داغ

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

گھر خوشیوں سے گونج رہا تھا۔ ماہ رُخ کی شادی تھی، اور ہر طرف چہل پہل تھی۔ ماں نے اسے گلے لگایا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “بیٹی، آج سے تو راج کرے گی!”

ماہ رُخ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا گئی، مگر اندر ایک عجیب سا اضطراب تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی زندگی اب ایک نئے موڑ پر ہے، مگر اسے حمزہ کے مزاج کی زیادہ سمجھ نہ تھی۔ وہ خاموش طبیعت کا تھا، محبت کا اظہار کم کرتا تھا، مگر ماہ رُخ نے ہمیشہ سوچا کہ وقت کے ساتھ سب بدل جائے گا۔

شادی کی رات، جب وہ دلہن بنی بیٹھی تھی، تو حمزہ کمرے میں آیا۔ اس کی نظریں ماہ رُخ پر تھیں، مگر پھر اچانک اس کا چہرہ سخت ہو گیا۔

“یہ ماتھے پر نشان کیسا ہے؟” حمزہ نے تیز لہجے میں پوچھا۔

ماہ رُخ چونک گئی۔ وہ نشان جو بچپن میں سیڑھیوں سے گرنے سے پڑا تھا، آج اس کے نصیب کا فیصلہ کر رہا تھا؟

“یہ تو بچپن کی چوٹ کا نشان ہے، حمزہ…” اس نے دھیرے سے کہا۔

حمزہ کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر سرد لہجے میں بولا، “مجھے صاف اور بے داغ چیزیں پسند ہیں۔”

یہ سن کر ماہ رُخ کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔

اگلے دن سے ہی حمزہ کا رویہ بدلا ہوا تھا۔ وہ لاپروائی برتنے لگا، کبھی نظر انداز کرتا، کبھی طنزیہ لہجے میں بات کرتا۔ ماہ رُخ سمجھنے کی کوشش کرتی رہی کہ کیا ایک معمولی نشان اس کے رشتے کی راہ میں دیوار بن سکتا ہے؟

ایک دن، ہمت کر کے اس نے ماں سے کہا، “امی، کیا ایک عورت کی قیمت صرف اس کے چہرے سے لگائی جاتی ہے؟”

ماں نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ “بیٹی، شوہر کی خوشی میں ہی تیری خوشی ہے۔ بس صبر کر۔”
مگر صبر کا ایک وقت ہوتا ہے۔ جب ماہ رُخ نے حمزہ کو اپنی محبت اور سچائی سے قائل کرنے کی آخری کوشش کی، تو وہ بیزاری سے بولا، “اگر تمہیں پتا تھا کہ تمہارا چہرہ داغ دار ہے، تو شادی سے پہلے بتایا کیوں نہیں؟”

یہ سن کر ماہ رُخ کے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی۔ وہ جسے اپنی زندگی سمجھ رہی تھی، وہ محض ایک معاہدہ تھا، جہاں اس کی ذات نہیں، بس اس کا چہرہ اہم تھا۔

رات کے اس پہر، جب سارا گھر خاموش تھا، ماہ رُخ نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ وہی چہرہ، مگر آج وہ کسی اور کا لگ رہا تھا۔ اس نے ماتھے کے نشان پر ہاتھ پھیرا، اور ایک ہلکی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی۔

“داغ میرے چہرے پر نہیں، تمہاری سوچ پر ہے، حمزہ!” وہ آہستہ سے بولی، اور اگلے ہی لمحے، اپنا سامان باندھنے لگی۔

دروازے کے باہر جشن کا شور تھا، اور کمرے کے اندر ایک قید سے رہائی کی آواز۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top