(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان ہمیشہ سے اپنے ظاہر کو سنوارنے میں مصروف رہا ہے، مگر اس کے اندر ایک ایسی دنیا بھی آباد ہے جس کی خبر اسے اکثر دیر سے ہوتی ہے۔ وہ دنیا جو نہ آنکھ سے دکھائی دیتی ہے، نہ ہاتھ سے چھوئی جا سکتی ہے، مگر انسان کی اصل پہچان وہیں سے جنم لیتی ہے۔
ہم اپنے وجود کو آئینوں میں تلاش کرتے ہیں، چہروں کی تازگی، لباس کی خوبصورتی، جسم کی آسائش اور دنیاوی مقام کو اپنی کامیابی سمجھ لیتے ہیں، مگر کبھی کبھی یہ سوال بھی ضروری ہے کہ جس ہستی نے اس جسم کو حرکت دی، اس کی کیفیت کیا ہے؟
ایک خاموش حقیقت یہ ہے کہ جسم اپنی تمام تر قوت کے باوجود محض ایک مدت کا ساتھی ہے۔ یہ بدلتا ہے، تھکتا ہے، کمزور ہوتا ہے اور ایک دن اسی مٹی میں لوٹ جاتا ہے جس سے اسے اٹھایا گیا تھا۔ مگر انسان کی اصل آزمائش اس ظاہری قالب سے کہیں آگے ہے۔
زندگی کا سب سے بڑا راز شاید یہی ہے کہ ایک بے حرکت جسم میں ایک ایسا امر داخل ہوتا ہے جو اسے احساس، شعور، محبت، ارادہ اور پہچان عطا کرتا ہے۔ یہی وہ راز ہے جس کے سامنے عقلِ انسانی اپنی تمام تر ترقی کے باوجود عاجزی اختیار کرتی ہے۔
انسان نے ستاروں کے راستے تلاش کر لیے، سمندروں کی تہوں تک پہنچ گیا، اپنے جسم کے ذروں کا مطالعہ کر لیا، مگر اپنے اندر کے اُس مسافر کی حقیقت اب بھی اس کے لیے پردۂ غیب میں ہے۔
افسوس یہ نہیں کہ انسان جسم سے محبت کرتا ہے؛ یہ بھی ایک فطری ضرورت ہے۔ افسوس یہ ہے کہ وہ مکان کی مرمت تو کرتا رہتا ہے مگر مکین کی خبر نہیں لیتا۔ وہ اپنے چہرے کے داغ چھپا لیتا ہے مگر اپنے کردار کے داغوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
دل پر جمی ہوئی سختی، نیتوں میں چھپی ملاوٹ، زبان کی تلخی، دوسروں کے لیے بغض، اور اپنے رب سے غفلت یہ وہ بوجھ ہیں جو نظر نہیں آتے مگر انسان کے اندر کو آہستہ آہستہ ویران کر دیتے ہیں۔
روح کی غذا دولت نہیں، اخلاص ہے۔ روح کی طاقت شہرت نہیں، سچائی ہے۔ روح کی روشنی نمود نہیں، معرفت ہے۔
انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ دنیا کو دکھانے کے لیے بہت کچھ جمع کرتا ہے، مگر اُس ہستی کے سامنے پیش ہونے کے لیے بہت کم تیاری کرتا ہے جس کے سامنے کوئی پردہ باقی نہیں رہے گا۔
ہم دوسروں کے چہروں کو پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اپنے دل کا حال جاننے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم دنیا سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں کیا ملا، مگر کبھی خود سے نہیں پوچھتے کہ ہم نے اپنے وجود کو کیا دیا؟
موت دراصل زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک حقیقت کا پردہ اٹھنا ہے۔ اس لمحے انسان کے پاس نہ عہدے رہتے ہیں، نہ نام کی گونج، نہ دنیا کے سہارے؛ باقی رہ جاتا ہے وہی جو اندر بنایا گیا تھا۔
اس لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان نے کتنی بلند عمارتیں بنائیں، بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنے اندر کتنا پاکیزہ گھر آباد کیا۔
اپنے دل کو کینہ سے آزاد کرنا، اپنی نیت کو صاف کرنا، اپنے عمل کو بہتر بنانا اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنا ہی وہ سفر ہے جو انسان کو اپنے اصل مقام تک لے جاتا ہے۔
کیونکہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب دنیا ہماری آواز سننا چاہے گی مگر ہم خاموش ہوں گے، لوگ ہمارا چہرہ دیکھیں گے مگر ہم اس دنیا کے آئینے میں موجود نہیں ہوں گے۔
تب سوال یہ نہیں ہوگا کہ ہم نے زندگی کتنی آسائش سے گزاری؛ سوال یہ ہوگا کہ ہم نے زندگی کو کتنی حقیقت کے ساتھ جیا۔
جسم وقت کے ساتھ مٹی ہو جاتا ہے، مگر انسان کی خوشبو اس کے کردار سے باقی رہتی ہے۔
پس اپنے وجود کے اُس حصے کو مت بھولیے جو آنکھ سے اوجھل ہے، مگر رب کے علم میں سب سے نمایاں ہے۔
کیونکہ اصل سفر قدموں کا نہیں، اندر کا سفر ہے۔
