(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
اے صاحبِ سرمدی نور! اے وادیٔ لاہوت کے مکیں! میری زخم خوردہ روح تیرے آستانے پر اس یقین کے ساتھ دستک دے رہی ہے کہ یہاں دستک کبھی بے معنی نہیں ہوتی۔ یہ وہ در ہے جہاں رحمت کے چراغ ہوا کے محتاج نہیں، جہاں خاک بھی نسبت پا کر خوشبو بن جاتی ہے اور جہاں سجدوں میں جھکا ہوا ماتھا زمین کو نہیں چھوتا بلکہ اپنے اندر کے آسمان کا در کھولتا ہے۔ میں اسی در کی دہلیز پر اپنی تمام دعوے داری، اپنی خود شناسی، اپنی عقل اور اپنی تدبیریں رکھ کر آیا ہوں، کیونکہ جب انسان اپنے آپ سے تھک جاتا ہے تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ نجات راستوں کی کثرت میں نہیں، ایک در کی پہچان میں ہے۔
میری شبِ ہجراں کے خیمے میں ندامت کے دیے جل رہے ہیں۔ ہر سانس اپنے اندر ایک نامعلوم تسبیح لیے گردش کر رہی ہے اور ہر اشک دریائے عطا کے کنارے پہنچ کر خاموش ہو جاتا ہے، جیسے اسے معلوم ہو کہ بعض دعائیں زبان سے نہیں نکل سکتیں۔ وہ آنکھوں سے اترتی ہیں، دل میں ٹھہرتی ہیں اور پھر کسی نامعلوم سمت میں قبولیت کی تلاش میں روانہ ہو جاتی ہیں۔ میری عرض بھی ایسی ہی ایک بےزبان دعا ہے؛ نہ اس میں الفاظ کا حسن ہے نہ استدلال کی قوت، صرف ایک ٹوٹا ہوا دل ہے جو اپنے ٹوٹنے کی آواز لیے تیرے در پر آیا ہے۔
اے وہ جو محرابِ معرفت میں چراغ جلاتا ہے! میری ذات کے اس شکستہ آئینے پر بھی ایک لمحے کے لیے نظرِ التفات ڈال دے جس میں میرا چہرہ تو دکھائی دیتا ہے مگر میری حقیقت کہیں کھو گئی ہے۔ میری راتوں کے بے سمت قافلے تھک چکے ہیں۔ انہیں منزل سے زیادہ ایک سمت درکار ہے، ایک ایسا نور جو راستہ دکھانے سے پہلے یہ یقین پیدا کر دے کہ راستہ ابھی باقی ہے۔ میرے اندر جو کچھ بجھ گیا ہے اسے دلیلوں سے نہیں، تیری ایک نظر کے سکون سے روشن کر دے۔
میں وہ مشتِ خاک ہوں جسے اپنی ہی گرد نے اندھا کر دیا ہے۔ مجھے تیرے التفات کی بارش چاہیے کہ خاک کو اپنی اصل یاد آ جائے۔ میں وہ بےمہر صدا ہوں جو مدت سے اپنے ہی اندر گونج رہی ہے، مجھے ایسی دعا چاہیے جو میرے لفظوں سے پہلے میری حالت کو پڑھ لے۔ میں وہ زخم ہوں جس نے درد کو اپنی شناخت بنا لیا ہے، مجھے ایسی مسیحائی چاہیے جو صرف زخم نہ بھرے بلکہ مجھے یہ بھی سکھا دے کہ زخم کے بعد انسان پہلے جیسا نہیں رہتا۔
اے مرشد! میرے پاس پیش کرنے کو کچھ نہیں۔ نہ اعمال کا ایسا ذخیرہ جس پر نگاہ ٹھہرے، نہ معرفت کا ایسا دعویٰ جس پر فخر کیا جا سکے۔ جو کچھ ہے وہ شکستگی ہے، جو کچھ بچا ہے وہ طلب ہے اور جو کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ آنکھیں پہلے ہی کہہ چکی ہیں۔ اگر تیری ہتھیلی پر لکھی ہوئی لکیروں میں میرے جیسے گمشدہ مسافر کے لیے بھی کوئی حرفِ کرم باقی ہے تو اسے پڑھنے کی اجازت دے۔ شاید میری قسمت بدلنے کی ضرورت نہ ہو، شاید صرف میری نظر بدلنے کی ضرورت ہو؛ شاید دروازہ وہی ہو اور میں ہی برسوں سے غلط سمت میں دیکھتا رہا ہوں۔
مجھے دنیا نہیں چاہیے، مجھے اپنی روح کا راستہ چاہیے۔ مجھے منزل کا غرور نہیں چاہیے، مجھے راستے میں تیرا ساتھ چاہیے۔ مجھے ایسا نور چاہیے جو آنکھوں کو نہیں بلکہ نیت کو روشن کرے، ایسی معرفت چاہیے جو زبان کو نہیں بلکہ کردار کو بدل دے اور ایسی نسبت چاہیے جس کے بعد میں اپنے آپ کو بڑا نہیں بلکہ اپنے رب کے سامنے پہلے سے زیادہ محتاج محسوس کروں۔
اے صاحبِ نظر! اگر میرے لیے عطا مقدر نہیں تو کم از کم طلب کو زندہ رکھ۔ اگر میری رات ابھی ختم نہیں ہونی تو ایک ایسا چراغ دے جو اندھیرے میں بھی تیرا پتہ بتاتا رہے۔ اگر میری مسافت ابھی باقی ہے تو میرے قدموں کو سمت دے۔ اور اگر میری اصلاح کا راستہ میرے اپنے وجود کے ملبے سے ہو کر گزرتا ہے تو مجھے اپنے اندر کے انہدام سے خوف نہ آئے۔
بس ایک نگاہِ کرم! ایسی نگاہ جو میرے چہرے کو نہیں، میری روح کو دیکھے؛ ایسی نگاہ جو میرے ماضی کا حساب نہ مانگے بلکہ میرے اندر کے مستقبل کو بیدار کر دے۔ ایک لمحہ ایسا عطا ہو کہ وقت کی زنجیر ٹوٹ جائے، نفس کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے اور یہ خاک، جو مدت سے اپنے ہونے کا بوجھ اٹھائے پھر رہی ہے، اپنی اصل پہچان لے۔
پھر مجھے کچھ اور نہیں چاہیے؛ اگر تیری ایک نگاہ میرے اندر اتر جائے تو شاید میں آزادی پانے والا مسافر نہیں رہوں گا، بلکہ وہ راستہ بن جاؤں گا جس پر چل کر میری بھٹکتی ہوئی روح خود اپنے رب تک پہنچ جائے۔
