(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی کی ایک عجیب سخاوت ہے کہ یہ ہم سے بہت کچھ لے کر بھی ہمیں متبادل دیتی رہتی ہے۔ ایک محبت چھن جائے تو دل کسی اور محبت کی گنجائش پیدا کر لیتا ہے۔ ایک دروازہ بند ہو جائے تو کہیں نہ کہیں دوسرا دروازہ موجود ہوتا ہے۔ ملازمت بدل سکتی ہے، شہر بدلا جا سکتا ہے، گھر چھوڑا جا سکتا ہے، دوست بدل سکتے ہیں، حتیٰ کہ انسان اپنی پہچان کے بہت سے پرانے حصے بھی نئے سرے سے تعمیر کر سکتا ہے۔ دنیا میں حیرت انگیز طور پر بہت سی چیزیں دوبارہ مل سکتی ہیں۔ مگر ایک چیز ایسی ہے جس کا کوئی بدل نہیں: زندگی۔ یہ نہ کہیں رک کر ہمارا انتظار کرتی ہے، نہ گزرے ہوئے لمحوں کو واپس بھیجتی ہے۔
ہم اکثر ایک ختم ہو جانے والی چیز کو اپنی پوری زندگی پر حاوی کر لیتے ہیں۔ ایک شخص چلا جاتا ہے اور ہم بھی اپنے اندر کہیں بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک خواب ٹوٹتا ہے اور ہم باقی تمام خوابوں سے دست بردار ہو جاتے ہیں۔ ایک ناکامی ملتی ہے اور ہم اسے اپنی شناخت سمجھ لیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کسی ایک واقعے کا اختتام، پوری زندگی کا اختتام نہیں ہوتا۔ جو چلا گیا، ضروری نہیں کہ وہ ہماری زندگی کا آخری خوبصورت باب تھا۔ جو ہاتھ چھوٹ گیا، ضروری نہیں کہ سفر ختم ہو گیا۔ جو راستہ بند ہوا، ضروری نہیں کہ منزل بھی ختم ہو گئی۔
کبھی کبھی زندگی ہمیں کسی جگہ سے اس لیے نکالتی ہے کہ ہم وہاں بہت دیر سے ٹھہرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور کبھی ایک جدائی، ایک ناکامی یا ایک شکست ہمیں اُس شخص سے ملانے آتی ہے جو ہم ابھی تک بنے ہی نہیں تھے۔ اس لیے دوبارہ شروع کرنا ہمیشہ ماضی کو مٹانا نہیں ہوتا۔ کبھی دوبارہ آغاز کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان پہلی بار اپنی مرضی سے جینا شروع کرے۔ وہ اپنے آپ سے کہے: “میں نے وقت کھویا ہے، مگر وقت کا باقی حصہ ابھی میرے پاس ہے۔ میں نے غلط انتخاب کیے ہیں، مگر اگلا انتخاب ابھی میرے ہاتھ میں ہے۔ میں نے کسی کو کھویا ہے، مگر خود کو ابھی نہیں کھویا۔ میں ایک راستے پر بہت دور تک آ گیا ہوں، مگر اگر یہ راستہ مجھے وہاں نہیں لے جا رہا جہاں میری روح جانا چاہتی ہے تو واپس مڑنے میں کوئی شکست نہیں۔”
شکست تو شاید یہ ہے کہ انسان صرف اس لیے ایک غلط زندگی ڈھوتا رہے کہ اسے نئی زندگی شروع کرنے سے خوف آتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے: لوگ بدل سکتے ہیں، جگہیں بدل سکتی ہیں، حالات بدل سکتے ہیں، پیشے بدل سکتے ہیں، خوابوں کی شکل بدل سکتی ہے؛ مگر گزر جانے والا وقت اپنی جگہ سے نہیں ہلتا۔ اس لیے اپنے ماضی کی حفاظت ضرور کریں، مگر اسے اپنی سزا نہ بنائیں۔ جو بیت گیا، اسے تجربہ بننے دیں؛ زنجیر نہیں۔ جو ٹوٹ گیا، اسے سبق بننے دیں؛ شناخت نہیں۔ اور جو ختم ہو گیا، اسے قبر کی طرح نہ ڈھوتے رہیں۔
کبھی کبھی انسان کو اپنی زندگی بچانے کے لیے اپنی پرانی زندگی سے نکلنا پڑتا ہے۔ نئی شروعات کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے پاس سب کچھ دوبارہ آ جائے گا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ کے پاس جو سب سے قیمتی چیز ابھی باقی ہے، اسے ضائع ہونے سے بچا لیا جائے۔ آپ کی سانس۔ آپ کا وقت۔ آپ کا آج۔ کیونکہ محبت شاید دوبارہ مل جائے، شہر دوبارہ مل جائے، کام دوبارہ مل جائے، لوگ دوبارہ مل جائیں، مگر یہی عمر، یہی لمحہ، یہی زندگی دوبارہ نہیں ملے گی۔
اس لیے اگر کہیں اندر سے آواز آ رہی ہے کہ اب راستہ بدلنا چاہیے تو ہر آواز کو ماضی کی بے وفائی نہ سمجھیں۔ ممکن ہے یہ زندگی خود آپ کو پکار رہی ہو۔ اور کہہ رہی ہو: “جو ختم ہو گیا، اسے ختم ہونے دو۔ جو باقی ہے، اسے جینا شروع کرو۔”
