(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
وہ شہر کے پرانے حصے میں واقع ایک چھوٹے سے فلاحی ادارے میں ملازم تھا۔ ادارے کا دفتر ایک ایسی حویلی میں تھا جس کی دیواروں پر وقت نے اپنے دستخط کر رکھے تھے۔ چھت کے پنکھے شور بہت کرتے تھے اور ہوا کم دیتے تھے، مگر وہاں بیٹھے لوگ پھر بھی دنیا بدلنے کے منصوبے بناتے رہتے تھے۔
میرا کام حساب کتاب دیکھنا تھا۔ دن بھر رسیدیں، واؤچر، رجسٹر اور فائلیں میرے سامنے پڑی رہتیں۔ لوگوں کی زندگیوں کا حساب بھی عجیب ہوتا ہے؛ کسی کے پاس خواب زیادہ ہوتے ہیں اور پیسے کم، کسی کے پاس پیسے بہت ہوتے ہیں مگر خواب مر چکے ہوتے ہیں۔
اسی دفتر میں ایک دن “رابعہ” آئی۔
وہ کسی بڑے شہر کی پڑھی لکھی لڑکی نہیں لگتی تھی۔ سادہ لباس، معمولی سا پرس، بالوں میں سستی سی کلپ اور آنکھوں میں عجیب سی چمک۔ اس کے پاس ڈگری تھی، مگر تجربہ نہیں تھا۔ اسے کمپیوٹر پر کام سیکھنے کے لیے میرے ساتھ بٹھا دیا گیا۔
پہلے دن اس نے کمپیوٹر آن کیا، اسکرین کو غور سے دیکھا اور پوچھا:
“یہ مشین اتنی دیر سے مجھے کیوں دیکھ رہی ہے؟”
میں ہنس پڑا۔
“مشین تمہیں نہیں دیکھ رہی، تم اسے دیکھ رہی ہو۔”
وہ بھی ہنس دی۔
“تو پھر پہلے اسے بتائیں میں نئی ہوں، کہیں ناراض ہوکر بند نہ ہو جائے۔”
اس دن کے بعد دفتر میں اس کی موجودگی جیسے کسی بند کمرے میں کھلی کھڑکی تھی۔
وہ غلطیاں کرتی، پھر خود ہی اپنی غلطی پر ہنستی۔ کبھی حساب میں ایک صفر زیادہ لگا دیتی، کبھی ایک کم، اور جب میں سر پکڑ کر بیٹھ جاتا تو فوراً کہتی:
“غلطی پیسوں کی ہوئی ہے، نیت کی نہیں۔”
میں کہتا:
“دونوں میں فرق بہت کم رہ جاتا ہے جب حساب لاکھوں کا ہو۔”
وہ فوراً سنجیدہ ہوجاتی:
“تو مجھے سکھا دیں، میں کسی کے پیسوں کے ساتھ غلطی نہیں کروں گی۔”
وہ واقعی سیکھنا چاہتی تھی۔
چند ہی ہفتوں میں اس نے واؤچر، لیجر اور بل بنانا سیکھ لیا۔ اب وہ میرے کام میں ہاتھ بٹاتی تھی۔ میں باہر ہوتا تو دفتر کے حساب کتاب کو سنبھالتی رہتی۔
ایک روز میں واپس آیا تو وہ بڑی فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ کرسی سے اٹھی۔
“دیکھیں! آج پورا حساب میں نے کیا ہے۔”
میں نے فائل دیکھی۔
“ایک غلطی ہے۔”
اس کا چہرہ فوراً لٹک گیا۔
“کہاں؟”
میں نے نشان لگایا۔
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی:
“ایک غلطی ہے تو باقی سب ٹھیک ہے نا؟”
“ہاں۔”
“پھر آج چائے میری طرف سے۔”
میں ہنس دیا۔
“تنخواہ ابھی پہلی بھی نہیں ملی۔”
“چائے کے لیے امیر ہونا ضروری نہیں۔”
وہ جملہ معمولی تھا، مگر جانے کیوں مجھے دیر تک یاد رہا۔
رابعہ ایک متوسط گھر سے تھی۔ والد ریلوے سے ریٹائرڈ تھے۔ پنشن محدود تھی، گھر میں دو چھوٹے بھائی اور ایک بیمار ماں تھی۔ اس کے باوجود وہ اپنے مستقبل کے بارے میں بڑے خواب دیکھتی تھی۔
ایک دن اس نے پوچھا:
“آپ کے خیال میں زندگی میں سب سے بڑی دولت کیا ہے؟”
میں نے کہا:
“پیسہ۔”
وہ زور سے ہنسی۔
“آپ بھی عجیب آدمی ہیں۔”
