اپنے باطن کی چابی کسی کو نہ دیں

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی میں اضطراب کا آ جانا شکست نہیں، انسان ہونے کی علامت ہے۔ دل پر بوجھ اترے، کسی کا رویہ چبھ جائے، کسی کا لفظ اندر تک اتر جائے یا کسی کی بے اعتنائی رات کی نیند چرا لے تو اس احساس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ احساسات ہمارے اندر کے موسم ہیں، موسم ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے؛ مگر یہ ضرور ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم طوفان کے دوران اپنی کشتی کس سمت موڑتے ہیں۔ اصل بحران سٹریس نہیں، اصل بحران یہ ہے کہ ہم اپنی باگ کسی دوسرے کے ہاتھ میں دے دیں۔
ہم اکثر اپنی زندگی کی سب سے قیمتی طاقت ایک عجیب طریقے سے ضائع کرتے ہیں: کوئی شخص ایک جملہ کہتا ہے اور ہم اسے کئی دن اپنے ذہن میں دہراتے رہتے ہیں؛ کوئی نظر انداز کرتا ہے اور ہم اپنے وجود کی قیمت پر سوال اٹھانے لگتے ہیں؛ کوئی غلط سمجھتا ہے اور ہم اسے درست ثابت کرنے کی جدوجہد میں اپنے سکون کو غلط ثابت کر بیٹھتے ہیں۔ غور کیجیے، دوسرے نے شاید چند لمحوں کے لیے آپ کو تکلیف دی تھی، مگر باقی تکلیف آپ خود کو دیتے رہے۔ زخم کسی اور نے لگایا تھا، مگر اسے کریدتے رہنے کا کام ہم نے سنبھال لیا۔
یہیں سے ذہنی آزادی کا آغاز ہوتا ہے: ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر رویے کو سمجھنا ضروری نہیں اور ہر غلط فہمی کو دور کرنا بھی ضروری نہیں۔ بعض اوقات انسان کو اپنی صفائی پیش کرنے سے زیادہ اپنی زندگی آگے بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو شخص آپ کو غلط سمجھنا چاہتا ہے، اسے درست فہم کا تحفہ دینا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ لوگوں کے ذہن آپ کی ملکیت نہیں کہ ان میں اپنی پسند کا خیال نصب کرتے پھریں۔
اور پھر ایک دن انسان کو یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ میری خوشی کی چابی آخر کس کی جیب میں ہے؟ اگر کسی کی ایک بات مجھے خوش کر سکتی ہے اور اسی شخص کی ایک بات مجھے توڑ سکتی ہے تو پھر میری داخلی آزادی کہاں گئی؟ جس شخص کے پاس آپ کے موڈ، سکون اور خود اعتمادی کا بٹن ہو، آپ نے اسے اختیار نہیں دیا ہوتا، آپ نے اسے اپنی کمزوری سونپی ہوتی ہے۔
اس کا مطلب بے حس ہونا نہیں۔ بے حسی انسان کو مضبوط نہیں بناتی، صرف پتھر بناتی ہے۔ مضبوط انسان وہ ہے جو محسوس کرتا ہے مگر ہر احساس کے پیچھے بہہ نہیں جاتا؛ سنتا ہے مگر ہر آواز کو اپنے اندر گھر نہیں دیتا؛ دکھتا ہے مگر اپنے دکھ کو اپنی شناخت نہیں بننے دیتا۔ دل کو زندہ رکھیے، مگر اس کے دروازے پر پہرے دار بھی رکھیے۔
اپنی قدر کا پیمانہ لوگوں کے ہاتھ میں رکھ دینا خود پر ظلم ہے۔ دنیا آج آپ کو سراہ سکتی ہے اور کل آپ کو نظر انداز کر سکتی ہے۔ آج کوئی آپ کو غیر معمولی کہے گا، کل کوئی معمولی سمجھ لے گا۔ اگر آپ نے اپنی قیمت دوسروں کی رائے سے طے کرنی ہے تو آپ کی خودی ہر آنے والے شخص کے ہاتھ میں ایک نیا نرخ نامہ بن جائے گی۔ اپنی قدر اس شخص سے مت پوچھیے جو آپ کو دیکھنے کے لیے بھی اپنے تعصب کا چشمہ اتارنے پر تیار نہیں۔
