(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کچھ لوگ زندگی میں مشکلات سے نہیں گزرتے، مشکلات ان کے اندر سے گزر جاتی ہیں۔ وہ ایسے موسم دیکھ لیتے ہیں جن کے بعد انسان پہلے جیسا نہیں رہتا۔ کچھ حادثے انسان کو توڑتے نہیں، اس کے اندر موجود بہت سے وہموں کو دفن کر دیتے ہیں۔ کچھ جدائیاں آنکھوں سے آنسو نہیں چھینتیں، بلکہ دل سے لوگوں کے کھو جانے کا خوف نکال دیتی ہیں۔ کچھ راتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں آدمی صبح کا انتظار نہیں کرتا؛ وہ صرف اپنے اندر بچی ہوئی آخری روشنی کی حفاظت کرتا ہے۔
پھر ایک دن اسے احساس ہوتا ہے کہ جس چیز سے وہ ساری عمر ڈرتا رہا، وہ اس کے سامنے آ کر بھی اسے ختم نہیں کر سکی۔ وہ بدل گیا ہے۔ اب دھمکی اسے چونکاتی نہیں، محرومی اسے بھیک مانگنے پر مجبور نہیں کرتی اور تنہائی اسے اپنے اصول بیچنے پر آمادہ نہیں کرتی۔ کیونکہ جس انسان نے اپنے اندر کے کئی جنازے خود اٹھائے ہوں، اسے دنیا کے چھوٹے چھوٹے خوف زیادہ دیر غلام نہیں بنا سکتے۔
خوف کی بھی ایک سلطنت ہوتی ہے۔ وہ تمہیں ہمیشہ کسی بیرونی طاقت سے نہیں ڈراتا؛ کبھی وہ تمہارے اندر بیٹھ کر تمہیں تمہارے ہی ممکنہ نقصان کے نقشے دکھاتا رہتا ہے۔ اگر یہ چلا گیا تو؟ اگر لوگ چھوڑ گئے تو؟ اگر ناکام ہو گئے تو؟ اگر سب کچھ چھن گیا تو؟ اور انسان ان سوالوں کے جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے اپنی پوری زندگی ایک ایسے مستقبل کے خوف میں گزار دیتا ہے جو شاید کبھی آنا ہی نہیں تھا۔
مگر پھر زندگی ایک دن اسے واقعی وہاں لے جاتی ہے جہاں جانے کا اسے سب سے زیادہ خوف تھا۔ اور عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ وہ وہاں پہنچ کر بھی زندہ رہتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب خوف کی گردن ٹوٹتی ہے۔ آدمی جان لیتا ہے کہ جس نقصان کو وہ اپنی آخری تباہی سمجھتا تھا، وہ صرف اس کی ایک پرانی زندگی کا اختتام تھا۔
اس کے بعد بہت سی دھمکیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ جسے تنہائی قبول ہو جائے، اسے ہجوم خرید نہیں سکتا۔ جسے محرومی سہنا آ جائے، اسے لالچ غلام نہیں بنا سکتا۔ جسے اپنی سچائی کی قیمت معلوم ہو، اسے الزام خاموش نہیں کرا سکتا۔ اور جس نے اپنے اندر شکست کے بعد دوبارہ جنم لیتے دیکھا ہو، اسے ناکامی کا نام لے کر ہمیشہ نہیں ڈرایا جا سکتا۔
یہ بے خوفی کوئی شور نہیں کرتی۔ یہ سینہ تان کر دنیا کو للکارنے کا نام بھی نہیں۔ یہ تو ایک ایسی خاموش حالت ہے جہاں انسان کے اندر سے یہ سوال مر جاتا ہے کہ لوگ میرے ساتھ کیا کریں گے؟ کیونکہ اب اسے معلوم ہو چکا ہوتا ہے کہ لوگ اس کی زندگی کا ایک حصہ چھین سکتے ہیں، پوری زندگی نہیں۔
وہ عزت چھین سکتے ہیں، مگر کردار نہیں۔ وہ ساتھ چھوڑ سکتے ہیں، مگر انسان اپنے ساتھ رہنا سیکھ چکا ہو تو تنہائی اسے نہیں کھاتی۔ وہ راستہ بند کر سکتے ہیں، مگر جس شخص نے اندھیروں میں چلنا سیکھ لیا ہو، اسے ہر راستے کے لیے روشنی درکار نہیں رہتی۔
ایسے شخص کو برائی کے نام سے ڈرانا آسان نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ برائی سے بے خبر نہیں ہوتا؛ وہ صرف خوف کے کاروبار کو سمجھ چکا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ شیطان ہمیشہ سینگوں کے ساتھ نہیں آتا۔ کبھی وہ مصلحت بن کر آتا ہے، کبھی لالچ بن کر، کبھی لوگوں کی منظوری بن کر اور کبھی اس خوف کی صورت میں کہ اگر میں نے سچ کا ساتھ دیا تو میں اکیلا رہ جاؤں گا۔
تب انسان کے سامنے اصل امتحان آتا ہے: کیا میں اکیلا رہنے سے ڈر کر اپنے اندر کے سچ کو قتل کر دوں؟ جو شخص اس سوال کا جواب “نہیں” میں دے دے، اسے شکست دینا آسان نہیں رہتا۔ کیونکہ اب اس کی حفاظت کوئی دیوار نہیں کر رہی ہوتی؛ اس کی حفاظت وہ یقین کر رہا ہوتا ہے جو اس نے اپنے ہی ملبے سے تعمیر کیا ہے۔
اور شاید زندگی کی سب سے بڑی آزادی یہی ہے: جب انسان کو کھونے کا خوف ختم ہو جائے تو دنیا اسے خریدنے کی آخری وجہ بھی کھو دیتی ہے۔ پھر نہ موت کا سایہ اسے اپنے اصولوں سے ہٹا سکتا ہے، نہ تنہائی، نہ محرومی، نہ دھمکی۔ وہ جان لیتا ہے کہ کچھ جنگیں جیتنے کے لیے نہیں لڑی جاتیں؛ کچھ جنگیں اس لیے لڑی جاتی ہیں کہ انسان اپنے اندر کے غلام کو آزاد کر سکے۔
