یوں ہوتا تو کیا ہوتا؟

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

یہ سوال صدیوں سے انسانی ذہن میں گردش کرتا رہا ہے۔ یہ محض ایک خیال نہیں، بلکہ ایک داخلی کرب ہے جو ہر اس دل میں جاگتا ہے جو کبھی امید، محبت، یا خوابوں کی دنیا میں زندہ رہا ہو۔ یہ سوال کسی ناکامی کا شکوہ نہیں بلکہ اس امکان کا نوحہ ہے جو کبھی حقیقت نہ بن سکا۔
کبھی سوچا ہے کہ اگر زندگی میں ہمیں انتخاب کا پورا اختیار ہوتا تو کیا ہوتا؟ اگر مقدر کی نادیدہ زنجیریں نہ ہوتیں، اگر فیصلوں کی راہیں بے خوفی سے چنی جا سکتیں، تو کیا ہمارے غم کم ہوتے؟ یا پھر ہم نئے غموں کا سامنا کر رہے ہوتے؟ انسان کی نفسیات عجیب ہے۔۔جو ملا، اس میں کمی تلاش کرتا ہے، جو نہیں ملا، اس کا ملال پال لیتا ہے۔
یوں ہوتا تو کیا ہوتا؟ اگر الفاظ زبان سے نکل کر کسی اور دل کی گہرائی میں جذب ہو جاتے؟ اگر وعدے نبھانے کے لیے کیے جاتے، توڑنے کے لیے نہیں؟ اگر ہم غیروں سے کہنے کے بجائے اپنوں سے کچھ کہہ دیتے؟ شاید دل میں اک گونجتی اداسی کم ہو جاتی، شاید احساسات کی شدت سکون میں بدل جاتی۔ مگر شاید زندگی کی فطرت یہی ہےادھورے خواب، نامکمل کہانیاں، اور وہ ناگفتہ جذبات جو وقت کی گود میں خاموشی سے دفن ہو جاتے ہیں۔
یہ سوال محض ایک تمنّا نہیں بلکہ فلسفے کی ایک گہری گتھی ہے۔ کیا ممکنات کی دنیا بہتر ہوتی یا جو مل چکا ہے، وہی حقیقت کا بہترین روپ ہے؟ کیا ہمارا اختیار ہی ہماری آزمائش نہیں؟ اور اگر ہمیں وہ سب کچھ مل جائے جو ہم نے چاہا، تو کیا اس چاہت کی شدت باقی رہتی؟ شاید اس لمحے ہم کسی اور “یوں ہوتا تو کیا ہوتا؟” میں الجھ جاتے۔
زندگی شاید اسی توازن کا نام ہے۔۔چاہت اور قسمت، اختیار اور تقدیر، ادھورے خواب اور مکمل حقیقت۔ ہمیں یہی سیکھنا ہے کہ جو نہیں ہوا، اس کا دکھ پالنے سے بہتر ہے کہ جو ہو رہا ہے، اس میں معنی تلاش کیے جائیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ہر سوال کا جواب نہیں، اور ہر “یوں ہوتا تو کیا ہوتا؟” کا ایک “یوں بھی اچھا ہوا” بھی ہو سکتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top