(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
وہ چلی گئی تو گھر وہی تھا۔ دیواریں وہی، دروازے وہی، پردے وہی اور شامیں بھی پہلے جیسی اترتی تھیں۔ مگر اُس کے جانے کے بعد گھر گھر نہیں رہا تھا۔ ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی، صرف اُس کی آواز کہیں نہیں تھی۔
وہ رات گئے تک اُس کی تصویر کے سامنے بیٹھا رہتا۔ کبھی انگلیوں سے تصویر کے چہرے کو چھوتا اور کبھی اچانک ہاتھ روک لیتا، جیسے ڈرتا ہو کہ کہیں یہ آخری لمس بھی چھن نہ جائے۔ پھر آہستہ سے کہتا، “تمہیں معلوم ہے نا، میں اب بھی تم سے بات کرتا ہوں؟”
خاموشی جواب دیتی۔
ایک رات اُس نے تصویر کو سینے سے لگا لیا۔ آنسو اُس کے چہرے پر بہتے رہے اور آواز گلے میں ٹوٹتی رہی۔
“اگر محبت واقعی موت سے بڑی ہے تو ایک دن تم ضرور ملنا۔ میں انتظار کروں گا۔ چاہے یہ انتظار میری پوری زندگی کیوں نہ لے لے۔”
اُس رات نہ جانے کب نیند آئی۔
خواب میں وہ سامنے کھڑی تھی۔ وہی چہرہ جسے دیکھنے کے لیے اُس نے کتنی راتیں جاگ کر گزار دی تھیں۔ وہی آنکھیں جن میں کبھی اُس کی پوری دنیا آباد تھی۔
وہ بے اختیار اُس کی طرف بڑھا۔
“تم واقعی آ گئی ہو؟”
وہ مسکرائی، مگر اُس کی آنکھوں میں عجیب سی نمی تھی۔
“میں گئی ہی کب تھی؟”
وہ چیخ کر جاگ اٹھا۔
کمرہ خالی تھا۔
وہ کچھ دیر تک اندھیرے میں بیٹھا رہا۔ پھر دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر اس طرح رویا جیسے برسوں سے روکا ہوا کوئی سیلاب اچانک بند توڑ کر نکل آیا ہو۔
اُس دن کے بعد انتظار اُس کی زندگی میں شامل نہیں ہوا تھا۔ انتظار ہی اُس کی زندگی بن گیا تھا۔
لوگوں نے اُسے آہستہ آہستہ معمول کی طرف لوٹتے دیکھا۔ وہ ہنستا تھا، کام کرتا تھا، لوگوں سے ملتا تھا۔ کبھی کبھی خود بھی حیران ہوتا کہ انسان اتنے بڑے دکھ کے ساتھ بھی کیسے زندہ رہ لیتا ہے۔
مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ ہر رات وہ اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے اُس سے باتیں کرتا تھا۔
“آج بھی تم بہت یاد آئیں۔”
پھر خود ہی خاموش ہو جاتا۔
“تمہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ میں نے تمہارے بغیر جینا سیکھ لیا ہے۔”
ایک لمحے بعد آنکھیں بھر آتیں۔
“نہیں، یہ جھوٹ ہے۔ میں نے جینا نہیں سیکھا۔ میں نے صرف تمہارے بغیر زندہ رہنا سیکھا ہے۔”
سال گزرتے گئے۔
پھر ایک دن وہ اُس سے ملا۔
صرف ایک آواز نے اُس کے اندر برسوں سے دفن دنیا کو ہلا دیا۔
وہی ٹھہراؤ۔ وہی نرمی۔ وہی عجیب سی مانوسیت۔
وہ اُسے دیکھتا رہا اور دل میں ایک خوف اُترتا گیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ زندگی اُسے دوبارہ محبت دے کر پھر وہی سزا دینے والی ہے؟
اُس نے پوچھا، “تم اتنے خاموش کیوں ہو؟”
وہ جواب نہ دے سکا۔
اُس نے دوبارہ پوچھا، “کیا ہوا؟”
وہ بڑی مشکل سے بولا، “مجھے تم سے خوف آتا ہے۔”
وہ حیران ہوئی۔
“مجھ سے؟ کیوں؟”
اُس کی آنکھیں بھر آئیں۔
“کیونکہ جس چیز سے انسان سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، اُسے کھونے سے بھی سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔ اور میں ایک بار یہ موت جیسا دکھ سہہ چکا ہوں۔”
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر اُس نے اُس کا ہاتھ تھام لیا۔
“ہر آنے والا جانے کے لیے نہیں آتا۔”
اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
اُسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید معجزے اچانک نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی انسان برسوں ہجر کی آگ میں جلتا ہے، تب کہیں جا کر اُس کے اندر یقین کے لیے جگہ بنتی ہے۔
اُس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اُسے وہ آخری خواب یاد آیا۔
“انتظار کرنا۔”
اور اُس لمحے اُس نے جان لیا کہ محبت ہمیشہ کسی کھوئے ہوئے شخص کو واپس نہیں لاتی۔ کبھی وہ کسی نئے چہرے میں وہی روشنی لے آتی ہے جسے ہم ہمیشہ کے لیے بجھا ہوا سمجھ بیٹھے تھے۔
مگر اس بار اُس نے محبت سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔
صرف آنکھیں بند کیں اور دل میں کہا۔
“اگر یہ بھی ایک معجزہ ہے تو اے خدا، اس بار مجھے دوبارہ ہجر نہ دینا۔”
