(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
رات کا آخری پہر تھا۔ شہر سو چکا تھا مگر مہرو کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ کمرے میں جلتا ہوا مدھم چراغ دیوار پر عجیب و غریب سائے بنا رہا تھا۔ کبھی کوئی سایہ لمبا ہو کر چھت تک پہنچ جاتا اور کبھی سمٹ کر یوں غائب ہو جاتا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔
پلنگ پر ساور لیٹا تھا۔ سانسیں بہت مدھم تھیں۔ چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔ مہرو اس کے سرہانے بیٹھی اس کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔ وہ کئی گھنٹوں سے اسی طرح بیٹھی تھی۔ کبھی اس کے چہرے کو دیکھتی، کبھی اس کی انگلیوں کو سہلاتی اور کبھی بے اختیار اپنے ہونٹ اس کے ہاتھ پر رکھ دیتی۔
ڈاکٹر کہہ چکے تھے کہ اب امید بہت کم ہے۔ لیکن محبت کو ڈاکٹروں کی پیش گوئیوں پر یقین کہاں ہوتا ہے؟
مہرو نے جھک کر اس کے کان میں کہا، “ساور، اگر میری آواز سن رہے ہو تو واپس آ جاؤ۔”
کوئی جواب نہ آیا۔
اس نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں اور مضبوطی سے تھام لیا۔
“دیکھو، میں ابھی یہیں ہوں۔ تمہیں کہیں جانے کی اجازت نہیں۔”
ساور کے ہونٹ ذرا سے ہلے۔
مہرو چونک گئی۔
“ساور؟”
اس نے قریب ہو کر دیکھا۔
ہونٹ پھر ساکت ہو گئے۔
کمرے میں خاموشی واپس آ گئی۔
پھر اچانک ساور کی آنکھیں کھل گئیں۔ مگر اس نے مہرو کی طرف نہیں دیکھا۔ اس کی نظریں چھت پر جمی ہوئی تھیں۔
“مہرو…”
آواز بہت مدھم تھی۔
“جی…”
“تم رو رہی ہو؟”
مہرو کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“ہاں۔”
“کیوں؟”
وہ کچھ نہ کہہ سکی۔
ساور نے آنکھیں بند کر لیں۔
“میں جا رہا ہوں؟”
مہرو نے فوراً اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
“ایسی باتیں نہیں کرتے۔”
ساور مسکرایا۔
“کبھی کبھی جانے والا پہلے جان لیتا ہے کہ وہ جا رہا ہے، اور پیچھے رہ جانے والا بہت دیر بعد سمجھتا ہے کہ کوئی جا چکا ہے۔”
“مجھے فلسفہ نہیں چاہیے، ساور۔ مجھے تم چاہیے۔”
ساور نے آنکھیں کھولیں۔ اس بار اس نے سیدھا مہرو کو دیکھا۔
“اور اگر میں تمہارے پاس ہی رہوں تو؟”
مہرو نے آنسو پونچھے۔
“تو پھر میں تمہیں جانے کیوں دوں گی؟”
ساور خاموش ہو گیا۔
کچھ دیر بعد اس نے پوچھا، “مہرو، کبھی تم نے سوچا ہے کہ انسان مرتا کہاں ہے؟”
“جب دل دھڑکنا بند کر دے۔”
“نہیں۔”
ساور کی آواز میں عجیب سا یقین تھا۔
“انسان اس وقت مرتا ہے جب آخری شخص اسے یاد کرنا چھوڑ دیتا ہے۔”
مہرو نے اس کا ہاتھ اپنے سینے سے لگا لیا۔
“تو پھر تم کبھی نہیں مرو گے۔”
ساور مسکرایا۔
“اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔ یادیں بھی کبھی کبھی انسان کو دھوکا دیتی ہیں۔”
اسی لمحے مانیٹر کی آواز بدل گئی۔ ایک لمبی سیدھی لکیر اسکرین پر ابھری۔
مہرو نے چیخ کر ساور کو پکارا۔
ڈاکٹر اور نرسیں اندر دوڑیں۔ کمرہ اچانک لوگوں سے بھر گیا۔ کسی نے مہرو کو پیچھے کیا۔ کسی نے ساور کے سینے پر ہاتھ رکھے۔ کسی نے انجکشن لگایا۔
مگر چند منٹ بعد سب کچھ خاموش ہو گیا۔
ڈاکٹر نے آہستہ سے سر جھکا دیا۔
مہرو نے ساور کو دیکھا۔ وہی چہرہ تھا۔ وہی ہاتھ تھے۔ وہی پیشانی تھی جسے وہ برسوں سے چومتی آئی تھی۔
لیکن ساور نہیں تھا۔
یا شاید…
ساور کہیں اور تھا۔
تین دن گزر گئے۔
گھر میں آنے والے لوگ تعزیت کرتے، خاموش بیٹھتے اور چلے جاتے۔ مہرو سب کی باتیں سنتی مگر اسے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔
ایک رات جب سب جا چکے تھے، وہ ساور کے کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی۔ سامنے میز پر اس کی ڈائری پڑی تھی۔
مہرو نے ڈائری کھولی۔
پہلے صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
