(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کچھ لوگ خاموش نہیں ہوتے، بس ان کی آواز لفظوں سے آگے نکل چکی ہوتی ہے۔ وہ ہنستے ہیں تو معلوم نہیں ہوتا کہ ہنسی چہرے پر آئی ہے یا دل نے کسی پرانے زخم کو تھوڑی دیر کے لیے بہلا دیا ہے۔ ان کے چہروں کو دیکھنے والے اکثر دھوکا کھا جاتے ہیں، کیونکہ چہرہ صرف وہ بتاتا ہے جسے انسان دنیا سے چھپانا نہیں چاہتا، اصل کہانی تو وہاں لکھی ہوتی ہے جہاں کسی کی نظر نہیں پہنچتی۔
میں نے ایک ایسے ہی شخص سے ایک دن پوچھا تھا: تم اتنے کم بولتے کیوں ہو؟ اس نے میری طرف دیکھا اور کہا: کیونکہ کچھ باتیں کہہ دی جائیں تو اپنی حرمت کھو دیتی ہیں۔ میں نے کہا: اور اگر کوئی سمجھنے والا مل جائے؟ وہ دیر تک خاموش رہا۔ پھر بولا: سمجھنے والا مل جائے تو آدمی بولتا نہیں، صرف اپنے اندر کے دروازے کھول دیتا ہے۔
تب مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ انسان کی سب سے بڑی زبان اس کی خاموشی ہے۔ لفظ تو ہم سب بول لیتے ہیں، مگر خاموشی صرف وہی بول سکتا ہے جس کے اندر بہت کچھ دفن ہو اور وہ ہر قبر پر کتبہ لگانے کا خواہش مند نہ ہو۔ ہم دوسروں کے چہرے پڑھنے میں عمر گزار دیتے ہیں، مگر کبھی اپنے چہرے سے نہیں پوچھتے کہ وہ ہم سے کیا چھپا رہا ہے۔
آئینہ بھی عجیب شے ہے۔ وہ چہرہ دکھاتا ہے، مگر چہرے کے پیچھے کھڑا ہوا انسان نہیں دکھاتا۔ شاید اسی لیے بعض لوگ ساری عمر آئینے بدلتے رہتے ہیں اور کبھی خود کو نہیں بدل پاتے۔ ایک شام میں نے سوچا کہ اگر مجھے کسی انسان کی اصل تصویر بنانی ہو تو میں کہاں سے آغاز کروں گا؟ چہرے سے؟ آنکھوں سے؟ ہاتھوں سے؟ یا اس خاموشی سے جو اس کے آس پاس بیٹھی ہوتی ہے؟
پھر خیال آیا کہ کسی انسان کی تصویر اس کے خدوخال سے نہیں بنتی۔ اس کی تصویر ان چیزوں سے بنتی ہے جنہیں وہ چھپانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ اس کی اصل تصویر شاید اس وقت بنتی ہے جب وہ اکیلا ہو، جب کوئی اسے دیکھ نہ رہا ہو، جب اسے کسی کو متاثر نہ کرنا ہو، جب اس کے پاس اپنے دفاع میں کوئی دلیل نہ ہو۔ وہاں جو شخص باقی رہ جاتا ہے، وہی اس کا اصل چہرہ ہے۔
ہم نے زندگی بھر دوسروں کے لیے چہرے تراشے ہیں؛ کسی کے لیے مضبوط، کسی کے لیے خوش، کسی کے لیے بے نیاز اور کسی کے لیے ایسا کہ اسے ہماری ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔ مگر انسان کا المیہ یہ نہیں کہ وہ بہت سے چہرے رکھتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ کبھی کبھی اسے اپنا اصل چہرہ یاد ہی نہیں رہتا۔
