(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی ہمیشہ ویسی نہیں رہتی جیسی ہم اپنے ذہن میں اُس کی تصویر بناتے ہیں۔ انسان اکثر اپنے گرد ایک محفوظ دنیا تعمیر کر لیتا ہے؛ محبتوں، رشتوں، یقینوں، منصوبوں اور امیدوں کی دنیا۔ اُسے لگتا ہے کہ کچھ لوگ کبھی نہیں بدلیں گے، کچھ دروازے کبھی بند نہیں ہوں گے، کچھ سائے ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ مگر زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ یہ “ہونی” اور “انہونی” کے درمیان معلق ایک غیر یقینی سفر ہے۔ یہاں وہ بھی ہو جاتا ہے جس کا تصور تک نہیں کیا گیا ہوتا، اور وہ بھی چھِن جاتا ہے جسے انسان اپنی تقدیر کا مستقل حصہ سمجھ بیٹھتا ہے۔
زندگی کو اکثر لوگ گلزار سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں، حالانکہ یہ ایک ڈولے کھاتی ناؤ ہے؛ ایسی ناؤ جو کبھی پُرسکون پانیوں پر تیرتی ہے، کبھی اچانک بھنوروں میں گھر جاتی ہے۔ انسان کنارے کا گمان کیے بیٹھا ہوتا ہے مگر وقت کا ایک تیز جھونکا پوری سمت بدل دیتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بڑے سانحات ہمیشہ شور مچا کر نہیں آتے؛ اکثر تباہیاں خاموشی سے جنم لیتی ہیں۔ پہلے لہجوں کی حدت کم ہوتی ہے، پھر تعلقوں کی نمی سوکھتی ہے، پھر ملاقاتیں رسمی ہوتی ہیں، پھر ایک دن انسان پلٹ کر دیکھتا ہے تو سب کچھ موجود ہونے کے باوجود کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔
بکھراؤ ہمیشہ اچانک محسوس ہوتا ہے، حالانکہ وہ اندر ہی اندر مدتوں سے پل رہا ہوتا ہے۔ گھر ایک دن میں ویران نہیں ہوتے؛ ان کی دیواروں میں خاموش دراڑیں پہلے اترتی ہیں۔ رشتے ایک لمحے میں نہیں مرتے؛ ان کی روح پہلے زخمی ہوتی ہے۔ انسان ایک حادثے سے نہیں ٹوٹتا؛ وہ بارہا خود کو سنبھالتے سنبھالتے تھک جاتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ زندگی انسان کو سنبھلنے کا مکمل موقع بھی نہیں دیتی۔ ایک طرف امیدیں ٹوٹتی ہیں تو دوسری طرف ذمہ داریاں کندھوں پر چڑھ جاتی ہیں۔ انسان اپنے آنسو بھی پوری طرح نہیں بہا پاتا کہ اُسے دوبارہ مسکرانے کا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔
ہونی اور انہونی کا سب سے کربناک پہلو یہی ہے کہ انسان ہمیشہ غلط جگہ یقین رکھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ مضبوط لوگ کبھی نہیں گریں گے، آباد گھر کبھی نہیں ٹوٹیں گے، سچے تعلق کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ مگر وقت ثابت کرتا ہے کہ دنیا میں کوئی شے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ بعض اوقات وہی لوگ بکھر جاتے ہیں جنہیں دوسروں کا سہارا ہونا تھا۔ وہی شاخیں ٹوٹ جاتی ہیں جو سب سے زیادہ پھل دار ہوتی ہیں۔ وہی چراغ بجھ جاتے ہیں جن سے روشنی کی امید تھی۔
زندگی کی اصل دہشت کسی طوفان میں نہیں، اُس خاموش تبدیلی میں ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے اندر اُترتی رہتی ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب آدمی محسوس کرتا ہے کہ اُس کی ہنسی پہلے جیسی نہیں رہی، اُس کی گفتگو میں پہلے جیسا یقین نہیں رہا، اُس کی آنکھوں میں خوابوں کی جگہ احتیاط نے لے لی ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی تنہائی محسوس کرتا ہے، کیونکہ اُس نے دیکھ لیا ہوتا ہے کہ دنیا میں کچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو سمجھ آتی ہے کہ زندگی گلزار نہیں، ایک بے یقینی سمندر ہے۔ یہاں موسموں پر اختیار نہیں، لہروں پر حکم نہیں، اور کناروں کی ضمانت نہیں۔ آج جو سایہ شجر معلوم ہوتا ہے، کل وہی ٹوٹی ہوئی شاخ بن سکتا ہے۔ آج جو گھر قہقہوں سے آباد ہے، کل وہاں خاموشی بسیرا کر سکتی ہے۔ آج جو شخص محبت کا مرکز ہے، کل وہ اجنبیوں کی صف میں کھڑا مل سکتا ہے۔
لیکن شاید زندگی کا اصل شعور یہی ہے کہ انسان اس بے یقینی کو تسلیم کرنا سیکھ لے۔ وہ جان لے کہ دنیا قیام گاہ نہیں، گزرگاہ ہے۔ یہاں تعلق نبھانے ہوتے ہیں، مالک بن کر نہیں بلکہ امانت سمجھ کر۔ کیونکہ وقت جب پلٹتا ہے تو انسان کو یہ احساس دلا دیتا ہے کہ ہم دراصل کسی شے کے مالک نہیں تھے؛ نہ لمحوں کے، نہ لوگوں کے، نہ موسموں کے۔
اور پھر ایک دن انسان خاموشی سے بیٹھ کر سوچتا ہے:
تباہی ہمیشہ شور سے نہیں آتی، بعض اوقات زندگی آہستہ آہستہ انسان کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسلتی رہتی ہے، اور اُسے خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ کب تنہا کنارے پر رہ گیا۔
