عدم کا پرتو، نور کی سحر

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

رات کا سب سے گہرا پہر تھا جب وجود کی طنین اچانک بجنا بند ہو گئی۔ یوں لگا جیسے وقت نے اپنی سانس روک لی ہو اور کائنات نے ایک لمحے کے لیے اپنے پھیلتے ہوئے دامن کو سمیٹ لیا ہو۔ کمرے میں پھیلی خاموشی کسی پرانے قبرستان کی دھوپ جیسی تھی، بے آواز، بوجھل اور جمود زدہ۔
ساور پلنگ پر ساکت لیٹا تھا، مگر اس کے اندر کا مسافر ابھی بیدار تھا۔ وہ اپنے ہی جسم کو دیکھ رہا تھا جو ایک اتارے ہوئے پرانے لباس کی طرح بے جان پڑا تھا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ جس جسم کو وہ ساری عمر اپنا سمجھتا رہا، وہ شاید کبھی اس کا تھا ہی نہیں۔ وہ تو محض ایک راستہ تھا، ایک عارضی ٹھکانہ، جس سے گزر کر کوئی نامعلوم مسافر کہیں اور روانہ ہو جاتا ہے۔
“کیا یہ ختم ہو گیا؟”
اس نے اپنے برابر بیٹھی مہرو سے پوچھا۔ مہرو اس کے بے حس ہاتھ کو اپنی دونوں ہتھیلیوں میں تھامے رو رہی تھی۔
مہرو نے سر نہیں اٹھایا، لیکن اس کی سانسوں کی تھرتھراہٹ نے جواب دے دیا۔
“مجھے چھو کر دیکھو، مہرو۔”
ساور کی آواز خلا میں گونجی۔
“اگر میں نہیں ہوں تو یہ سوال کون کر رہا ہے؟”
مہرو نے آہستہ سے اپنے آنسو پونچھے اور خالی فضا میں دیکھتے ہوئے بولی:
“تجھ سے بچھڑنے کا مطلب تیرے مادے کا منتشر ہونا ہے، ساور، تیرے ہونے کا مٹ جانا نہیں۔ درخت جب سوکھ جاتا ہے تو اس کی چھاؤں نہیں مرتی۔ وہ ان لوگوں کی یادوں میں منتقل ہو جاتی ہے جنہوں نے کبھی اس کے سائے تلے سکون پایا تھا۔ کچھ وجود مٹی میں مل کر ختم نہیں ہوتے، وہ دوسروں کے اندر تقسیم ہو جاتے ہیں۔ تو بھی اب ہڈیوں اور گوشت کے حصار سے نکل کر ان خیالوں میں ڈھل چکا ہے جو تو نے دوسروں کے دلوں میں بوئے تھے۔”
ساور کچھ دیر خاموش رہا۔
پھر بولا:
“مگر یہ کیسا وجود ہے جس کا مجھے خود احساس نہیں؟ اگر میں سوچ سکتا ہوں مگر کچھ چھو نہیں سکتا، دیکھ سکتا ہوں مگر کوئی اشارہ نہیں بھیج سکتا تو پھر میرا مرکز کہاں ہے؟ میں کہاں ہوں، مہرو؟”
مہرو نے دھیرے سے مسکرا کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
“تیرا مرکز اب کسی ایک نقطے پر نہیں رہا۔”
وہ ذرا رکی۔
“جب چراغ بجھتا ہے تو روشنی مر نہیں جاتی، صرف اس کی صورت بدل جاتی ہے۔ شعلہ اپنی جگہ چھوڑ کر اندھیرے میں ایک یاد بن جاتا ہے۔ اور بعض اوقات یاد بھی اتنی روشن ہوتی ہے کہ برسوں بعد کسی اجنبی دل کا راستہ دکھا دیتی ہے۔”
ساور خاموشی سے اسے سنتا رہا۔
مہرو نے کہا:
“تیرا ادراک اب بٹ چکا ہے۔ جو درد تو نے اپنی تحریروں میں لکھا تھا، وہ اس وقت دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے ایک تنہا شخص کی آنکھ کے آنسو میں چمک رہا ہے۔ جو لفظ تو نے کسی شکستہ دل کے لیے لکھے تھے، شاید وہ آج کسی دوسرے انسان کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دے رہے ہوں۔ تیرے حصے کا کرب کہیں جاگ رہا ہے، تیری محبت کہیں سانس لے رہی ہے اور تیری آواز شاید کسی ایسے شخص کے اندر بول رہی ہے جس سے تو کبھی ملا بھی نہیں۔”
ساور کے وجود میں ایک لرزش سی پیدا ہوئی۔
“تو کیا انسان مرنے کے بعد دوسروں میں زندہ رہتا ہے؟”
مہرو نے کہا:
“شاید انسان اپنی ذات میں کبھی مکمل طور پر پیدا ہی نہیں ہوتا۔ وہ دوسروں کے دلوں میں تھوڑا تھوڑا جنم لیتا رہتا ہے۔ کسی کے لیے ایک لفظ بن کر، کسی کے لیے ایک دعا بن کر، کسی کے لیے ایک یاد بن کر اور کسی کے لیے محض ایک لمحے کی مہربانی بن کر۔”
“تو کیا میں کبھی دوبارہ اکٹھا نہیں ہو سکتا؟”
ساور نے گہری اداسی سے پوچھا۔
