خوف کے مرنے کے بعد

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان اکثر محبت نہیں نبھاتا…
وہ صرف کھو دینے کے خوف کو زندہ رکھتا ہے۔
وہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل رہے ہوتے، بلکہ ایک دوسرے کے بچھڑ جانے کے اندیشے کو کندھوں پر اٹھائے گھسٹ رہے ہوتے ہیں۔
رشتے پھر محبت کے باغ نہیں رہتے، خاموش سمجھوتوں کے قبرستان بننے لگتے ہیں؛ جہاں لفظ سانس تو لیتے ہیں مگر زندہ نہیں ہوتے۔
ہم برداشت کرتے ہیں…
لہجوں کی خراشیں، رویّوں کی سرد مہری، خاموشیوں کے زہریلے جنگل، ادھورے پن کی مسلسل بارش صرف اس لیے کہ کہیں ہاتھ چھوٹ نہ جائے۔
ہم اپنے دل کے دروازوں پر خود ہی پہرے بٹھا دیتے ہیں، اپنی خواہشوں کے گلے میں خاموشی کے تعویذ باندھ دیتے ہیں اور پھر اسے وفا کا نام دے دیتے ہیں۔
مگر انسان یہ بھول جاتا ہے کہ خوف کبھی رشتہ نہیں بچاتا۔ خوف صرف انسان کو آہستہ آہستہ اندر سے کھاتا ہے یہاں تک کہ ایک دن روح برداشت کی آخری سیڑھی پر ننگے پاؤں آ کھڑی ہوتی ہے۔
وہیں… بالکل وہیں… خوف اپنی موت آپ مرنے لگتا ہے۔
پھر ایک عجیب سانحہ جنم لیتا ہے۔
دو لوگ ایک ہی چھت تلے رات کی خاموشیاں بسر کرتے ہیں،ایک ہی شب کے سائے اوڑھتے ہیں، ایک ہی دسترخوان پر بیٹھتے ہیں، مگر ان کے درمیان ایک ایسا صحرا اُگ آتا ہے جہاں کبھی محبت کے دریا بہا کرتے تھے۔
وہ ایک دوسرے کو چھوڑتے نہیں…
بس کھو دیتے ہیں۔
اور یہ کھو جانا، بچھڑ جانے سے کہیں زیادہ ہولناک ہوتا ہے۔
کیونکہ فاصلہ جسموں میں نہیں اُترتا، روحوں میں اُتر جاتا ہے۔
پھر انسان پہلی بار سمجھتا ہے کہ بےثباتی صرف موت کا نام نہیں؛
بےثباتی وہ لمحہ ہے جب ہاتھ میں موجود چیز بھی دل سے نکل جائے۔
جب آواز قریب ہو مگر تاثیر مر جائے۔
جب تعلق باقی رہے مگر تعلق کی روح دفن ہو جائے۔
تب ادراک جنم لیتا ہے۔
وہ ادراک جو انسان کو آئینے کی طرح بے حجاب کر دیتا ہے۔
وہ سکھاتا ہے کہ محبت ملکیت نہیں، امانت ہوتی ہے۔
کہ کسی کو ہمیشہ پا لینے کی خواہش ہی دراصل سب سے پہلی محرومی ہے۔
کہ پیاس صرف کسی کو چاہنے کا نام نہیں، بلکہ اُس کی آزادی کو تسلیم کرنے کا ظرف بھی ہے۔
اور تسکین… تسکین وصال میں نہیں بلکہ اس یقین میں پوشیدہ ہے کہ جو دل میں اتر جائے وہ کبھی مکمل طور پر جاتا نہیں۔
زندگی کے سب سے بڑے المیے چیخ کر نہیں آتے۔
وہ خاموشی سے انسان کے اندر اترتے ہیں جیسے رات دھیرے دھیرے کسی اجڑے ہوئے شہر پر اترتی ہے۔
اور پھر ایک دن انسان اپنے ہی وجود کے ملبے پر بیٹھا سوچ رہا ہوتا ہے کہ آخر کب محبت خوف میں بدلی… اور خوف، فاصلے میں۔
سو، رشتوں کو خوف سے نہیں، شعور سے تھامو۔
ورنہ ایک دن ایسا آتا ہے جب لوگ ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی یاد بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top