(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
وئی محبت سے مرتد ہو جائے تو یہ محض ایک تعلق کا ٹوٹنا نہیں ہوتا، یہ ایک عقیدے کا بکھر جانا ہوتا ہے۔ محبت صرف ایک جذبہ نہیں، ایک ایمان ہوتی ہے اور جب ایمان ٹوٹتا ہے تو انسان صرف محروم نہیں ہوتا، وہ اندر سے منہدم ہو جاتا ہے۔
ایسے میں سب سے بڑی آزمائش یہ نہیں کہ تم اس شخص کو بھول جاؤ، بلکہ یہ ہے کہ تم اپنے اندر اُٹھنے والے ہر جذبے کو خاموش کر دو۔
محبت تو خیر رخصت ہو چکی، مگر جو چیز باقی رہتی ہے وہ ہے “ردِعمل”۔ اور یہی ردِعمل انسان کو اس کے اصل مقام سے گرا دیتا ہے۔
نفرت۔۔۔یہ وہ آخری زنجیر ہے جو تمہیں اُس شخص سے باندھے رکھتی ہے، جس سے تم آزاد ہونا چاہتے ہو۔
یہ آسان ہے کہ تم کہو: “میں اس سے نفرت کرتا ہوں”
مگر درحقیقت تم ابھی تک اسی کے مدار میں گھوم رہے ہوتے ہو۔
اس لیے اگر کوئی محبت سے مرتد ہو جائے، تو تم پر لازم ہے کہ تم صرف محبت ہی نہیں، بلکہ نفرت کو بھی اپنے اندر سے جلا دو۔
کیونکہ نفرت بھی ایک رشتہ ہے اور تمہیں ہر رشتے سے آزاد ہونا ہے۔
خاموشی اختیار کرو۔ ایسی خاموشی جس میں نہ شکوہ ہو، نہ دعا، نہ بددعا۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے دکھ کو بھی عبادت بنا لیتا ہے، اور اپنے زخموں کو بھی راز رکھتا ہے۔
یاد رکھو، بڑا انسان وہ نہیں جو محبت نبھا لے، بلکہ وہ ہے جو محبت کے بعد بھی اپنے دل کو پاک رکھے۔
جو یہ ہنر سیکھ لے، وہ کسی ایک انسان سے نہیں، بلکہ پوری کائنات سے آزاد ہو جاتا ہے۔
اور یہی آزادی اصل نجات ہے