پھر ایک دن کوئی حادثہ، کوئی جدائی، کوئی موت، کوئی ناکامی یا کوئی بے سبب رات اس کے اندر کی ساری روشنیاں بجھا دیتی ہے اور اندھیرے میں اچانک وہ اپنے آپ سے آمنا سامنا کر لیتا ہے۔ وہاں نہ تعریف ہوتی ہے نہ ملامت، نہ دنیا ہوتی ہے نہ تماشائی، صرف انسان ہوتا ہے اور اس کا رب۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب زندگی پہلی مرتبہ ہمیں ہمارے اصل نام سے پکارتی ہے۔
میں نے تب جانا کہ بعض لوگ اس لیے نہیں روتے کہ ان کے پاس آنسو نہیں ہوتے، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے آنسوؤں کو بھی تہذیب سکھا دی ہوتی ہے۔ بعض لوگ اس لیے کم مسکراتے ہیں کہ انہیں خوشی کم ملتی ہے، ایسا بھی نہیں۔ وہ صرف اتنا جان چکے ہوتے ہیں کہ ہر خوشی کو چہرے تک لے آنا ضروری نہیں۔ کچھ مسکراہٹیں دل کے اندر رہ کر زیادہ خوبصورت ہوتی ہیں، اور کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں بیان کر دیا جائے تو وہ معمولی لگنے لگتے ہیں۔
اس لیے کچھ لوگ خاموش رہتے ہیں۔ وہ اپنے دکھ کو زبان نہیں دیتے، اسے شخصیت بنا لیتے ہیں۔ اور یہی لوگ بظاہر سب سے پُرسکون دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ ان کے اندر ایک پوری کائنات اپنے ملبے پر چراغ جلائے بیٹھی ہوتی ہے۔ شاید انسان کی عظمت یہ نہیں کہ وہ کتنا بول سکتا ہے، کتنا لکھ سکتا ہے یا کتنے لوگوں کو اپنا قائل کر سکتا ہے۔ عظمت تو یہ ہے کہ وہ اپنے اندر کتنی دھوپ سہہ کر بھی دوسروں کے لیے سایہ بن سکتا ہے۔
اور شاید محبت بھی یہی ہے؛ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ تلاش کرنا نہیں، بلکہ اس خاموشی کے پاس بیٹھ جانا جس نے مسکرانا بھلا دیا ہو۔ کیونکہ کچھ لوگ یہ نہیں چاہتے کہ کوئی ان کا دکھ ختم کر دے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کے پاس بیٹھ کر یہ ثابت کر دے کہ ان کا دکھ بے معنی نہیں تھا۔
تب مجھے ایک عجیب حقیقت سمجھ آئی: انسان کو پڑھنے کے لیے اس کے الفاظ نہیں، اس کے درمیان کے وقفے پڑھنے چاہییں۔ وہ کہاں رک گیا؟ کس سوال پر نظریں چرا گیا؟ کس خوشی کا ذکر کرتے ہوئے اچانک خاموش ہو گیا؟ کس نام پر اس کی آواز بدل گئی؟ کس یاد پر اس نے موضوع بدل دیا؟ اصل کہانی وہیں لکھی ہوتی ہے۔
اور اگر کبھی کسی انسان کی تصویر بنانی ہو تو اس کا چہرہ آخر میں بنانا۔ پہلے اس کی خاموشی بنانا، پھر وہ جگہ بنانا جہاں وہ سب سے زیادہ تنہا ہوا تھا، پھر اس خواب کو بنانا جسے اس نے کسی سے نہیں کہا، پھر وہ شخص بنانا جسے اس نے معاف تو کر دیا مگر بھلایا نہیں، پھر اس آنکھ میں ایک ایسا چراغ رکھنا جو دنیا کو نظر نہ آئے۔
اور جب تصویر مکمل ہونے لگے تو اسے غور سے دیکھنا۔ اگر تصویر تمہیں دیکھنے لگے تو سمجھنا کہ تم نے چہرہ نہیں بنایا، تم نے انسان کو چھو لیا ہے۔ کیونکہ فن وہاں ختم نہیں ہوتا جہاں تصویر مکمل ہوتی ہے۔ فن تو وہاں شروع ہوتا ہے جہاں تصویر اپنے مصور سے ایک سوال پوچھتی ہے: تم نے مجھے بنایا ہے یا میں نے تمہیں؟
