(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
میں نے صدائیں دیں، آنکھوں میں انتظار کے چراغ جلائے، دل کی تہوں میں چھپی ہوئی ہر التجا کو لفظوں کا جامہ پہنایا اور عشق کی دہلیز پر دستک دی؛ مگر سامنے وہی سکوت تھا، ایسا سکوت جس میں کوئی آہٹ نہ تھی، کوئی جواب نہ تھا، کوئی تسلی نہ تھی۔ میں دیر تک کھڑا رہا اور اپنی ہی صدا کی بازگشت سنتا رہا۔ ایک لمحے کو گمان ہوا کہ شاید یہ دروازہ پتھر کا ہے، شاید میری دستک بے معنی ہے، شاید جسے میں التفات سمجھ کر آیا تھا وہاں میرے لیے کوئی نگاہ بھی نہیں۔ مگر نادان دل اکثر ظاہری خاموشی کو باطنی بے نیازی سمجھ لیتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں عشق کی پہلی آزمائش شروع ہوتی ہے۔
مرشد کی خاموشی کو بے اعتنائی سمجھ لینا شاید اس لیے آسان ہے کہ مرید اپنے عشق کو میزان بنا لیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی گریہ و زاری کے جواب میں کوئی کلمۂ تسلی ملے، اس کی سپردگی کے بدلے کوئی التفات نصیب ہو اور اس کی فنا کے عوض کوئی قرب عطا ہو۔ مگر جہاں ابھی “میں” باقی ہو وہاں فنا کا دعویٰ بھی ایک لطیف خواہش بن سکتا ہے۔ انسان کہتا ہے کہ میں نے خود کو مٹا دیا، مگر دل کے کسی نہاں خانے میں یہ خواہش زندہ ہوتی ہے کہ میری اس مٹ جانے کو دیکھا جائے، پہچانا جائے، سراہا جائے۔ یہاں عشق اپنی سب سے باریک نقاب پوش خودی کو بے نقاب کرتا ہے۔
مرشد اگر ہر گریہ پر تسلی دے، ہر سوال کا جواب دے، ہر اضطراب کو فوراً سکون میں بدل دے تو ممکن ہے مرید درِ مرشد سے وابستہ ہو جائے مگر اپنے رب کی تلاش سے غافل رہ جائے۔ بعض اوقات خاموشی اس لیے نہیں ہوتی کہ سامنے والے کو سنا نہیں گیا بلکہ اس لیے ہوتی ہے کہ اسے اپنی صدا کے اندر چھپی ہوئی طلب سنائی جائے۔ بعض اوقات جواب روک لیا جاتا ہے تاکہ طالب جواب کا محتاج نہ رہے بلکہ حقیقت کا طالب بن جائے۔ تربیت ہمیشہ ہاتھ پکڑ کر نہیں ہوتی؛ کبھی ہاتھ چھوڑ کر بھی ہوتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نادان مرید بے نیازی دیکھتا ہے اور صاحبِ نظر تربیت۔ ایک نگاہ کہتی ہے: “مجھے نظر انداز کیا گیا”؛ دوسری نگاہ پوچھتی ہے: “میرے اندر وہ کیا ہے جسے ابھی نظر چاہیے؟” ایک دل دروازے پر کھڑے ہو کر حساب کرتا ہے کہ مجھے کتنا ملا اور دوسری روح اپنے اندر اتر کر دیکھتی ہے کہ میں ابھی کتنا باقی ہوں۔ فرق صرف نگاہ کا ہے؛ دروازہ وہی رہتا ہے مگر معنی بدل جاتے ہیں۔
