رخصت کے بعد کا وجود

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی شاید ایک ایسی کتاب ہے جس کے بعض صفحات ہم خود نہیں پلٹتے، وقت ہمارے ہاتھ سے پلٹوا دیتا ہے، اور جب وہ صفحہ سامنے آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جس واقعے کو گزر چکا سمجھ رہے تھے وہ دراصل ہمارے اندر کہیں ابھی تک جاری تھا۔ انسان بھی کتنا عجیب مسافر ہے، وہ راستے بدل لیتا ہے مگر راستوں سے ملنے والے معنی نہیں بدل پاتا، شہر چھوٹ جاتے ہیں مگر بعض گلیاں دل کے اندر اپنی جگہ قائم رکھتی ہیں، چہرے نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں مگر ان کی آواز کبھی کبھی خاموشی کے اندر اتنی صاف سنائی دیتی ہے جیسے کسی بند کمرے میں اچانک کھڑکی کھل گئی ہو۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں اس طرح آتے ہیں جیسے شام کے آسمان پر کوئی پرندہ چند لمحوں کے لیے اپنا نقش چھوڑ جائے، مگر اس کے اڑ جانے کے بعد بھی نگاہ دیر تک اسی سمت ٹھہری رہتی ہے۔ ان کا تعلق صرف ہمارے ساتھ گزرے ہوئے وقت سے نہیں ہوتا، وہ ہمارے دیکھنے کا انداز بدل دیتے ہیں، ہمیں معمولی چیزوں کے اندر چھپی ہوئی معنویت دکھا جاتے ہیں، اور پھر جب وہ نہیں ہوتے تو دنیا وہی رہتی ہے مگر ہماری نظر وہ نہیں رہتی۔ ایک پیالی چائے محض چائے نہیں رہتی، کسی گیت کی ایک سطر محض سطر نہیں رہتی، بارش کی خوشبو محض خوشبو نہیں رہتی؛ ہر چیز اپنے اندر کسی غیر موجود شخص کا ایک چھوٹا سا دروازہ رکھ لیتی ہے۔
شاید جدائی کا اصل دکھ کسی انسان کا ہم سے دور ہو جانا نہیں بلکہ یہ دریافت کرنا ہے کہ اس کے جانے کے بعد دنیا میں ایسی بے شمار چیزیں موجود ہیں جو اسے ہمارے بغیر بھی یاد رکھتی ہیں۔ ایک پرانی کتاب میں دبا ہوا کاغذ، الماری کے کسی کونے میں پڑی ہوئی معمولی سی چیز، کسی خاص لہجے میں بولا جانے والا لفظ، کسی موسم کا اچانک بدلتا ہوا مزاج، یہ سب مل کر اس شخص کی ایک ایسی غیر مرئی تصویر بناتے رہتے ہیں جسے وقت مٹا نہیں پاتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شخص دنیا سے نہیں گیا، صرف اپنی شکل بدل کر ہمارے گرد پھیل گیا ہے۔
پھر انسان سمجھتا ہے کہ یاد ماضی کا بوجھ نہیں، حال کی ایک پوشیدہ زبان ہے۔ ہم جنہیں بھولنے کی کوشش کرتے ہیں وہ کبھی کبھی ہماری شخصیت کے ان حصوں میں زندہ رہتے ہیں جنہیں ہم اپنا سمجھتے ہیں۔ کسی کی شفقت ہمارے لہجے میں آ جاتی ہے، کسی کی نصیحت ہمارے فیصلوں میں، کسی کی محبت ہماری دعا میں اور کسی کا دکھ ہماری خاموشی میں۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ انسان دوسرے انسان کو صرف یاد نہیں رکھتا، کبھی کبھی اسے اپنے کردار میں جاری رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کچھ جدائیاں انسان کو توڑنے کے بجائے اسے گہرا کر دیتی ہیں۔ دکھ اگر صرف آنکھ تک محدود رہے تو آنسو بن جاتا ہے، مگر جب دل کی تہہ میں اتر جائے تو بصیرت بننے لگتا ہے۔ آدمی دوسروں کے زخم پہچاننے لگتا ہے کیونکہ وہ اپنے اندر کسی پرانے درد کی دھڑکن سن چکا ہوتا ہے۔ وہ کسی خاموش شخص کے پاس بیٹھنے کا ہنر سیکھ لیتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ ہر خاموشی خالی نہیں ہوتی، بعض خاموشیوں میں پوری پوری زندگیاں دفن ہوتی ہیں۔
