(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان سہہ تو لیتا ہے مگر اپنے اندر دفن نہیں کر پاتا۔ وہ کسی نہ کسی راستے سے باہر آنا چاہتے ہیں؛ کبھی آنکھ کے راستے، کبھی خاموشی کے راستے اور کبھی لفظ بن کر۔ عجیب بات ہے کہ انسان اپنے سب سے بڑے زخم کا مرہم اکثر کسی حکیم کے پاس نہیں بلکہ ایک خالی صفحے پر تلاش کرتا ہے۔ وہ بیٹھتا ہے، قلم اٹھاتا ہے اور اپنے اندر کے اندھیرے کو لفظوں میں تقسیم کرنے لگتا ہے۔ ایک ایک جملہ جیسے سینے سے کوئی پتھر نکالتا ہے۔ کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوتا ہے کہ جس درد کو وہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا، وہ اب اس کے سامنے پڑا ہے؛ لفظوں کی صورت میں، خاموش مگر قابلِ دید۔
شاید لکھنا دراصل درد کو ختم کرنا نہیں، اسے ایک ایسی زبان عطا کرنا ہے جس میں وہ انسان کو کھائے بغیر بیان ہو سکے۔ اسی لیے بعض تحریریں پڑھی نہیں جاتیں، برداشت کی جاتی ہیں۔ ان میں سیاہی کم اور زندگی زیادہ ہوتی ہے۔ کوئی شخص برسوں پہلے جو کچھ سہہ کر خاموش ہو گیا تھا، وہی چند سطروں میں دوبارہ سانس لینے لگتا ہے۔ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے کہ یہ تو میری ہی کہانی ہے، بس میں اسے کبھی زبان نہیں دے سکا۔ یہی ادب کا سب سے پراسرار معجزہ ہے۔
ایک شخص کا ذاتی دکھ جب لفظوں میں ڈھلتا ہے تو وہ صرف اس کا نہیں رہتا۔ وہ کسی دوسرے کے دل میں جا کر اپنا نیا گھر بنا لیتا ہے۔ ایک تنہا آدمی کی رات کسی اجنبی کی تنہائی کا چراغ بن جاتی ہے۔ کسی ماں کا آنسو کسی اور ماں کی خاموشی سمجھ لیتا ہے۔ کسی عاشق کی ناکامی کسی نامعلوم دل کو یہ یقین دے دیتی ہے کہ ٹوٹ جانا انسان کی انفرادیت نہیں، انسانی تجربہ ہے۔ اور شاید اسی لیے سچا لکھنے والا اپنے دکھ کا مالک نہیں رہتا۔ وہ اسے دنیا کے حوالے کر دیتا ہے۔
وقت پھر اس کے ساتھ ایک عجیب معاملہ کرتا ہے۔ جسم مٹی میں اتر جاتا ہے، آواز ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہے، قدموں کے نشان مٹ جاتے ہیں مگر ایک سچا جملہ کبھی کبھی وقت کی گرد جھاڑ کر دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ صدیاں گزر جاتی ہیں اور کوئی نامعلوم آنکھ اسے پڑھ کر ٹھٹھک جاتی ہے۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ماضی کے کسی خاموش کمرے میں بیٹھا ہوا کوئی شخص اچانک اس سے کہہ رہا ہو: “میں بھی تمہاری طرح انسان تھا۔” تب سمجھ آتا ہے کہ لفظ وقت کے خلاف انسان کی سب سے خاموش مزاحمت ہیں۔
موت جسم کو ختم کرتی ہے، تجربے کو نہیں؛ بشرطیکہ کوئی اسے معنی دے دے۔ اسی لیے ہر درد لکھنے کے قابل نہیں ہوتا اور ہر لکھی ہوئی بات زندہ رہنے کے قابل نہیں ہوتی۔ لفظ تب باقی رہتے ہیں جب ان میں صرف مصنف کی آواز نہ ہو بلکہ انسانی روح کی دھڑکن بھی شامل ہو۔ شاید قلم اسی لیے ایجاد ہوا تھا کہ انسان اپنی فنا کے سامنے ایک چھوٹی سی گواہی رکھ سکے۔ یہ کہ میں یہاں تھا۔ میں نے محبت کی تھی۔ میں نے کسی کو کھویا تھا۔ میں کبھی بہت خوش ہوا تھا۔ میں کبھی ایسی رات سے گزرا تھا جس کی صبح مجھے ناممکن دکھائی دیتی تھی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں نے محسوس کیا تھا۔
کیونکہ انسان کی اصل موت شاید اس دن نہیں ہوتی جب اس کی سانس رکتی ہے؛ اصل موت اس دن ہوتی ہے جب دنیا میں کوئی ایسا نشان باقی نہیں رہتا جو یہ گواہی دے کہ وہ کبھی کسی چیز سے متاثر ہوا تھا۔ لفظ اس گواہی کو بچا لیتے ہیں۔ اسی لیے لکھنے والا ہر بار کاغذ پر صرف عبارت نہیں رکھتا؛ وہ اپنے گزرے ہوئے لمحوں کی نبض رکھ دیتا ہے۔ آنے والی نسلیں شاید اس شخص کو نہ جانیں، اس کا چہرہ نہ دیکھیں، اس کی آواز نہ سنیں مگر اس کے چند لفظ انہیں اتنا ضرور بتا دیں گے کہ کسی زمانے میں ایک دل تھا جو دنیا کو محض دیکھتا نہیں تھا، محسوس بھی کرتا تھا۔
اور شاید یہی انسان کی سب سے خوب صورت بقا ہے۔ ہم ہمیشہ اپنی زندگی کے ساتھ زندہ نہیں رہتے؛ کبھی کبھی اپنی کہی ہوئی ایک سچی بات کے ساتھ زندہ رہ جاتے ہیں۔