عشق میں سب سے مشکل مرحلہ محبوب یا مرشد کے قریب ہونا نہیں، اپنی طلب کی تہہ تک پہنچنا ہے۔ وہاں جا کر معلوم ہوتا ہے کہ ہم جس قرب کے لیے بےقرار تھے اس میں بھی اپنی ذات کی کوئی نہ کوئی خواہش چھپی ہوئی تھی۔ ہم فنا ہونا چاہتے تھے مگر اپنی فنا کا مشاہدہ بھی چاہتے تھے۔ ہم سپرد ہونا چاہتے تھے مگر اپنی سپردگی کی قبولیت بھی چاہتے تھے۔ ہم کہتے تھے کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے مگر دل کے کسی گوشے میں ایک نظرِ کرم کی آرزو موجود تھی۔ تب مرشد کی خاموشی آئینہ بن جاتی ہے اور اس آئینے میں چہرہ نہیں، نیت دکھائی دیتی ہے۔
اسی لیے مرشد کی بے نیازی کو ہر بار بے التفاتی سمجھنا عشق کے آداب سے ناواقفیت ہے۔ کبھی سکوت، گفتار سے زیادہ بلیغ ہوتا ہے؛ کبھی فاصلہ قرب کی حفاظت کرتا ہے اور کبھی ایک بند دروازہ طالب کو اپنے باطن کا وہ دروازہ دکھا دیتا ہے جسے وہ مدت سے بھول چکا ہوتا ہے۔ اہلِ دل جانتے ہیں کہ ہر دروازہ باہر سے نہیں کھلتا۔ بعض دروازے اس وقت کھلتے ہیں جب دستک دینے والا خود اپنی دستک سے آگے بڑھ کر اندر کے سکوت کو سننے لگے۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب مرید کو مرشد سے جواب نہیں چاہیے ہوتا۔ اسے صرف اپنی طلب کی صحت چاہیے ہوتی ہے۔ اسے یہ شکایت نہیں رہتی کہ نگاہِ التفات کیوں نہ ملی بلکہ یہ فکر پیدا ہوتی ہے کہ میری نگاہ ابھی تک التفات کی محتاج کیوں ہے۔ یہی سوال عشق کو جذبات کی سطح سے اٹھا کر معرفت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہاں “میں” آہستہ آہستہ اپنی مرکزیت کھوتا ہے اور طلب، طالب سے بڑی ہو جاتی ہے۔
تب وہی خاموش دروازہ جسے کبھی سنگی دیوار سمجھا تھا، ایک باطنی مکتب بن جاتا ہے۔ وہاں کوئی سبق تختی پر نہیں لکھا ہوتا، کوئی درس زبان سے نہیں دیا جاتا، مگر ہر لمحہ انسان کی انا پر ایک نئی تحریر ثبت ہوتی ہے۔ وہاں سکھایا جاتا ہے کہ نسبت، تصرف کا نام نہیں؛ محبت، حق جتانے کا نام نہیں؛ اطاعت، اپنی خواہش منوانے کا وسیلہ نہیں اور فنا، اپنی ذات کے مٹنے کا اعلان نہیں بلکہ اپنی ذات کو مرکز سمجھنے کی عادت سے نجات ہے۔
اور شاید مرشد کی سب سے گہری عنایت یہی ہوتی ہے کہ وہ کبھی کبھی طالب کو اپنے ظاہری التفات سے محروم رکھتا ہے تاکہ طالب اس کے باطن میں پوشیدہ حقیقت کی طرف متوجہ ہو۔ جو ہر خاموشی میں بے نیازی دیکھتا ہے وہ ابھی دروازے پر کھڑا ہے؛ جو اسی خاموشی میں تربیت کی صدا سن لیتا ہے، اس کے لیے دروازہ کھل چکا ہوتا ہے۔
پھر دستک باقی نہیں رہتی، دروازہ بھی باقی نہیں رہتا اور وہ “میں” بھی نہیں رہتا جو دروازے کے باہر کھڑا تھا۔ صرف طلب رہ جاتی ہے، صرف ادب رہ جاتا ہے اور ایک ایسا سکوت اتر آتا ہے جس میں پہلی بار محسوس ہوتا ہے کہ جواب کبھی باہر سے آنا تھا ہی نہیں۔
بعض اوقات مرشد کا خاموش رہنا انکار نہیں ہوتا؛ وہ مرید کو اپنی آواز سے آزاد کرکے اُس حقیقت کی طرف لوٹانا ہوتا ہے جہاں جواب لفظ نہیں، حال بن کر اترتا ہے۔