“کیا میری ذات کا یہ پھیلاؤ مجھے ہمیشہ کے لیے گمنامی کی دھند میں بکھیر دے گا؟”
مہرو نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ کائنات کے لاتعداد ستارے اندھیرے کی چادر پر یوں جگمگا رہے تھے جیسے عدم کے سینے پر نور کے نقطے کسی نامعلوم زبان میں کوئی راز لکھ رہے ہوں۔
“مادہ کبھی ضائع نہیں ہوتا، ساور۔ کائنات اپنے عناصر کو سنبھال کر رکھتی ہے۔ جو کچھ بکھرتا ہے وہ کسی نہ کسی صورت میں پھر جمع ہوتا ہے۔ شاید یہی کائنات کا خاموش اصول ہے۔”
وہ مسکرائی۔
“یہ جو تیری سوچ کی تابانی تھی، یہ جو تیرے اندر کی باریک بینی اور محبت تھی، یہ سب بھی کسی نہ کسی صورت میں محفوظ ہے۔ شاید کسی غیبی خانے میں، شاید کسی ایسے حافظے میں جس تک ہماری رسائی نہیں۔ وقت آئے گا جب یہ منتشر ذرات کسی اور وجود کی صورت میں اکٹھے ہوں گے، کسی نئے روپ میں، کسی نئے نام کے ساتھ۔ مگر اس نئی شروعات میں پرانی داستان کا صفحہ مٹ چکا ہو گا تاکہ زندگی تجھے ایک بار پھر حیران کر سکے۔”
ساور نے پہلی بار اپنے وجود کو ہلکا محسوس کیا۔
“اور اگر مجھے کچھ یاد نہ رہا تو؟”
مہرو نے جواب دیا:
“یادیں ہمیشہ ضروری نہیں ہوتیں، ساور۔ بعض حقیقتیں یادداشت سے نہیں، فطرت سے منتقل ہوتی ہیں۔ ہو سکتا ہے تو کسی نئی زندگی میں کسی اجنبی شخص کے آنسو دیکھ کر بے سبب اداس ہو جائے۔ کسی زخمی پرندے کو دیکھ کر تیرے ہاتھ خودبخود اس کی طرف بڑھ جائیں۔ کسی مظلوم کی آواز سن کر تیرے اندر کوئی پرانا درد جاگ اٹھے۔ تب سمجھنا کہ ماضی مرا نہیں تھا، صرف نام بدل کر تیرے اندر واپس آ گیا ہے۔”
ساور کچھ کہنا چاہتا تھا مگر الفاظ اس کے وجود سے پہلے ہی روشنی میں تحلیل ہو گئے۔
پھر اس کا وجود مہرو کے گرد ایک شفاف پرتو کی طرح پھیل گیا۔
“جب تک وہ نیا ساحل نہیں ملتا، مہرو… مجھے تلاش کرنا۔”
مہرو نے نم آنکھوں سے پوچھا:
“کہاں ڈھونڈوں تجھے؟”
ساور کی آواز اب پہلے سے زیادہ دور اور پہلے سے زیادہ قریب تھی۔
“مجھے ان ہاتھوں کے لمس میں ڈھونڈنا جو کسی کا بوجھ اٹھاتے ہوئے نہیں ہچکچاتے۔ مجھے ان لفظوں کی سچائی میں ڈھونڈنا جو کسی مظلوم کے حق میں بغیر کسی خوف کے بولے جائیں۔ مجھے اس آنکھ میں تلاش کرنا جو کسی اجنبی کے دکھ پر بھیگ جائے۔ مجھے اس دعا میں سننا جو کسی ایسے شخص کے لیے مانگی جائے جسے دعا مانگنے والا جانتا تک نہ ہو۔”
وہ لمحہ بھر خاموش رہا۔
“اور مجھے اس خاموشی میں سننا جب کوئی دانا شخص بولنے سے پہلے اپنے لفظوں کو تول رہا ہو۔ میں اب کسی ہیکل میں قید نہیں ہوں، مہرو۔ میں کسی ایک جسم، کسی ایک نام یا کسی ایک جگہ کا محتاج نہیں رہا۔ میں کائنات کے حسن اور خیر میں تحلیل ہو چکا ہوں۔”
مہرو نے ایک لمبی سانس لی اور ساور کے بے جان چہرے پر بکھری زلفوں کو سنوارا۔
اسے اچانک محسوس ہوا کہ کمرے کی ہوا بدل گئی ہے۔
اب وہاں موت کی بو نہیں تھی۔
وہاں ایک عجیب سی پاکیزگی تھی۔
جیسے کسی نے خاموشی کے اندر چراغ جلا دیا ہو۔
مہرو نے پلنگ پر پڑے ساور کے جسم کو دیکھا۔ آنکھیں بند تھیں۔ ہونٹ خاموش تھے۔ ہاتھ سرد پڑ چکا تھا۔
مگر اسے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ شاید موت نے ساور کو ختم نہیں کیا۔
صرف اس کی ایک صورت ختم ہوئی ہے۔
جسم وہیں رہا، مگر ساور اپنے تمام تر خیالات، محبتوں، یادوں اور چھوڑے ہوئے اثرات کے ساتھ اس کائنات کا ایک دائم حصہ بن چکا تھا۔
اور شاید اسی لمحے، کہیں بہت دور، کسی نامعلوم وجود کے اندر زندگی نے پہلی بار آنکھ کھولی تھی۔
عدم کے پرتو سے نور کی ایک نئی سحر جنم لے رہی تھی۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top