(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کو ہمیشہ وہ چیزیں بے چین نہیں کرتیں جو اسے حاصل نہیں ہوئیں۔ کبھی کبھی اس کی اصل بے قراری اُس شخص کی وجہ سے ہوتی ہے جو اس کے اندر موجود تھا، مگر دنیا میں کبھی پیدا نہ ہو سکا۔ ایک وقت آتا ہے جب انسان اپنے آپ کو صرف آئینے میں نہیں دیکھتا، اپنے امکان میں بھی دیکھنے لگتا ہے۔ وہ پلٹ کر اپنی زندگی کے راستوں کو دیکھتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ کہیں ایک موڑ پر وہ ذرا اور بہادر ہو سکتا تھا، کہیں اسے خاموش نہیں رہنا چاہیے تھا، کہیں اسے اپنی صلاحیت پر یقین کرنا چاہیے تھا، کہیں اسے اپنی سہولت کے بجائے اپنے مقصد کا انتخاب کرنا چاہیے تھا۔ اور تب ایک عجیب سا غم جنم لیتا ہے۔ یہ غم کسی کھوئی ہوئی دولت کا نہیں ہوتا، کسی چھوٹی ہوئی منزل کا بھی نہیں۔ یہ اپنے ہی ایک ممکنہ وجود کی جدائی کا غم ہوتا ہے۔
وہ جان لیتا ہے کہ اس کے اندر ایک شاعر تھا جو مکمل شعر کہہ سکتا تھا، ایک صاحبِ کردار انسان تھا جو زیادہ مضبوط فیصلے کر سکتا تھا، ایک خواب تھا جو حقیقت بن سکتا تھا، ایک زندگی تھی جو زیادہ بامعنی ہو سکتی تھی۔ مگر وہ زندگی صرف امکان بن کر رہ گئی۔ اور انسان کے لیے اپنے ہی امکان کا ماتم شاید دنیا کے کسی بھی نقصان سے زیادہ خاموش اور گہرا ہوتا ہے۔ کیونکہ جس چیز کو ہم نے کبھی دیکھا ہی نہ ہو، اس کی کمی محسوس کرنا آسان ہے؛ مگر اپنے اندر موجود اس شخص کو دیکھ لینا جو ہم بن سکتے تھے، اور پھر یہ جان لینا کہ ہم نے اسے خود راستہ نہیں دیا—یہ شعور انسان کو اندر تک ہلا دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات کامیاب نظر آنے والے لوگ بھی بے سکون ہوتے ہیں۔ دنیا انہیں دیکھ کر کہتی ہے: تم نے بہت کچھ حاصل کر لیا۔ اور ان کا اندر جواب دیتا ہے: مگر جتنا میں بن سکتا تھا، اتنا نہیں بنا۔ یہ احساس اگر انسان کو توڑ دے تو پچھتاوا بن جاتا ہے، اور اگر اسے جگا دے تو یہی احساس انقلاب بن سکتا ہے۔ کیونکہ اپنے ضائع شدہ امکان کو دیکھ لینا ہمیشہ سزا نہیں ہوتا؛ کبھی یہ زندگی کی طرف سے آخری دستک بھی ہوتی ہے۔
شاید اصل شکست یہ نہیں کہ انسان اپنی منزل تک نہ پہنچ سکا۔ اصل شکست تو یہ ہے کہ وہ اتنی دیر تک سویا رہا کہ اسے یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ اس کے اندر ایک اور بلند تر انسان جنم لینے کے لیے بے قرار تھا۔ اور شاید نجات کا آغاز اُس لمحے ہوتا ہے جب آدمی اپنے ماضی سے یہ سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے: “میں ایسا کیوں نہ بن سکا؟” اور اپنے حال سے پوچھتا ہے: “جو میں بن سکتا ہوں، کیا میں اب بھی بننے کے لیے تیار ہوں؟”
کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی حسرت وہ نہیں جو پیچھے رہ گئی۔ سب سے بڑی حسرت وہ ہے جسے انسان آج بھی پا سکتا ہے، مگر خوف، کاہلی، مصلحت یا خود فریبی کے باعث اسے کل پر ٹالتا رہتا ہے۔ اپنے ممکنہ وجود کو قبر میں دفن کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ مرتا نہیں۔ وہ اندر کہیں زندہ رہتا ہے۔ خاموش۔ اور کبھی کسی تنہائی میں آ کر بس اتنا پوچھتا ہے: “تم نے مجھے جینے کا موقع کیوں نہیں دیا؟”