کسی کی تحقیر اس کی زبان سے پہلے اس کے اپنے اندر کا پتا دیتی ہے۔ جو شخص دوسروں کو چھوٹا کرکے خود کو بڑا محسوس کرتا ہے، وہ دراصل اپنے اندر کی کسی کمی پر پردہ ڈال رہا ہوتا ہے۔ اس لیے ہر تیر کو اپنے سینے میں جگہ دینا ضروری نہیں۔ کچھ الفاظ بولنے والے کے اندر ہی دفن رہنے چاہییں۔ آپ کا ظرف یہ نہیں کہ آپ ہر حملے کا جواب دے سکتے ہیں؛ آپ کا ظرف یہ ہے کہ آپ ہر حملے کو جواب کے قابل نہیں سمجھتے۔
فاصلہ بھی ایک حکمت ہے۔ ہر رشتہ نبھانا لازم نہیں، ہر مجلس میں بیٹھنا لازم نہیں اور ہر شخص کو اپنی باطنی دنیا تک رسائی دینا تو بالکل بھی لازم نہیں۔ بعض لوگوں سے جسمانی فاصلہ ممکن نہیں ہوتا، مگر ذہنی فاصلہ ہمیشہ ممکن ہوتا ہے۔ وہ سامنے بیٹھے ہوں اور پھر بھی آپ کے اندر ان کے لیے کوئی کرسی نہ ہو۔ کسی کو اپنی زندگی سے نکالنے کا سب سے پُرسکون طریقہ یہ ہے کہ پہلے اسے اپنے ذہن سے بے دخل کیا جائے۔
لیکن اس سارے سفر میں ایک بار اپنے اندر بھی اترنا چاہیے۔ کیا ہم واقعی اپنے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں؟ ہم دوسروں سے محبت کے تقاضے کرتے ہیں مگر اپنے تھکے ہوئے وجود کو آرام نہیں دیتے۔ دوسروں کے دکھ پر فوراً پگھل جاتے ہیں مگر اپنے زخم کو برسوں نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ دوسروں کو معاف کرنے کی تلقین کرتے ہیں مگر خود کو ایک پرانی غلطی کی سزا دیتے رہتے ہیں۔ شاید خود سے تعلق کی پہلی شرط یہی ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بھی وہی شفقت دے جس کا وہ دوسروں سے انتظار کرتا ہے۔
اپنے لیے کافی ہونا خود غرضی نہیں؛ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دوسروں سے محبت تو کرتا ہے مگر اپنی تکمیل ان کے ہاتھ میں نہیں دیتا۔ پھر محبت محتاجی نہیں رہتی، تعلق قید نہیں رہتا اور تنہائی سزا نہیں رہتی۔
زندگی کا بڑا حصہ ان چیزوں کے پیچھے ضائع ہو جاتا ہے جنہیں ہم بدل ہی نہیں سکتے: کسی کی رائے، کسی کا رویہ، کسی کی ترجیح، کسی کی زبان اور کسی کے دل میں اپنے لیے موجود خیال۔ دانش مندی یہ ہے کہ انسان اپنی طاقت کا رخ ان چیزوں کی طرف موڑ دے جو واقعی اس کے اختیار میں ہیں: اپنا کردار، اپنا ردِعمل، اپنی ترجیحات، اپنی توجہ اور اپنے باطن کا سکون۔
کیونکہ دنیا میں سب سے خطرناک قید خانہ کوئی دیوار نہیں بناتی؛ یہ وہ ذہن بناتا ہے جس کی چابی ہم غصے میں کسی دوسرے کے ہاتھ تھما دیتے ہیں۔
اور ذہنی آزادی کا آخری راز شاید یہی ہے:
لوگوں کو یہ حق دیجیے کہ وہ آپ کے بارے میں جو چاہیں سوچیں، مگر اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق کبھی ان کے حوالے نہ کیجیے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top