“تو پھر؟”
“اختیار۔”
“کس بات کا اختیار؟”
وہ کچھ دیر سوچتی رہی۔
“اپنے فیصلے کرنے کا۔”
میں نے پہلی مرتبہ اسے غور سے دیکھا۔
“یہ بات تمہیں کس نے سکھائی؟”
وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
“کسی نے نہیں۔ گھر میں جب بھی کوئی بڑا فیصلہ ہوتا ہے، مجھے صرف اتنا کہا جاتا ہے کہ تم لڑکی ہو، تمہیں کیا معلوم۔”
اس کے لہجے میں شکایت نہیں تھی، صرف ایک تھکن تھی۔
چند ماہ بعد ادارے نے اسے ایک بڑے شہر میں تربیتی کورس کے لیے بھیج دیا۔
واپس آئی تو اس کے پاس قصے بہت تھے۔
وہ بلند عمارتوں، روشن سڑکوں، بڑے دفاتر اور آزاد زندگی کے بارے میں بات کرتی رہی۔
پھر ایک دن اس نے بتایا کہ وہاں اس کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی ہے۔
“کون؟”
“کاروبار کرتا ہے۔”
“شادی شدہ؟”
“نہیں۔”
“کیا کرتا ہے؟”
“اپنی کمپنی ہے۔”
“اور تمہیں پسند کرتا ہے؟”
وہ مسکرائی۔
“کہتا ہے، تم باقی لڑکیوں جیسی نہیں ہو۔”
میں نے کہا:
“یہ جملہ بہت خطرناک ہے۔”
وہ ہنس پڑی۔
“کیوں؟”
“کیونکہ دنیا میں ہر وہ آدمی جو کسی عورت کو خوش کرنا چاہتا ہے، پہلے یہی کہتا ہے۔”
وہ ناراض ہوگئی۔
“آپ کو ہر اچھی چیز میں برائی کیوں نظر آتی ہے؟”
میں نے بات ختم کردی۔
کچھ خوابوں کو دلیل سے نہیں توڑا جا سکتا۔
وقت گزرتا گیا۔
رابعہ کی شادی ہوگئی۔
میں شادی میں نہیں گیا، مگر مبارک باد ضرور دی۔
اس نے جواب میں صرف اتنا لکھا:
“اب میری زندگی بدل جائے گی۔”
میں نے لکھا:
“اللہ کرے بہتر ہو۔”
اس نے لکھا:
“ضرور ہوگی۔”
پھر کئی سال تک اس کی کوئی خبر نہ ملی۔
زندگی اپنے کاموں میں مصروف رہی۔
ایک دن میری میز پر ایک پرانا رجسٹر پڑا تھا۔ اس کے صفحات پلٹتے ہوئے مجھے اس کا نام نظر آیا۔
رابعہ۔
پتہ نہیں کیوں دل میں ایک خیال آیا کہ شاید وہ اب بہت خوش ہوگی۔
اسی شام سوشل میڈیا پر ایک پیغام آیا:
“آپ مجھے بھول گئے؟”
میں نے نام دیکھا۔
رابعہ۔
میں نے فوراً جواب دیا:
“نہیں۔ کہاں ہو؟”
کافی دیر بعد جواب آیا:
“وہیں ہوں جہاں کبھی جانا چاہتی تھی۔”
میں نے لکھا:
“پھر تو خوش ہوگی۔”
اس نے صرف ایک لفظ لکھا:
“نہیں۔”
میں نے سوچا شاید کوئی گھریلو مسئلہ ہوگا۔
پوچھا:
“سب ٹھیک ہے؟”
اس بار جواب بہت دیر بعد آیا۔
“میرے پاس سب کچھ ہے۔”
“تو پھر؟”
“میرے پاس خود میں سے کچھ بھی نہیں بچا۔”
میں اس جملے کو دیر تک دیکھتا رہا۔
اس نے بتایا کہ اس کا شوہر کامیاب کاروباری شخص ہے۔ بڑا گھر، گاڑیاں، بچے، بیرون ملک سفر، مہنگے کپڑے، اچھا حلقہ احباب، سب کچھ ہے۔
“لوگ مجھے دیکھ کر کہتے ہیں کہ تم بہت خوش قسمت ہو۔”
میں نے پوچھا:
“اور تم؟”
“میں آئینے میں خود کو دیکھتی ہوں تو پہچان نہیں پاتی۔”
پھر اس نے آہستہ آہستہ اپنی زندگی کا وہ حصہ کھولا جسے شاید برسوں سے کسی کے سامنے نہیں کھولا تھا۔
“وہ مجھے مارتا نہیں۔”
“گھر سے نکالتا نہیں۔”
“کھانے پینے کی کمی نہیں۔”
“بچوں کا بہت خیال رکھتا ہے۔”
“پھر مسئلہ کیا ہے؟”
کچھ دیر خاموشی رہی۔
پھر جواب آیا:
