اپنی روح کو دوسروں کی خامیوں کا قبرستان نہ بنائیں

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کو انسانوں کے درمیان بھیجا گیا ہے، فرشتوں کے درمیان نہیں۔ اس لیے جو شخص ہر وقت دوسروں کی کمزوریوں کا حساب رکھتا ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنی زندگی سے وہ وقت چھین لیتا ہے جو اسے اپنے اندر روشنی پیدا کرنے کے لیے ملا تھا۔ ہر انسان اپنی سمجھ، اپنے تجربے، اپنے زخموں اور اپنے شعور کی حد تک درست ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ کسی کی نادانی پر حیران ہونا آسان ہے، مگر یہ دیکھنا بہت مشکل کہ شاید ہماری دانائی بھی کسی دوسرے کی نظر میں نادانی ہو۔
دوسروں کی خامیوں پر مسلسل کڑھنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنے ہی دل میں آگ جلائے اور توقع رکھے کہ دھواں دوسرے کی آنکھوں میں جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جس عیب سے سب سے زیادہ الجھتا ہے، وہی عیب اس کے اندر ایک نیا شور پیدا کر دیتا ہے۔ کسی کی تلخی آپ کے اندر تلخی پیدا کر دے تو نقصان اس شخص کا کم اور آپ کا زیادہ ہے۔ کسی کی نادانی آپ کا سکون چھین لے تو اس نے آپ سے صرف ایک لمحہ نہیں لیا، آپ نے اپنی رضامندی سے اسے اپنے اندر جگہ دے دی۔
زندگی کا کمال یہ نہیں کہ آپ ایسے لوگوں کے درمیان رہیں جو کبھی آپ کو آزمایں ہی نہیں، کمال یہ ہے کہ آپ آزمائے جانے کے باوجود اپنے مزاج کی پاکیزگی بچا لے جائیں۔ بعض لوگ ہماری زندگی میں سبق بن کر آتے ہیں، بعض آئینہ بن کر اور بعض امتحان بن کر۔ ہر شخص کو بدل دینا ہمارے اختیار میں نہیں، مگر کسی کے رویے کو اپنے باطن کا موسم بنا لینا یا نہ بنانا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔
برداشت کا مطلب یہ نہیں کہ غلط کو درست مان لیا جائے؛ برداشت کا مطلب یہ ہے کہ غلطی دیکھ کر بھی اپنے اندر کا انسان مرنے نہ دیا جائے۔ جہاں اصلاح ضروری ہو وہاں حکمت سے بات کیجیے، جہاں خاموشی بہتر ہو وہاں خاموش رہیے اور جہاں معاف کرنا آپ کے دل کو آزاد کر سکتا ہو وہاں معافی کو کمزوری نہ سمجھیے۔ ہر جنگ لڑنا بہادری نہیں؛ بعض جنگوں سے باوقار انداز میں گزر جانا ہی اصل فتح ہوتی ہے۔
اپنی ذہنی توانائی بہت قیمتی ہے۔ اسے لوگوں کے عیب گننے، ان کے جملوں کو بار بار یاد کرنے اور ان کے رویوں کا اپنے اندر پوسٹ مارٹم کرنے میں ضائع نہ کریں۔ دنیا کو آپ کے غصے سے زیادہ آپ کے کردار کی ضرورت ہے۔ آپ کے پاس جتنی زندگی ہے، اسے دوسروں کی اصلاح کے شور میں مت کھو دیجیے۔ کچھ وقت اپنے اندر کے اندھیرے کو دیکھنے کے لیے بھی رکھیے، کیونکہ انسان دوسروں کے چراغ گنتے گنتے اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے اپنے ہاتھ میں دیا بجھ رہا ہے۔
اور شاید زندگی کی سب سے بڑی دانائی یہی ہے کہ ہر شخص کو اس کی نادانی سمیت دیکھیں، مگر اس نادانی کو اپنے سکون کی قیمت نہ بننے دیں۔ لوگوں کو ان کی سطح پر رہنے دیجیے اور خود اپنے ظرف کی بلندی پر قائم رہیے۔ کیونکہ دوسروں سے جیتنے والا انسان صرف ایک مقابلہ جیتتا ہے، مگر اپنے ردِعمل پر قابو پانے والا پوری زندگی جیت لیتا ہے۔
آخرکار انسان کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ دوسروں کے عیب دیکھنے سے بچ جائے، بلکہ اس میں ہے کہ عیب دیکھ لینے کے بعد بھی اس کا دل عیب دار نہ ہو۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top