(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
رات 10 بجے کراچی کے کینٹ اسٹیشن پر ٹرین کی سیٹی گونجی۔ پلیٹ فارم پر ہلچل بڑھ گئی۔ علی نے اپنے کندھے پر شال درست کی اور ڈبے میں داخل ہو گیا۔ وہ سندھ کے ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تھا، مگر زمینوں کی زنجیروں سے آزاد ہو کر زندگی کو اپنے انداز میں دیکھنے کا خواہشمند تھا۔ آج وہ حیدرآباد جا رہا تھا، مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ سفر صرف چند گھنٹوں کا نہیں، بلکہ صدیوں کا ہونے والا ہے۔
عائزہ پہلے ہی اپنی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ کتاب کے ورق الٹتے ہوئے اس نے ایک نظر علی پر ڈالی۔ وہ ایک دیہی پس منظر سے آنے والی لیکچرار تھی، مگر اس کے خیالات جدید تھے، خواب اونچے تھے۔
ٹرین دھیرے دھیرے روانہ ہوئی، اور ساتھ ہی گفتگو کا ایک نیا سفر شروع ہو گیا۔ دونوں کے لہجے میں مانوسیت تھی، جیسے صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ وہ دیہات کی مٹی، زمینداری کے بوجھ، تعلیم، اور عورت کے مقام پر بات کرتے رہے۔
حیدرآباد اسٹیشن آ چکا تھا، مگر علی نہیں اترا۔
“میں بھی روہڑی تک چلتا ہوں، سفر تھوڑا اور سہی۔”
عائزہ نے حیرت سے دیکھا، مگر کچھ کہا نہیں۔ شاید دل کے کسی کونے میں اسے بھی یہ ہمسفری عزیز تھی۔
ٹرین روہڑی رک گئی۔ عائزہ کو سکھر جانا تھا، اور علی کو اب واپس لوٹنا تھا۔ مگر وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چل دیا۔ رکشے میں بیٹھے، وہ گلیوں کے موڑ مڑتے، وقت کے شکنجے میں جکڑے، سکھر کے اس دروازے تک پہنچے، جہاں علی کو رکنا تھا۔
“یہاں سے تمہیں اکیلے جانا ہوگا،” علی نے مدھم آواز میں کہا۔
عائزہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر لفظ زباں سے باہر نہ آ سکے۔ وہ علی کے چہرے کو آخری بار دیکھنا چاہتی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک انجانی ویرانی تھی۔
علی پلٹا، قدموں کی آہٹ مدھم ہوتی گئی، اور وہ گلی کے موڑ سے غائب ہو گیا۔
پھر وہ کبھی نہ ملا۔
عائزہ نے انتظار کیا، پہلے دن، پھر ہفتے، پھر مہینے، پھر سال، مگر علی لوٹ کر نہیں آیا۔ اس نے ہر راستہ چھان مارا، ہر اسٹیشن پر نگاہ دوڑائی، مگر وہ بے نام اجنبی مسافر کہیں کھو گیا تھا۔
زندگی نے اپنا دھارا بدل لیا۔ وقت گزرتا رہا، بالوں میں چاندنی اتر آئی، مگر عائزہ کے دل میں ایک گوشہ ہمیشہ علی کے انتظار میں رہا۔
ایک دن عائزہ نے اخبار میں ایک مختصر خبر دیکھی:
“دریا کنارے ایک اجنبی کی بے نام قبر، جہاں بچھڑے ہوئے منتیں مانگنے آتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اجنبی مسافر تھا۔ قبر پر ایک بوڑھا فقیر رہتا ہے جو اگر بتیاں جلاتا ہے اور رات بھر ستاروں سے باتیں کرتا ہے۔”
یہ خبر پڑھ کر عائزہ کے دل کی ہجر زدہ زمین گہرے زلزلے سے پارہ پارہ ہو گئی۔
وہ انجانے خدشوں میں ڈوبی، لرزتی امید کے قدموں کا سہارا لے کر دریا کے کنارے جا پہنچی۔
دریا کے کنارے ایک بوسیدہ قبر تھی۔ ہوا میں نیم جلی اگر بتیوں کی خوشبو تیر رہی تھی۔ پاس ہی ایک جھونپڑی میں بوڑھا فقیر بیٹھا تھا، جیسے وہ اس مزار کا خدمت گزار ہو۔
عائزہ نے لرزتی آواز میں بوڑھے فقیر سے پوچھا،
“یہ کس کی قبر ہے؟”
فقیر نے دھیرے سے کہا،
“یہ ایک اجنبی مسافر کی قبر ہے، جو کسی کی تلاش میں یہاں آیا تھا، مگر پھر کبھی واپس نہ جا سکا۔ وہ اس کی تلاش میں روز نکلتا مگر اس کی عزت کی پاکیزہ ردا کے احترام میں چند قدم چل کر واپس پلٹ آتا ”
عائزہ کا دل کسی انجانے خوف سے دھڑک اٹھا۔
“تمہیں پتہ ہے وہ کسے ڈھونڈنا چاہتا تھا؟”
فقیر نے نفی میں سر ہلایا ۔
عائزہ نے فقیر سے اس اجنبی مسافر کا حُلیہ یا کوئی نشانی پوچھی ۔فقیر نے ایک پل کے لیے خاموشی اختیار کی، پھر جھونپڑی کے اندر گیا اور ایک چیز لا کر عائزہ کے سامنے رکھ دی۔
وہ ایک پرانی، زرد پڑی ہوئی کتاب تھی!
عائزہ کو اپنے جسم سے روح پرواز ہوتی محسوس ہوئی ۔ یہ وہی کتاب تھی جو سکھر کی اُس گلی میں رکشہ سے اترتے وقت اس نے علی کو دی تھی، جو ٹرین میں سفر کرتے وقت اس کے ہاتھ میں تھی۔
عائزہ کے ہاتھ لرزنے لگے، سانس رکنے لگی۔ اس نے بس اتنا کہا:
“میرا اجنبی!”
اور بے ہوش ہو گئی۔
دریا کے پانیوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی، جیسے کسی نے پرسکون کروٹ بدلی ہو۔
اور عائزہ کی آنکھوں سے آنسو ڈھلک کر مٹی میں جذب ہو گئے، جیسے صدیوں بعد بھی محبت زندہ تھی۔
