(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی میں کچھ لوگ ہمارے حصے میں محبت بن کر آتے ہیں، کچھ دعا بن کر، اور کچھ ایسے تجربے بن کر جنہیں ہم عمر بھر بھولنا چاہتے ہیں۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ انسان کی شخصیت صرف اُن ہاتھوں سے نہیں بنتی؛ جو اسے تھامتے ہیں، کبھی کبھی وہ اُن ہاتھوں سے بھی تراشی جاتی ہے جو اسے دھکیل دیتے ہیں۔ ہم نے کچھ لوگوں کو بہت بولتے دیکھا تو ہمیں اندازہ ہوا کہ آواز اور معنی ایک چیز نہیں۔ تب خاموشی محض چپ رہنے کا نام نہ رہی، بلکہ اپنے اندر اترنے کا ہنر بن گئی۔
ہم نے کچھ ذہنوں کو اپنی ہی دیواروں میں قید دیکھا تو ہمیں معلوم ہوا کہ یقین اگر وسعتِ نظر سے محروم ہو جائے تو عقیدہ نہیں، قید خانہ بن جاتا ہے۔ تب اختلاف سے خوف کم اور انسان کو اس کے اختلاف سمیت قبول کرنے کا حوصلہ زیادہ پیدا ہوا۔ ہم نے کچھ دلوں میں اپنے لیے کانٹے اگتے دیکھے تو ایک اور راز کھلا کہ دوسرے کا زہر اپنے اندر پال لینا، دراصل اپنے ہی وجود کو زخمی کرنا ہے۔ تب جواب دینے سے زیادہ اپنے مزاج کو بچانا ضروری محسوس ہوا۔
اور یوں جن لوگوں نے ہمیں توڑنے کی کوشش کی، وہ انجانے میں ہمارے اندر کچھ ایسا تعمیر کر گئے جسے وہ خود کبھی سمجھ نہ سکے۔ لیکن یہاں ایک باریک فرق ہے۔ ہم اُن سے شکر گزار نہیں ہوتے، اُن سے سیکھے ہوئے سبق کے شکر گزار ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہر شخص جو ہمیں کچھ سکھا دے، ضروری نہیں کہ وہ ہمارا محسن بھی ہو۔ کبھی کوئی شخص ہمیں اپنی محبت سے انسان بناتا ہے، اور کبھی کوئی اپنی سنگ دلی سے ہمیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ ہمیں اس جیسا نہیں بننا۔
شاید یہی زندگی کی ایک خاموش حکمت ہے: ہر شخص ہماری منزل نہیں ہوتا، مگر ہر شخص ہمارے سفر میں کوئی نہ کوئی نشان چھوڑ جاتا ہے۔ کچھ لوگ ہمیں یہ بتا کر جاتے ہیں کہ محبت کیا ہوتی ہے؛ اور کچھ یہ سمجھا کر کہ محبت کیا نہیں ہونی چاہیے۔ کچھ ہمیں زبان دیتے ہیں، کچھ خاموشی۔ کچھ ہمارے زخم بن جاتے ہیں، اور کچھ انہی زخموں سے ہماری بصیرت جنم لیتی ہے۔
اس لیے ماضی کے ہر کردار کو معاف کرنا ضروری ہو سکتا ہے، مگر ہر کردار کو مقدس بنا دینا ضروری نہیں۔ کچھ لوگوں کو زندگی میں واپس بلانے کے بجائے اپنے اندر سے رخصت کرنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے۔ اور شاید پختگی کا آخری درجہ یہی ہے کہ انسان کسی کے برے سلوک کو اپنے اخلاق کا مقدر نہ بننے دے۔ وہ کہے: تم نے میرے ساتھ جو کیا، وہ تمہارا کردار تھا؛ میں تمہارے ساتھ جو کروں گا، وہ میرا کردار ہوگا۔
بس یہیں انسان دوسرے کے رویے سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اور پھر اسے کسی سے بدلہ لینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ اس نے اپنے اندر وہ چراغ روشن کر لیا ہوتا ہے جس کے سامنے دوسروں کی تاریکی اپنا مفہوم کھو دیتی ہے۔
