دُعا لفظ نہیں، وجود کی کیفیت ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

دُعا ہونٹوں سے ادا ہونے والا جملہ نہیں، روح کے اندر برپا ہونے والی ایک کیفیت ہے۔ لفظ تو صرف دروازے ہیں، اصل سفر تو اُس خاموش وادی میں شروع ہوتا ہے جہاں دل اپنی تمام منتشر آوازوں کو سمیٹ کر ایک ہی سمت متوجہ ہو جاتا ہے۔ جس دل میں خواہشیں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہوں، وہاں دُعا نہیں، صرف تمناؤں کا شور جنم لیتا ہے۔
انسان اکثر یہ گمان کرتا ہے کہ وہ دُعا مانگ رہا ہے، حالانکہ بہت سی دعائیں اس کی اپنی نہیں ہوتیں۔ وہ وراثت میں ملے ہوئے الفاظ ہوتے ہیں؛ نسلوں کی زبان سے گزر کر اس کی زبان تک پہنچے ہوئے جملے۔ ان میں برکت ضرور ہو سکتی ہے، مگر جب تک دل اپنی آگ سے ان الفاظ کو روشن نہ کرے، وہ محض صدا رہتے ہیں، ندا نہیں بنتے۔
دُعا اُس لمحے جنم لیتی ہے جب باطن کے تمام دروازے ایک ہی مرکز پر کھل جائیں۔ جب خوف، حرص، حسد، انا اور بے شمار منتشر خواہشیں خاموش ہو جائیں، تب دل ایک ایسی وحدت کو پا لیتا ہے جہاں انسان مانگتا کم ہے اور اپنے آپ کو سپرد زیادہ کرتا ہے۔ یہی سپردگی دُعا کا حقیقی جوہر ہے۔
دل اگر بیدار ہو تو خاموشی بھی تسبیح بن جاتی ہے، اور اگر دل غفلت میں ہو تو بلند ترین آواز بھی آسمان تک رسائی نہیں پاتی۔ کائنات لہجوں سے کم، کیفیتوں سے زیادہ آشنا ہے۔ وہ زبان کے مخارج نہیں سنتی، نیت کی ارتعاش کو پہچانتی ہے۔ اسی لیے بعض اوقات آنکھ کا ایک بے نام آنسو ہزار لفظوں سے زیادہ بلیغ دُعا بن جاتا ہے۔
روح کی سب سے بڑی تہذیب یہ ہے کہ وہ خواہش کو طلب سے، اور طلب کو رضا سے آشنا کر دے۔ جب دُعا صرف حاصل کرنے کی کوشش نہ رہے بلکہ حقیقت سے ہم آہنگ ہونے کا سفر بن جائے، تب انسان کے اندر ایک نئی وسعت جنم لیتی ہے۔ پھر وہ تقدیر سے لڑتا نہیں، اپنے آپ کو اس حکمت کے سپرد کر دیتا ہے جس کی نظر ماضی، حال اور مستقبل پر یکساں ہوتی ہے۔
اہلِ بصیرت کی دعائیں اس لیے زندہ رہتی ہیں کہ ان کے الفاظ پہلے ان کے وجود میں ڈھلے ہوتے ہیں۔ انہوں نے جو کہا، پہلے اسے جیا؛ جو مانگا، پہلے اس کے لیے اپنے باطن کو آمادہ کیا۔ ان کی زبان ان کے دل کا ترجمان تھی، دل کی متبادل نہیں۔
دُعا دراصل الفاظ کا انتخاب نہیں، وجود کی ترتیب ہے۔ جب انسان کا باطن اپنے رب کی طرف پوری یکسوئی سے متوجہ ہو جائے تو اس کی خاموشی بھی عبادت بن جاتی ہے، اس کا سکوت بھی مناجات، اور اس کی سانسیں بھی تسبیح۔
آخرکار دُعا زبان سے نہیں، اُس دل سے قبولیت کی طرف سفر کرتی ہے جو اپنی تمام پراگندگی کو سمیٹ کر اخلاص کی ایک ہی دھڑکن میں بدل چکا ہو۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top