یادوں کا وزن روح اٹھاتی ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کچھ بوجھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں کندھے نہیں اٹھاتے، روح اٹھاتی ہے۔ انہی میں سب سے بھاری بوجھ یادوں کا ہوتا ہے۔ یہ لوہے کی زنجیر نہیں ہوتیں، مگر برسوں تک انسان کے باطن کو جکڑے رکھتی ہیں۔ ان کی کوئی شکل نہیں ہوتی، مگر یہ چہرے کا نور بدل دیتی ہیں۔ ان کی کوئی آواز نہیں ہوتی، مگر یہ دل کے اندر مسلسل بولتی رہتی ہیں۔
خاموشی دراصل یادوں کی سب سے قدیم زبان ہے۔ جب دنیا کے تمام شور تھک کر سو جاتے ہیں تو ماضی آہستہ سے حال کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ پھر کوئی پرانی خوشبو، کسی قدموں کی بازگشت، کسی نام کا عکس یا کسی شام کا رنگ انسان کو ان راستوں پر لے جاتا ہے جہاں وقت تو گزر چکا ہوتا ہے مگر احساس ابھی تک مقیم ہوتے ہیں۔
تلخ یادیں رات کے اندھیرے جیسی نہیں ہوتیں، وہ تو ایسی دھند ہوتی ہیں جو دن کی روشنی میں بھی نگاہ کو دھندلا دیتی ہے۔ ان کا وزن ترازو پر نہیں چڑھتا، مگر اعصاب کی رگوں میں اس طرح اتر جاتا ہے جیسے کسی پرانے درخت کی جڑیں چٹان کے اندر سرایت کر جائیں۔ انسان چلتا پھرتا رہتا ہے، مگر اندر کہیں ایک تھکا ہوا مسافر ہمیشہ بیٹھا رہتا ہے۔
اور خوشگوار یادیں… وہ وقت کو واپس نہیں لاتیں، مگر جینے کا سبب ضرور واپس لے آتی ہیں۔ وہ خزاں میں اچانک اگ آنے والی سبز کونپل کی مانند ہوتی ہیں۔ ان کے لمس سے روح کو یہ یقین ملتا ہے کہ زندگی صرف زخموں کا نام نہیں، مرہم بھی اسی کائنات میں کہیں موجود ہے۔ بعض اوقات ایک مسکراہٹ کی یاد، برسوں کی اداسی سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہے۔
انسان کی عجیب فطرت ہے۔ وہ جن یادوں کو دفن کرنا چاہتا ہے، وہی قبر کی مٹی چیر کر خوابوں میں اُگ آتی ہیں؛ اور جن لمحوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنا چاہتا ہے، وقت ان کے رنگ دھیرے دھیرے دھندلا دیتا ہے۔ شاید اسی لیے حافظہ ایک عجائب گھر بھی ہے اور ایک ویران کھنڈر بھی؛ جہاں کچھ کمرے چراغوں سے روشن ہیں اور کچھ دروازے ہمیشہ کے لیے بند۔
زندگی کی سب سے بڑی سچائی شاید یہ ہے کہ انسان اپنی عمر نہیں جیتا، اپنی یادیں جیتا ہے۔ سانسیں جسم کو زندہ رکھتی ہیں، مگر یادیں شخصیت کو۔ اگر تمام یادیں چھین لی جائیں تو آدمی چلتا پھرتا وجود تو رہ سکتا ہے، مگر اپنی پہچان کھو دیتا ہے۔ اسی لیے بعض زخم بھر جانے کے بعد بھی ان کا نشان باقی رہتا ہے، کیونکہ قدرت نے نشان مٹانے کے لیے نہیں، انسان کو سکھانے کے لیے بنائے ہوتے ہیں۔
یادیں دریا بھی ہیں اور آئینہ بھی۔ دریا اس لیے کہ انہیں روکا نہیں جا سکتا، اور آئینہ اس لیے کہ ان میں ہم اکثر دوسروں سے زیادہ خود کو دیکھتے ہیں۔ جو شخص اپنی یادوں سے صلح کر لیتا ہے، وہ ماضی کا قیدی نہیں رہتا؛ اور جو ان سے جنگ کرتا رہتا ہے، وہ حال میں رہ کر بھی گزرا ہوا زمانہ جیتا رہتا ہے۔
شاید اسی لیے حکمت یہ نہیں کہ انسان ہر یاد کو مٹا دے؛ حکمت یہ ہے کہ وہ ان یادوں کو ایسا مقام دے جہاں وہ زنجیر نہ رہیں بلکہ چراغ بن جائیں۔ کیونکہ اندھیرے کبھی روشنی سے نہیں ہارتے، وہ صرف ایک چھوٹے سے چراغ کے معنی سمجھ لینے سے شکست کھا جاتے ہیں۔
آخرکار انسان مٹی میں نہیں دفن ہوتا، وہ اُن یادوں میں زندہ رہتا ہے جنہیں اُس نے دوسروں کے دلوں میں روشنی کی طرح چھوڑا ہو۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top