تحریرات

رشتوں کی خاموش دراڑیں

انسان کی زندگی میں کچھ فاصلے میلوں کے نہیں ہوتے، کچھ فاصلے تو ایک ہی گھر کی چار دیواری میں جنم لیتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو لوگ برسوں ایک دوسرے کے ساتھ سفر کرتے رہتے ہیں، ایک ہی راستے پر چلتے ہیں، ایک ہی چھت کے...

جسم کا سفر مختصر، روح کا سفر بے کنار

انسان ہمیشہ سے اپنے ظاہر کو سنوارنے میں مصروف رہا ہے، مگر اس کے اندر ایک ایسی دنیا بھی آباد ہے جس کی خبر اسے اکثر دیر سے ہوتی ہے۔ وہ دنیا جو نہ آنکھ سے دکھائی دیتی ہے، نہ ہاتھ سے چھوئی جا سکتی ہے، مگر انسان کی اصل...

زندگی کا آخری استدلال

زندگی کو عموماً ایک مسلسل حرکت، ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انسان صبح سے شام تک کسی نہ کسی مقصد، کسی نہ کسی خواہش، کسی نہ کسی شناخت کے پیچھے رواں دواں رہتا ہے۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ٹھہر جانا ہار...

علم کی روشنی یا عقل کا غرور؟

انسان نے جب کائنات کے رازوں کو کھوجنا شروع کیا تو سائنس اس کے ہاتھ میں ایک عظیم چراغ بن کر آئی۔ اس چراغ نے اندھیروں کو چاک کیا، بیماریوں سے جنگ کی، فاصلے سمیٹے اور فطرت کے کئی سربستہ راز آشکار کیے۔ لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں...

حاصل کے اُس پار کا خسارہ

خواہش اور حاصل کے درمیان جو فاصلہ ہے، شاید انسان کی پوری زندگی اسی نادیدہ فاصلے کو عبور کرنے کا نام ہے۔ یہی درمیانی راستہ وہ پل صراط ہے جہاں قدم بھی اپنے وزن سے واقف ہوتے ہیں اور روح بھی اپنے بوجھ سے۔ یہاں نہ خواہش کو مکمل موت...

لفظوں کی معیشت

گروپ میں ایک عجیب سا دستور چل نکلا تھا۔ لفظ کم اور ردِعمل زیادہ بولنے لگے تھے۔ ہر صبح ایک نیا شعر آتا، جیسے کسی نے دل کی الماری کھول کر جذبات سجا دیے ہوں۔ مگر اصل بات شعر نہیں تھا… اصل بات اس کے نیچے لگنے والے چھوٹے چھوٹے...

جہاں خاموشی بولتی ہے

انسان کی سب سے قدیم بھول یہ ہے کہ وہ آئینے کو حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ وہ عکس کو دیکھ کر چہرے کا فیصلہ کر دیتا ہے، مگر یہ نہیں سوچتا کہ آئینہ صرف وہی دکھاتا ہے جو اُس کے سامنے کھڑا ہو۔ جو پیچھے رہ گیا، جو ٹوٹ کر...

دل کی گلیوں میں اعتکاف

رات کے آخری پہر جب کائنات خاموشی کے گہرے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھی اور نیند نے دنیا کو اپنی نرم چادر میں لپیٹ رکھا تھا, میں نے اپنے دل کی گلیوں کا رخ کیا۔ یہ وہی گلیاں تھیں جہاں کبھی تمناؤں کے چراغ روشن تھے, جہاں خوابوں کے درختوں...

اجسام کے دکھ

نسان ہمیشہ روشنی سے محبت کرتا ہے، مگر روشنی کی قیمت سے نہیں۔ وہ ستارے کو دیکھتا ہے مگر اس آگ کو نہیں دیکھتا جو اسے ستارہ بناتی ہے۔ وہ سورج کی کشش سے متاثر ہوتا ہے مگر اس مسلسل احتراق کو بھول جاتا ہے جو اس کشش کی بنیاد...

فکرِ حسینؑ اور موجودہ عالمی استعمار

دنیا ایک مسلسل تغیر پذیر کائنات ہے، جہاں ہر لمحہ ایک نئی جہت، ایک نئی کشمکش، اور ایک نئی تعبیر کو جنم دیتا ہے۔ وقت کا دھارا بظاہر ماضی کو پیچھے چھوڑتا ہے، مگر کچھ صدائیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت سے بلند ہو کر ہر عہد کے ضمیر کو...

Scroll to Top