اور شاید انسان کی پختگی کا آغاز بھی وہیں سے ہوتا ہے جہاں وہ زندگی سے ہر چیز واپس مانگنا چھوڑ دیتا ہے۔ اسے سمجھ آ جاتی ہے کہ ہر رشتہ اپنی آخری منزل تک پہنچنے کے لیے نہیں ہوتا، کچھ تعلق صرف اتنا سفر کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے بارے میں کوئی ضروری بات بتا سکیں۔ کچھ لوگ ہمارے ساتھ رہنے نہیں آتے، وہ ہمیں بدلنے آتے ہیں؛ کچھ محبتیں ہمارے نصیب میں ٹھہرنے کے لیے نہیں ہوتیں، وہ ہمارے اندر محبت کی صلاحیت جگانے کے لیے آتی ہیں؛ کچھ ملاقاتیں عمر بھر کی رفاقت نہیں بنتیں، مگر پوری عمر کی سمجھ بن جاتی ہیں۔
انسان کا سب سے بڑا فریب شاید یہ ہے کہ وہ دوام کو موجودگی میں تلاش کرتا ہے، حالانکہ بعض چیزیں اپنے جسمانی وجود سے نکل کر زیادہ دیر تک زندہ رہتی ہیں۔ خوشبو پھول سے جدا ہو کر بھی پہچانی جاتی ہے، روشنی سورج سے دور ہو کر بھی راستہ دکھاتی ہے اور دعا اپنے کہنے والے کے ہونٹوں سے نکل کر کسی دوسرے کے مقدر میں جا بیٹھتی ہے۔ اسی طرح محبت بھی ہمیشہ ساتھ بیٹھنے کا نام نہیں؛ کبھی وہ کسی کو جانے دینے کے بعد اس کے لیے دل میں خیر کا چراغ جلائے رکھنے کا نام ہوتی ہے۔
ہم اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنے کے لیے بے شمار دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، مگر آخر میں احساس ہوتا ہے کہ اصل دولت وہ نہیں جو ہمارے پاس جمع رہی بلکہ وہ ہے جو ہمارے وجود سے گزر کر دوسروں تک پہنچی۔ کسی کے خوف کو اطمینان میں بدل دینا، کسی کے تنہا دن میں چند لمحوں کی رفاقت بن جانا، کسی کے شکستہ اعتماد پر ہاتھ رکھ کر اسے دوبارہ اپنے آپ پر یقین دلا دینا، یہ وہ سرمایہ ہے جس کا حساب کسی دفتر میں نہیں لکھا جاتا مگر انسان کی روح اسے کبھی فراموش نہیں کرتی۔
شاید اسی لیے زندگی کا اختتام دراصل ہمارے وجود کا اختتام نہیں ہوتا؛ آدمی اپنی عمر سے کہیں زیادہ دیر تک ان لوگوں کے اندر زندہ رہتا ہے جنہیں اس نے چھوا ہوتا ہے۔ کسی کے الفاظ میں، کسی کے رویے میں، کسی کے بچوں کی تربیت میں، کسی اجنبی کے ساتھ کی گئی نرمی میں، کہیں بہت دور کوئی ایسا شخص بھی ہو سکتا ہے جسے ہم جانتے تک نہیں مگر ہماری کسی پرانی مہربانی نے اس کے اندر دنیا کو تھوڑا سا بہتر سمجھنے کا حوصلہ پیدا کیا ہو۔
تب زندگی کا مفہوم یکایک بدل جاتا ہے۔
ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فنا ہونے سے بچنے کا راستہ ہمیشہ یادگاریں تعمیر کرنا نہیں، انسانوں کے اندر اچھائی چھوڑ جانا ہے۔ پتھر پر لکھا ہوا نام موسموں سے لڑ سکتا ہے، مگر کسی دل میں رکھی ہوئی محبت وقت سے لڑنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتی؛ وہ وقت کے ساتھ اپنا لباس بدلتی رہتی ہے اور ہر نئی نسل میں کسی نئے چہرے سے نمودار ہو جاتی ہے۔
اور شاید یہی انسان کی سب سے خوب صورت بقا ہے کہ وہ اپنے جسم کے ساتھ نہیں، اپنے اثر کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔
کچھ لوگ اس لیے نہیں مرتے کہ ان کی سانس باقی رہتی ہے، بلکہ اس لیے زندہ رہتے ہیں کہ ان کی محبت کسی دوسرے انسان کے رویے میں سانس لیتی رہتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top