سرمستیِ وحدت

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

یہ حرف و صوت کی دنیا، یہ معانی کے پیچ و خم، یہ عقل کی زنجیریں اور ادراک کے تمام پیمانے… سب اپنی اپنی حد میں مقید ہیں۔ میں اگر اُس ایک لمحے کو لکھنے بیٹھوں جس میں ’’تو‘‘ کے سوا کچھ باقی نہ تھا تو شاید سب سے پہلے قلم ہی اپنے وجود سے انکار کر دے۔ کیونکہ لکھنے کے لیے شعور چاہیے، بیان کے لیے فاصلہ چاہیے اور گواہی کے لیے ’’میں‘‘ کا باقی رہنا ضروری ہے۔ مگر وہاں ’’میں‘‘ کہاں تھا؟ وہاں تو ذاتِ من کی ہر صدا تیری تجلی کے سمندر میں اس طرح تحلیل ہو گئی تھی جیسے صبح کی پہلی کرن میں رات کا آخری سایہ۔
یہ دنیا اہلِ خرد کا میدان ہے۔ یہاں دلیلیں ترازو اٹھائے پھرتی ہیں، سوال اپنے وجود کا جواز مانگتے ہیں اور عقل ہر حقیقت کو اپنے پیمانے میں تول کر مطمئن ہونا چاہتی ہے۔ مگر وہ لمحہ عقل کے دائرے سے باہر تھا۔ وہاں سوال نہیں تھا، صرف یقین تھا۔ وہاں دلیل نہیں تھی، صرف مشاہدۂ دل تھا۔ وہاں فاصلہ نہیں تھا، اس لیے وصال کا سوال بھی نہ تھا۔ ایسا سکوت تھا جس میں کائنات کی تمام صدائیں اپنی اصل لے میں واپس آ گئی تھیں اور ایسی روشنی تھی جس میں الفاظ تو کیا، الفاظ کے سائے بھی باقی نہ رہے تھے۔
میں نے چاہا کہ اُس کیفیت کو کسی تشبیہ کا لباس پہناؤں مگر ہر تشبیہ مجھے اس کے سامنے حقیر محسوس ہوئی۔ سوچا اسے استعارے میں سمو دوں مگر استعارہ بھی اُس وسعت کے سامنے ایک محدود ظرف نکلا۔ قلم اٹھایا تو ہاتھ رک گیا۔ لفظ سوچا تو معنی چھوٹا پڑ گیا۔ بیان کرنا چاہا تو محسوس ہوا کہ میں جس حقیقت کو بیان کرنے نکلا ہوں، بیان کا ہر امکان اُسے کم کر دے گا۔ بعض تجربے لکھے نہیں جاتے؛ انسان خود ان کے بعد ایک خاموش تحریر بن جاتا ہے۔
اُس لمحے مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ فنا مٹ جانے کا نام نہیں، اپنے مصنوعی وجود سے نجات کا نام ہے۔ جب ’’میں‘‘ اپنے دعوے سے دست بردار ہوتا ہے تو ایک ایسا ادراک طلوع ہوتا ہے جس کے سامنے اپنی ذات کی تمام دیواریں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ وہاں سرمستی بے ہوشی نہیں بلکہ شعور کی وہ آخری بیداری ہے جہاں شعور اپنے خالق کے حضور اپنی حد پہچان لیتا ہے۔ وہاں انسان حقیقت کو پکڑنے کی کوشش نہیں کرتا؛ خود کو اُس کے سامنے چھوڑ دیتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں طلب اپنی انتہا کو پہنچ کر خاموش ہو جاتی ہے کیونکہ جسے ڈھونڈنا تھا، اُس کے سوا باقی سب کچھ ہی تلاش کی راہ میں حجاب بن گیا تھا۔
عقل نے مجھ سے پوچھا: ’’تم نے کیا دیکھا؟‘‘
دل خاموش رہا۔
عقل نے پھر پوچھا: ’’کیا محسوس کیا؟‘‘
آنکھ بھیگ گئی۔
پھر سوال ہوا: ’’اسے ثابت کیسے کرو گے؟‘‘
اور اس مقام پر میں مسکرا دیا… کیونکہ جس حقیقت نے مجھے میرے اپنے وجود کے دعوے سے آزاد کر دیا ہو، اسے اپنے وجود کی دلیل سے ثابت کرنا بھی تو ایک نئی خودی ہے۔
تب سمجھ آیا کہ وحدت کی سرمستی کوئی ایسا جام نہیں جسے الفاظ کے پیمانے میں ناپا جا سکے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں پیمانہ ٹوٹتا ہے، پیمانے والا بھی اور ناپنے کی خواہش بھی۔ انسان وہاں حقیقت کا بیان کرنے والا نہیں رہتا بلکہ خود ایک سوال بن جاتا ہے جس کا جواب اُس کی اپنی ذات کے مٹنے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
اور اب اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ وہ لمحہ کیسا تھا تو میں شاید صرف اتنا کہہ سکوں گا:
وہاں میں نہیں تھا کہ بتا سکتا کہ کیا ہوا…
وہاں لفظ نہیں تھے کہ لکھ سکتا کہ کیا دیکھا…
وہاں فاصلہ نہیں تھا کہ کہتا کہ وصال ہوا…
وہاں صرف ’’تو‘‘ تھا۔
اور جہاں صرف ’’تو‘‘ رہ جائے وہاں ’’میں‘‘ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہتا۔
شاید یہی سرمستیِ وحدت کا سب سے بڑا راز ہے کہ انسان جس لمحے اسے بیان کرنے کے قابل ہوتا ہے، وہ لمحہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے؛ اور جس لمحے وہ حقیقتاً اُس میں اترتا ہے، اُس لمحے بیان کرنے والا باقی نہیں رہتا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top