طاقت کے ملبے پر کھڑی عقل

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

دنیا میں ہر جنگ میدان میں نہیں لڑی جاتی اور ہر فتح کے لیے بازوؤں کا مضبوط ہونا بھی ضروری نہیں۔ کبھی انسان کے پاس مقابلے کے لیے لشکر نہیں ہوتا، اختیار نہیں ہوتا، دولت نہیں ہوتی، حتیٰ کہ اپنی بات منوانے کی آواز بھی نہیں ہوتی۔ ایسے میں اس کے پاس جو آخری چیز بچتی ہے، وہ اس کا ذہن ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کمزوری ایک نئی زبان سیکھتی ہے اور خاموش انسان تدبیر کا ہنر دریافت کرتا ہے۔
طاقتور آدمی اکثر راستہ بناتا ہے؛ سمجھ دار آدمی راستہ تلاش کرتا ہے۔ یہ دونوں میں بنیادی فرق ہے۔ طاقت سامنے کھڑی دیوار کو گرا سکتی ہے، مگر عقل یہ دیکھ لیتی ہے کہ شاید دیوار کے گرد راستہ موجود ہے۔ طاقت دروازہ توڑ سکتی ہے، تدبیر چابی ڈھونڈ لیتی ہے۔ طاقت آواز بلند کرتی ہے، دانائی کبھی کبھی اتنی خاموش رہتی ہے کہ سامنے والا اسے کمزوری سمجھ بیٹھتا ہے۔
مگر خاموشی ہمیشہ بے بسی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموش آدمی لڑائی سے اس لیے نہیں بھاگ رہا ہوتا کہ وہ ڈرتا ہے؛ وہ صرف یہ جانتا ہے کہ ہر معرکہ لڑنا ضروری نہیں۔ کچھ لڑائیاں جیتنے کے لیے میدان میں اترنا نہیں بلکہ میدان سے بروقت نکل جانا کافی ہوتا ہے۔
زندگی نے کمزور انسان کو ایک عجیب سبق دیا ہے: جب ہاتھ میں زور کم ہو تو فیصلے میں وزن پیدا کرو۔ جس شخص کے پاس وسائل کم ہوں وہ اگر ہر مسئلہ طاقت سے حل کرنے لگے تو جلد اپنے محدود وسائل بھی گنوا بیٹھتا ہے۔ لیکن جو شخص حالات کو پڑھنا جانتا ہو، وہ معمولی امکانات سے بھی بڑی راہیں نکال لیتا ہے۔
قدرت نے چھوٹے جانداروں کو بڑے پنجے نہیں دیے، مگر انہیں چھپنے کی حس دی۔ ہر پرندے کو شکاری سے لڑنے کے لیے چونچ نہیں دی گئی، بعض کو پر دیے گئے۔ ہر کمزور مخلوق کو مقابلہ کرنے کا ہنر نہیں ملا، بعض کو بروقت خطرہ بھانپنے کی صلاحیت عطا ہوئی۔ بقا صرف طاقت کا نام نہیں؛ بقا اس لمحے کو پہچاننے کا نام بھی ہے جب طاقت استعمال کرنی ہے اور اس لمحے کو بھی جب طاقت استعمال کرنا حماقت بن جائے۔
البتہ یہاں ایک باریک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ چالاکی اور دانائی ایک چیز نہیں۔ چالاک آدمی دوسروں کو مات دینے کے طریقے سوچتا ہے، دانا آدمی حالات کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ کسی کو مات دینے کی نوبت ہی نہ آئے۔ چالاکی اگر اخلاق سے خالی ہو جائے تو فریب بن جاتی ہے اور عقل اگر ضمیر سے جدا ہو جائے تو تباہی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
اس لیے کمزور انسان کی اصل طاقت محض چالاکی نہیں، بصیرت ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کب بولنا ہے، کب رکنا ہے، کس بات کا جواب دینا ہے اور کس بات کو وقت کے حوالے کر دینا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اشتعال کا جواب غصہ نہیں ہوتا اور ہر الزام کا جواب صفائی نہیں ہوتا۔ کبھی بہترین دفاع یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو ایسی جگہ لے جائے جہاں حملہ بے معنی ہو جائے۔
زندگی میں بہت سے لوگ اپنی طاقت ثابت کرتے کرتے اپنی عقل کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ ہر اختلاف کو جنگ، ہر خاموشی کو شکست اور ہر پیچھے ہٹنے کو بزدلی سمجھ لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ مخالف کو تو شاید شکست دے دیتے ہیں مگر خود اپنے سکون سے محروم ہو جاتے ہیں۔
دانش مند شخص جانتا ہے کہ فتح ہمیشہ دوسرے کو گرانے میں نہیں ہوتی۔ کبھی فتح یہ بھی ہے کہ تمہیں گرانے والا اپنی پوری طاقت استعمال کر کے بھی تمہیں تمہاری جگہ سے نہ ہٹا سکے۔ اور کبھی سب سے بڑی فتح یہ ہوتی ہے کہ تم اس کھیل کا حصہ ہی نہ بنو جس کے اصول تمہارے خلاف لکھے گئے ہوں۔
کمزور کے پاس اگر عقل ہو تو وہ اپنی کمزوری کا ماتم نہیں کرتا؛ اسے حکمت میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ پہاڑ کو مٹھی سے نہیں توڑا جا سکتا، مگر پہاڑ کے اندر سے راستہ ضرور نکالا جا سکتا ہے۔ اسی لیے دنیا میں بعض لوگ بڑے وسائل کے باوجود ناکام رہتے ہیں اور بعض معمولی وسائل کے ساتھ تاریخ میں جگہ بنا لیتے ہیں۔
فرق اکثر طاقت کا نہیں ہوتا۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص حالات سے ٹکراتا رہتا ہے اور دوسرا حالات کو سمجھتا رہتا ہے۔ بازو انسان کو مقابلہ کرنے کے قابل بناتے ہیں، مگر بصیرت اسے یہ فیصلہ کرنا سکھاتی ہے کہ مقابلہ کہاں کرنا ہے۔
اور شاید عقل کی سب سے بلند صورت یہی ہے کہ انسان اپنی کمزوری سے شرمندہ ہونے کے بجائے اسے اپنی حکمت کا نقطۂ آغاز بنا لے۔ کیونکہ ہر وہ شخص جس کے پاس طاقت کم ہے، لازماً کمزور نہیں ہوتا۔ بعض لوگ اس لیے خاموش ہوتے ہیں کہ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔ اور بعض اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں: ہر بات کہہ دینا طاقت نہیں؛ صحیح وقت تک ایک بات کو محفوظ رکھنا بھی ایک قوت ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top