کربلا ابھی زندہ ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

بات صرف جنگ کی نہیں، شعور کی ہے۔
مسئلہ صرف ہتھیار کا نہیں، کردار کا ہے۔
قومیں اُس دن شکست نہیں کھاتیں جب اُن کے قلعے مسمار ہوتے ہیں، بلکہ اُس دن ہار جاتی ہیں جب اُن کے دلوں سے مزاحمت کا چراغ بجھ جاتا ہے، جب اُن کے نوجوانوں سے غیرتِ فکر چھین لی جاتی ہے، جب اُن کے ہاتھوں سے قوت کا تصور لے کر صرف خوف تھما دیا جاتا ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کمزور ہمیشہ تعداد میں زیادہ تھے اور طاقتور ہمیشہ وسائل میں۔ مگر ہر عہد میں ایک لمحہ ایسا آیا جب کسی کمزور نے ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا، اور وہی انکار تاریخ کا سب سے بلند نعرہ بن گیا۔
فرعون کے ایوان ہمیشہ بڑے رہے، مگر موسیٰؑ کے عصا نے ہی یادگار بننا تھا۔
نمرود کے پاس آگ تھی، ابراہیمؑ کے پاس یقین۔
یزید کے پاس لشکر تھا، حسینؑ کے پاس حق۔
یہ دنیا صرف طاقت سے نہیں چلتی، طاقت کے توازن سے چلتی ہے۔
اور جب توازن ٹوٹتا ہے تو ظلم جنم لیتا ہے۔
ظالم ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ مظلوم اپنے دفاع کے حق پر بھی شرمندہ ہوجائے، وہ اپنی کمزوری کو “عملیت” سمجھنے لگے، اپنے خوف کو “دانائی” کا نام دے دے، اور اپنے وجود کی حفاظت کو بھی جرم محسوس کرے۔
یاد رکھو!
امن صرف خواہش سے قائم نہیں رہتا، اُس کے لیے وقار بھی چاہیے، بصیرت بھی، اتحاد بھی، علم بھی، اور قوت بھی۔
وہ قومیں جو صرف دعاؤں پر زندہ رہنا چاہتی ہیں مگر تدبیر، تحقیق، معیشت، علم، تنظیم اور دفاع کو نظرانداز کردیتی ہیں، وقت اُنہیں تاریخ کے حاشیوں میں دھکیل دیتا ہے۔
یہ تحریر نفرت کا اعلان نہیں، بیداری کی صدا ہے۔
یہ کسی قوم، مذہب یا خطے کے خلاف نہیں بلکہ ہر اُس جبر کے خلاف آواز ہے جو کمزور انسان کو روند دینا چاہتا ہے۔
دنیا کا ہر مظلوم، خواہ کسی بھی نسل، مذہب یا زبان سے تعلق رکھتا ہو، ایک ہی درد کا وارث ہے۔
اور ہر ظالم، خواہ کسی بھی پرچم تلے کھڑا ہو، تاریخ کے کٹہرے میں ایک ہی صف میں کھڑا نظر آتا ہے۔
کربلا محض ایک میدان نہیں، ایک معیار ہے۔
وہ بتاتی ہے کہ حق ہمیشہ تعداد سے نہیں، کردار سے پہچانا جاتا ہے۔
یہ سبق دیتی ہے کہ سر کٹ جانے سے نظریے نہیں مرتے، لیکن ضمیر مر جائے تو زندہ جسم بھی لاش بن جاتے ہیں۔
آج کی دنیا میں تلوار کا مطلب صرف فولاد نہیں۔
علم بھی تلوار ہے۔
معیشت بھی۔
ٹیکنالوجی بھی۔
کردار بھی۔
اتحاد بھی۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ظلم کے سامنے “نہیں” کہنے کا حوصلہ بھی ایک عظیم طاقت ہے۔
اپنے بچوں کو صرف کامیابی نہیں، غیرت بھی سکھاؤ۔
صرف مقابلہ نہیں، انصاف بھی سکھاؤ۔
صرف جینا نہیں، باوقار جینا سکھاؤ۔
انہیں یہ بھی بتاؤ کہ طاقت اگر اخلاق سے خالی ہوجائے تو درندہ بن جاتی ہے، اور اخلاق اگر طاقت سے خالی ہوجائے تو مظلومیت کی دائمی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔
دنیا اُنہیں کبھی فراموش نہیں کرتی جو جبر کے موسم میں بھی حق کی شمع تھامے کھڑے رہتے ہیں۔
تاریخ کے اوراق تلواروں کی چمک سے کم اور ضمیر کی روشنی سے زیادہ روشن ہوتے ہیں۔
وقت پکار رہا ہے: اپنی صفیں درست کرو، اپنی کمزوریاں پہچانو، علم کو قوت بناؤ، کردار کو ڈھال بناؤ، اتحاد کو حصار بناؤ، اور اپنے اندر سوئی ہوئی عزتِ نفس کو جگاؤ۔
کیونکہ جب باطل حد سے بڑھتا ہے تو کربلا پھر جنم لیتی ہے…
اور پھر تاریخ فیصلہ صرف طاقت سے نہیں، استقامت سے کرتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top