(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کچھ محبتیں انسان کو آباد نہیں کرتیں، وہ اُسے آہستہ آہستہ اپنی ہی ذات سے بےدخل کر دیتی ہیں۔
پہلے وہ دل سے سکون چھینتی ہیں، پھر نیند، پھر ہنسی، پھر وہ تمام چیزیں جن کے سہارے انسان خود کو زندہ محسوس کرتا ہے۔
اور ایک دن ایسا آتا ہے جب انسان آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے ہی چہرے میں کسی اجنبی کا عکس دیکھنے لگتا ہے۔
شدید محبت دراصل وصل کی خواہش نہیں، یہ اپنے وجود کو کسی دوسرے انسان کے دکھ، خاموشی اور بےرحمی کے حوالے کر دینے کا نام ہے۔
بعض لوگ محبت نہیں کرتے، وہ دوسرے انسان کی روح میں اتر کر وہاں مستقل ہجرت کر جاتے ہیں۔
پھر چاہے فاصلے بڑھ جائیں، زمانے بدل جائیں، یا تعلق اپنی آخری سانس لے لے… وہ انسان اندر ہی اندر اُس ایک نام کی قید میں زندہ رہتا ہے۔
محبت کا سب سے المناک پہلو یہ نہیں کہ انسان بچھڑ جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ بچھڑنے کے بعد بھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہو پاتا۔
کچھ رشتے قبر کی مٹی سے بھی زیادہ بھاری ہوتے ہیں۔ وہ کندھوں پر نہیں، روح پر اٹھائے جاتے ہیں۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ سچی محبت میں انسان نجات نہیں مانگتا۔ وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ جس کے لیے وہ ٹوٹ رہا ہے، وہ اُسے آخری لمحے تک یاد رکھے۔
کیونکہ بعض عشقوں کی معراج مل جانا نہیں ہوتی… خاموشی سے فنا ہو جانا ہوتی ہے۔
