گوشت لہو اور سانس مانگتی ہے
ایک سچا لکھنے والا جب کردار تخلیق کرتا ہے تو وہ اُنہیں صرف سوچتا نہیں جیتا ہے
وہ اُن کے ساتھ روتا ہے مرتا ہے بکھرتا ہے
کبھی اُس کے اپنے اعصاب ٹوٹتے ہیں کبھی اُس کی اپنی ذات ملبہ بن جاتی ہے
اسی لیے عظیم ادب پڑھتے ہوئے قاری کو محض کہانی نہیں ملتی اُسے کسی روح کے جلنے کی بو محسوس ہوتی ہے
دیوانگی دراصل تخلیق کی پہلی شرط ہے
مگر یہ وہ دیوانگی نہیں جو عقل سے محروم کردے
یہ وہ مقدس جنون ہے جو انسان کو عام ہجوم سے الگ کر دیتا ہے
یہی دیوانگی صحراؤں میں شعر کہلواتی ہے یہی ویران کمروں میں ناول لکھواتی ہے یہی انسان کو اپنے ہی وجود کے خلاف کھڑا کر دیتی ہے
بڑے تخلیق کار اکثر باہر سے خاموش اور اندر سے طوفان ہوتے ہیں
اُن کے اندر ہزاروں خواب خوف محرومیاں سوال اور نامکمل محبتیں ایک ساتھ سانس لے رہی ہوتی ہیں
وہ دنیا کو لفظ دیتے دیتے خود اندر سے خالی ہوتے جاتے ہیں
اور شاید اسی لیے بعض ناول بعض نظمیں بعض جملے محض پڑھے نہیں جاتے…
وہ انسان کے اندر اُتر کر اُس کی ترتیب بدل دیتے ہیں
تخلیق کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ کتاب دیکھتے ہیں مصنف کا کرب نہیں
لوگ شعر سن لیتے ہیں مگر اُس ایک شعر کے پیچھے جاگتی ہوئی کئی راتیں نہیں دیکھ پاتے
کوئی نہیں جانتا کہ ایک جملہ لکھنے کے لیے کتنی بار انسان کو اپنی ہی روح کے ملبے سے گزرنا پڑتا ہے
انقلاب ہمیشہ میدانوں میں نہیں آتے
بعض انقلاب ایک تنہا کمرے میں ایک شکستہ دل ایک زخمی روح اور ایک مقدس دیوانگی کے بطن سے جنم لیتے ہیں
اور پھر ایک دن…
وہی لفظ جو کسی تخلیق کار نے اپنے لہو سے لکھے تھے
زمانوں کی سوچ بدل دیتے ہیں

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top