(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
بعض اوقات انسان فاصلے سے نہیں ٹوٹتا…
وہ قربت سے بکھر جاتا ہے۔
ہجر ہمیشہ میلوں کی دوری کا نام نہیں ہوتا، کبھی کبھی دو لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب آ جاتے ہیں کہ اُن کے درمیان سانس لینے کی جگہ بھی باقی نہیں رہتی، اور پھر یہی قربت آہستہ آہستہ روح پر بوجھ بننے لگتی ہے۔
محبت، جو ابتدا میں ایک نرم بارش کی طرح وجود پر اترتی ہے، وقت کے ساتھ ایسی نمی میں بدل جاتی ہے جو دیواروں کے اندر اُگنے والی خاموش پھپھوند کی طرح رشتے کی بنیادوں کو چاٹنے لگتی ہے۔
ابتدا میں انسان قربت مانگتا ہے۔
وقت، توجہ، لمس، یقین، موجودگی…
مگر وہ نہیں جانتا کہ ہر شے کی طرح محبت کو بھی فاصلہ چاہیے ہوتا ہے؛
وہ فاصلہ جہاں سانس آزاد رہ سکے، جہاں روح اپنے ہونے کی آواز سن سکے، جہاں تعلق گرفت نہ بنے۔
جب محبت اختیار سے بڑھ کر احتساب بن جائے،
جب فکر، نگرانی میں ڈھل جائے،
جب خیال، آزادی کی دیواروں پر دستک دینے لگے،
تب قربت آہستہ آہستہ کرب میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔
پھر انسان عجیب اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
وہ جدا بھی نہیں ہونا چاہتا اور قریب رہنا بھی اُسے زخمی کرنے لگتا ہے۔
وہ گفتگو کرتا ہے مگر اندر خاموش رہتا ہے۔
وہ مسکراتا ہے مگر اُس کی روح مسلسل تھکتی رہتی ہے۔
اور ایک دن وہ محسوس کرتا ہے کہ محبت اب سکون نہیں رہی، ایک مسلسل ذہنی شور بن چکی ہے۔
سب سے خطرناک رشتے وہ نہیں ہوتے جن میں نفرت آ جائے…
سب سے خطرناک رشتے وہ ہوتے ہیں جہاں محبت باقی تو رہتی ہے مگر راحت مر جاتی ہے۔
پھر دو لوگ ایک دوسرے کے گرد اس طرح رہتے ہیں جیسے دو سیارے ایک ہی مدار میں قید ہوں؛
ٹکراتے نہیں، جدا بھی نہیں ہوتے، مگر مسلسل ایک دوسرے کی کشش میں تھکتے رہتے ہیں۔
وہ ایک دوسرے کی عادت بن جاتے ہیں، مگر پناہ نہیں رہتے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان پہلی بار سمجھتا ہے کہ ہر قربت رحمت نہیں ہوتی۔
کچھ قربتیں روح پر رکھے گئے ایسے پتھر ہوتی ہیں جنہیں انسان محبت سمجھ کر برسوں اٹھائے رکھتا ہے۔
اور پھر ایک دن اُس کی اندرونی سانسیں دبنے لگتی ہیں۔
محبت اگر آزادی نہ دے تو آہستہ آہستہ وجود کی روشنی کھانے لگتی ہے۔
کیونکہ سچی محبت گرفت نہیں کرتی، جگہ دیتی ہے۔
وہ روح کو قید نہیں کرتی، اُس کے گرد اعتماد کا آسمان تعمیر کرتی ہے۔
قربت کی بھی ایک تہذیب ہوتی ہے۔
وہ تہذیب جہاں خاموشی پر سوال نہیں اٹھائے جاتے،
جہاں انسان کو ہر لمحہ ثابت نہیں کرنا پڑتا کہ وہ اب بھی وہیں ہے،
جہاں محبت خوف کی بیساکھیوں پر نہیں بلکہ یقین کے نرم قدموں پر چلتی ہے۔
ورنہ ایک وقت آتا ہے جب انسان اپنے ہی محبوب کے پہلو میں بیٹھا یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ آخر وہ لمحہ کب آیا تھا جب پناہ دباؤ بن گئی،
جب توجہ تھکن بن گئی،
اور جب قُرب، کرب بن گیا۔
