پناہ دیتے دیتے بے پناہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ ہمیں اپنا سمجھ کر نہیں، اپنی ضرورت سمجھ کر ہمارے قریب آتے ہیں۔ ہم ان کے لیے وقت بنتے ہیں، خاموشی بنتے ہیں، حوصلہ بنتے ہیں۔ وہ ٹوٹتے ہیں تو ہم انہیں سمیٹ لیتے ہیں، وہ ڈرتے ہیں تو ہم ان کے لیے یقین بن جاتے ہیں۔ ہمیں گمان ہوتا ہے کہ یہ تعلق ہے؛ حالاں کہ کبھی کبھی ہم صرف کسی کی زندگی میں ایک محفوظ مقام ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت دیر سے کھلتی ہے کہ کسی کا سہارا ہونا اور کسی کا اپنا ہونا ایک چیز نہیں۔
کچھ لوگ تمہیں اس وقت یاد کرتے ہیں جب زندگی ان کے خلاف ہو۔ تمہاری آواز انہیں اطمینان دیتی ہے، تمہاری موجودگی انہیں سنبھالتی ہے، تمہاری قربت ان کے خوف کو کچھ دیر کے لیے خاموش کر دیتی ہے۔ مگر جب ان کے اندر کا موسم بدلتا ہے تو تم بھی ان کی ترجیحات سے اتر جاتے ہو۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ انہیں تمہاری ذات سے محبت نہیں تھی؛ انہیں اس سکون سے محبت تھی جو تمہاری ذات سے ملتا تھا۔ اور یہ انکشاف بہت اذیت ناک ہوتا ہے۔ تم اسے رشتہ سمجھ کر اپنی عمر دیتے رہے، اور وہ تمہیں صرف اپنی ضرورت کی عمر تک پہچانتا رہا۔
مگر انسان کو یہاں ٹوٹنا نہیں، بیدار ہونا چاہیے۔ ہر شخص کو بچاتے بچاتے خود کو غرق کر دینا محبت نہیں، اپنی ذات سے ناانصافی بھی ہو سکتی ہے۔ تم مرہم ہو سکتے ہو، مگر ہر زخم کے ذمہ دار نہیں۔ تم سایہ دے سکتے ہو، مگر ہر تھکے ہوئے مسافر کی منزل نہیں۔
ایک وقت آتا ہے جب انسان کو دوسروں کے دروازے پر کھڑے رہنے کے بجائے اپنے اندر واپس آنا پڑتا ہے۔ وہاں اسے پہلی بار معلوم ہوتا ہے کہ جس محبت کی تلاش میں وہ عمر بھر دوسروں کو پناہ دیتا رہا، اس محبت کا ایک حصہ خود اپنے لیے بھی محفوظ رکھنا تھا۔ اور شاید پختگی کا آغاز بھی وہیں سے ہوتا ہے: جب انسان دوسروں کا سہارا رہتے ہوئے اپنی ذات کا ملبہ بننے سے انکار کر دے۔
کیونکہ محبت یہ نہیں کہ تم ہر کسی کو اپنے اندر جگہ دیتے جاؤ؛ محبت یہ بھی ہے کہ دوسروں کو پناہ دیتے دیتے خود اپنی ذات سے بے پناہ نہ ہو جاؤ۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top