“اگر کبھی میں نہ رہوں تو مجھے وہاں تلاش کرنا جہاں میری ضرورت ہو۔”
مہرو دیر تک اس جملے کو دیکھتی رہی۔
اچانک اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے کان میں کہا ہو:
“مجھے تلاش کرنا۔”
وہ چونک کر پلٹی۔
کمرے میں کوئی نہیں تھا۔
“ساور؟”
خاموشی۔
مہرو نے دوبارہ ڈائری اٹھائی۔
اگلے صفحے پر لکھا تھا:
“میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ میں صرف اپنی جگہ بدلوں گا۔”
مہرو کی انگلیاں کانپنے لگیں۔
اس نے اگلا صفحہ پلٹا۔ پھر اگلا۔
ہر صفحے پر ساور کے خیالات، خواب، خوف اور محبتیں بکھری ہوئی تھیں۔
لیکن آخری صفحہ خالی تھا۔
صرف نیچے ایک لفظ لکھا تھا:
“مہرو”
وہ دیر تک اس لفظ کو دیکھتی رہی۔
پھر اسے اچانک یاد آیا کہ ساور ہمیشہ کہا کرتا تھا:
“انسان اپنی زندگی میں بہت کچھ لکھتا ہے، مگر اپنی آخری تحریر کبھی خود نہیں لکھتا۔”
مہرو نے قلم اٹھایا۔
خالی صفحے پر لکھا:
“ساور، تم کہاں ہو؟”
کمرے کی خاموشی میں قلم کی آواز بہت واضح سنائی دی۔
اور پھر…
اس کے ہاتھ نے خودبخود ایک اور جملہ لکھ دیا۔
مہرو نے قلم چھوڑ دیا۔
وہ جملہ اس کی تحریر نہیں تھی۔
وہ ساور کی لکھائی تھی۔
“جہاں تم ہو، میں وہیں ہوں۔”
مہرو کا سانس رک گیا۔
اس نے آئینے کی طرف دیکھا۔
آئینے میں اس کا اپنا چہرہ تھا۔
مگر آنکھوں میں ایک ایسی اداسی تھی جسے وہ پہچانتی تھی۔
وہ ساور کی اداسی تھی۔
اس نے بے اختیار اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
دل دھڑک رہا تھا۔
مگر اس دھڑکن میں ایک اور لے شامل تھی۔
وہی لے جو ساور کے دل کی تھی۔
مہرو نے سر جھٹکا۔
“یہ میرا وہم ہے۔”
آئینے میں موجود عورت نے بھی سر ہلایا۔
لیکن اس کے ہونٹوں پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جو مہرو کی نہیں تھی۔
مہرو پیچھے ہٹ گئی۔
اسی لمحے اسے ساور کی آخری بات یاد آئی:
“اگر کبھی میں نہ رہوں تو مجھے وہاں تلاش کرنا جہاں میری ضرورت ہو۔”
اس نے آہستہ سے کہا:
“میں نے تمہیں ہر جگہ تلاش کیا…”
پھر اس کی نظر اپنے ہاتھ پر پڑی۔
وہی ہاتھ جو برسوں سے ساور کا ہاتھ تھامتا رہا تھا۔ وہی ہاتھ جو اس کے آنسو پونچھتا تھا۔ وہی ہاتھ جو اس کی کتابوں کے صفحات پلٹتا تھا۔
وہی ہاتھ جو اب ساور کے الفاظ لکھ رہا تھا۔
اچانک مہرو کے اندر ایک خوفناک مگر روشن خیال پیدا ہوا۔
اگر ساور میرے اندر منتقل ہو گیا ہو تو؟
وہ کانپ گئی۔
“نہیں…”
مگر اگلے ہی لمحے اس کے اندر سے ایک آواز آئی:
“تو پھر تم مجھے کہاں تلاش کر رہی تھیں؟”
مہرو کی آنکھیں بند ہو گئیں۔
آنسو بہنے لگے۔
“ساور…”
اس بار آواز باہر سے نہیں آئی۔
وہ اس کے اندر سے نکلی۔
اور مہرو سمجھ گئی۔
ساور شاید مر گیا تھا۔
لیکن محبت نہیں مری تھی۔
خیال نہیں مرا تھا۔
لفظ نہیں مرے تھے۔
انسان کبھی کبھی اپنے جسم سے نکل کر کسی دوسرے انسان کی روح میں جگہ بنا لیتا ہے۔
اور شاید یہی موت کا سب سے بڑا راز ہے:
جسے ہم موت سمجھتے ہیں، وہ کبھی کبھی صرف وجود کی جگہ بدلنے کا نام ہوتا ہے۔
صبح کی پہلی کرن کھڑکی سے اندر آئی۔
مہرو نے ساور کی ڈائری بند کی۔
آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی۔
کچھ دیر اپنے عکس کو دیکھتی رہی۔
پھر بہت آہستہ سے مسکرائی۔
اور اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ آئینے میں دو لوگ نہیں تھے۔
صرف ایک تھا۔
وہ خود۔
مگر اس ایک وجود میں دو زندگیاں سانس لے رہی تھیں۔
باہر دنیا کے لیے ساور مر چکا تھا۔
مگر مہرو کے لیے وہ پہلی بار پوری طرح زندہ ہوا تھا۔
اور شاید…
کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی تھی۔
کہانی تو اس دن شروع ہوئی تھی جب ساور کا جسم خاموش ہوا تھا۔
کیونکہ اس رات مہرو کے اندر ایک سوال نے جنم لیا تھا:
اگر محبت مرنے کے بعد بھی زندہ رہ سکتی ہے تو پھر محبت کرنے والا آخر مرتا کب ہے؟