“وہ مجھے جینے نہیں دیتا۔”
“کیسے؟”
“ہر سانس کا حساب لیتا ہے۔”
“کہاں گئی تھیں؟”
“کس سے بات کی؟”
“فون کیوں بند تھا؟”
“آج تم اتنی خوش کیوں ہو؟”
“یہ کپڑے کس نے پسند کیے؟”
“اس آدمی نے تمہیں سلام کیوں کیا؟”
“تمہیں میری اجازت کے بغیر باہر جانے کی کیا ضرورت تھی؟”
پھر اس نے لکھا:
“میں ایک ایسے گھر میں رہتی ہوں جہاں دروازے بہت ہیں، مگر ایک بھی راستہ باہر نہیں جاتا۔”
میں خاموش ہوگیا۔
کچھ دیر بعد اس کا ایک اور پیغام آیا:
“آپ کو یاد ہے میں کبھی اختیار کو سب سے بڑی دولت کہتی تھی؟”
“ہاں۔”
“میں نے وہ دولت خود اپنے ہاتھوں سے کسی دوسرے کے حوالے کردی۔”
پھر وہ ایک عجیب بات لکھنے لگی۔
“میرے گھر کے پچھلے صحن میں ایک پرانا برگد ہے۔ ہر صبح پرندے اس پر آکر بیٹھتے ہیں۔ میں روز انہیں دیکھتی ہوں۔”
“پھر؟”
“پھر سوچتی ہوں، یہ مجھ سے زیادہ آزاد ہیں۔”
میں نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
“تمہیں اپنے لیے فیصلہ کرنا ہوگا۔”
اس نے جواب دیا:
“فیصلہ؟”
“ہاں۔”
“جن لوگوں نے عمر بھر دوسروں کے فیصلے مانے ہوں، وہ اچانک اپنے لیے فیصلہ کرنا کہاں سے سیکھیں؟”
میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔
کچھ سوال جواب مانگتے ہی نہیں۔
وہ صرف آدمی کے اندر اتر کر وہاں ایک خاموش کمرہ بنا لیتے ہیں۔
کئی ہفتوں تک ہماری بات ہوتی رہی۔
ایک دن اس نے لکھا:
“میں نے آج اپنی بیٹی سے ایک وعدہ کیا ہے۔”
“کیا؟”
“وہ بڑی ہوکر جس زندگی کا انتخاب کرے گی، میں اسے یہ نہیں کہوں گی کہ تم لڑکی ہو، تمہیں کیا معلوم۔”
میں نے پوچھا:
“اور تم؟”
کافی دیر بعد جواب آیا:
“میں ابھی زندہ ہوں۔ شاید یہی کافی ہے کہ اب میں اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنا سیکھوں۔”
اس کے بعد کئی دن اس کا کوئی پیغام نہیں آیا۔
پھر ایک صبح میرے فون پر صرف ایک تصویر آئی۔
ایک چھوٹا سا گملہ تھا۔
اس میں نیم کا ایک ننھا سا پودا لگا ہوا تھا۔
نیچے لکھا تھا:
“کھڑکی کھول دی ہے۔”
میں نے تصویر کو دیر تک دیکھا۔
نہ مجھے معلوم تھا وہ گھر چھوڑ چکی ہے یا نہیں۔
نہ یہ کہ اس کی زندگی واقعی بدل گئی ہے یا نہیں۔
مگر اس ایک جملے نے مجھے یقین دلایا کہ بعض جنگیں گھر سے نکلنے سے پہلے دل کے اندر جیتی جاتی ہیں۔
میں نے جواب دیا:
“اب اسے پانی دیتی رہنا۔”
اس نے لکھا:
“نہیں۔”
“کیوں؟”
“اب میں صرف پودے کو پانی نہیں دوں گی۔”
“پھر؟”
اس کا جواب آیا:
“اپنے اندر بھی ایک باغ اگاؤں گی۔”
میں نے فون بند کردیا۔
باہر صبح اتر رہی تھی۔
سورج ابھی پوری طرح نکلا نہیں تھا، مگر مشرق کی طرف آسمان ہلکا سا روشن ہوچکا تھا۔
میں نے سوچا، شاید آزادی بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔
پہلے آسمان پر روشنی کی ایک باریک لکیر بنتی ہے۔
پھر آدمی کو یقین آنے لگتا ہے کہ رات ہمیشہ کے لیے نہیں تھی۔
اور کبھی کبھی پوری زندگی بدلنے کے لیے صرف اتنا کافی ہوتا ہے کہ کوئی عورت پہلی مرتبہ اپنے ہی ہاتھ سے اپنی کھڑکی کھول دے۔
