(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کہتے ہیں، ایک شہر تھا جس کا نام کسی نقشے میں درج نہیں تھا۔
وہاں جانے کے لیے راستہ نہیں، خواہش درکار تھی۔
جو شخص جس چیز کو سب سے زیادہ چاہتا، شہر اس کے سامنے وہی دروازہ کھول دیتا۔ دولت چاہنے والے کے لیے خزانے تھے، شہرت کے طالب کے لیے ہزاروں آنکھیں، اقتدار کے بھوکے کے لیے تخت، اور محبت کے پیاسے کے لیے ایسے چہرے جو کبھی اس سے بے وفا نہ ہوتے۔
لوگ اسے جنت سمجھتے تھے۔
پھر ایک دن ایک جوگی وہاں پہنچا۔
اس نے عمر بھر خواہش سے جنگ کی تھی۔ اسے یقین تھا کہ نجات خواہش کے مر جانے میں ہے۔ اس نے بہت کچھ چھوڑا، بہت کچھ جھیلا، بہت کچھ دبایا۔ آخر ایک صبح اسے محسوس ہوا کہ اس کے اندر کوئی خواہش باقی نہیں رہی۔
وہ مسکرایا۔
پھر اچانک اس کے اندر ایک آخری خواہش نے سر اٹھایا:
“کاش میری کوئی خواہش باقی نہ رہے۔”
وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔
اس نے پہلی بار جانا کہ خواہش کو قتل کرنے کی خواہش بھی خواہش ہے۔
اور شاید انسان کا سب سے خطرناک غرور یہی ہے کہ وہ اپنے نفس سے لڑتے لڑتے یہ سمجھ بیٹھے کہ اب وہ نفس سے آزاد ہو چکا ہے۔
جوگی شہر میں داخل ہو گیا۔
وہاں ایک عجیب منظر تھا۔
لوگ خواہشیں پوری کروا کر تھک گئے تھے۔
جس نے کل محل مانگا تھا، آج محل میں گھٹن محسوس کر رہا تھا۔ جس نے شہرت مانگی تھی، وہ تنہائی خرید رہا تھا۔ جس نے دولت جمع کی تھی، اسے نیند کے لیے سکون میسر نہ تھا۔
شہر میں ہر چیز ملتی تھی، مگر کسی چیز کا مل جانا اسے قیمتی نہیں رہنے دیتا تھا۔
جوگی نے ایک بوڑھے سے پوچھا:
“یہ لوگ خواہشوں سے نجات کیوں نہیں لیتے؟”
بوڑھا ہنسا۔
“تم بھی تو یہی کرنے آئے ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ خواہشوں کو بھوگ کر تھک رہے ہیں اور تم انہیں مار کر۔”
جوگی چونکا۔
بوڑھے نے کہا:
“خواہش دشمن نہیں، مسافر ہے۔ اسے راستہ چاہیے۔ تم نے اسے قید کر دیا، انہوں نے اسے بادشاہ بنا دیا۔ دونوں نے اسے سمجھا نہیں۔”
جوگی نے پہلی بار شہر کو غور سے دیکھا۔
وہاں ایک ماں اپنے بچے کے لیے روٹی مانگ رہی تھی۔
ایک نوجوان علم کی خواہش میں کتابیں ڈھونڈ رہا تھا۔
ایک فن کار خوب صورتی کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
ایک بیمار شخص صحت کی دعا کر رہا تھا۔
ایک بوڑھی عورت اپنے بچھڑے ہوئے بیٹے کو دیکھنے کی تمنا میں آنکھیں دروازے پر لگائے بیٹھی تھی۔
جوگی کے اندر کچھ پگھلا۔
اس نے سوچا اگر خواہش ہی برائی ہے تو زندگی کی پہلی پکار بھی برائی ہے۔
بھوک کیا ہے؟
زندہ رہنے کی خواہش۔
علم کیا ہے؟
جاننے کی خواہش۔
محبت کیا ہے؟
کسی دوسرے وجود کو اپنے وجود سے معنی دینے کی خواہش۔
اور دعا؟
شاید خواہش کا وہ مقام جہاں انسان اپنی خواہش کو اپنے خالق کے سپرد کرنا سیکھتا ہے۔
اسی لمحے اسے سمجھ آیا کہ مسئلہ خواہش کا ہونا نہیں، خواہش کا انسان کا مالک بن جانا ہے۔
وہ شہر سے باہر نکل آیا۔
مگر اس بار اس کے قدم فرار کے نہیں تھے۔
اس نے پیچھے مڑ کر شہر کو دیکھا اور مسکرا دیا۔
اب اسے معلوم ہو چکا تھا کہ خواہش سے بھاگنے والا بھی اس کا اسیر ہو سکتا ہے اور خواہش کے پیچھے بھاگنے والا بھی۔
آزادی کہیں درمیان میں نہیں تھی۔
آزادی وہاں تھی جہاں انسان خواہش کو دیکھ سکے، سمجھ سکے، پرکھ سکے، پھر اسے اپنے سے بڑا ہونے سے روک دے۔
اس دن جوگی نے اپنی تپسیا ترک نہیں کی۔
اس نے صرف اس کی سمت بدل دی۔
اب وہ خواہش کو ختم نہیں کرتا تھا؛
اسے پاکیزہ مقصد عطا کرتا تھا۔
اب وہ دنیا سے الگ ہونے کی کوشش نہیں کرتا تھا؛
دنیا کے بیچ رہ کر اپنے اندر کو بکھرنے سے بچاتا تھا۔
لوگوں نے پوچھا:
“تمہیں نروان مل گیا؟”
وہ ہنس پڑا۔
“نہیں۔ مجھے زندگی مل گئی ہے۔”
اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی دریافت تھی۔
کہ خالق نے انسان کو خواہش سے خالی نہیں بنایا؛
اسے خواہش کے ساتھ بھی انتخاب دیا ہے۔
خواہش اگر نفس کے ہاتھ میں ہو تو زنجیر ہے،
ضمیر کے ہاتھ میں ہو تو راستہ،
اور خدا کے سپرد ہو جائے تو دعا۔
کہتے ہیں، اس کے بعد وہ جوگی کسی ویرانے میں نہیں بیٹھا۔
وہ بازاروں میں دکھائی دیتا تھا، بچوں کے ساتھ ہنستا تھا، بیماروں کے پاس بیٹھتا تھا، کتابیں پڑھتا تھا، روٹی کماتا تھا، محبت کرتا تھا اور کبھی کبھی کسی خواہش کے پورا نہ ہونے پر اداس بھی ہو جاتا تھا۔
لوگ حیران ہوتے:
“یہ کیسا جوگی ہے؟”
وہ کہتا:
“جوگی وہ نہیں جو زندگی سے نکل جائے؛
جوگی وہ ہے جو زندگی کے اندر رہ کر زندگی کو اپنا خدا نہ بننے دے۔”
اور شہرِ خواہش؟
وہ آج بھی آباد ہے۔
شاید وہ کسی دور ملک میں نہیں۔
شاید وہ ہمارے اندر ہی بسا ہوا ہے۔
اور شاید اصل تپسیا یہ نہیں کہ ہم خواہش سے خالی ہو جائیں۔۔
بلکہ یہ ہے کہ ہماری خواہشیں ہمیں خالی نہ کر دیں۔
