وجود کے پردے میں حقیقت

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی سب سے بڑی بھول یہ ہے کہ وہ اپنے وجود کو اپنی حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ وہ جسم، نام، مقام، اختیار اور اپنی ظاہری شناختوں کے حصار میں اس قدر گم ہو جاتا ہے کہ اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ یہ سب عطا ہے، اصل نہیں۔ خود شناسی کا سفر دراصل اپنے ہونے کے غرور سے نکل کر اپنے ہونے کے محتاج ہونے کا ادراک حاصل کرنے کا سفر ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی ذات کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اپنی ذات کے فریب کی نفی کرتا ہے۔
انسان جب اپنے اندر اترتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس “میں” پر اسے سب سے زیادہ ناز تھا، وہ کتنی عارضی اور کمزور بنیادوں پر قائم ہے۔ سانس جو ابھی جاری ہے، ایک لمحے بعد رک سکتی ہے؛ طاقت جس پر انسان اتراتا ہے، ایک حادثے کے سامنے بے بس ہو سکتی ہے؛ شہرت جس کے لیے انسان دوڑتا ہے، وقت کی گرد میں گم ہو سکتی ہے۔ پھر وہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر میرا سب کچھ بدلنے والا ہے تو وہ حقیقت کیا ہے جو ہمیشہ قائم ہے؟
یہی سوال خود شناسی کا دروازہ کھولتا ہے۔ انسان جب اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے تو اسے اپنے وجود کی محدودیت کا احساس ہوتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ وہ مستقل بالذات نہیں، بلکہ ایک عطا کردہ وجود ہے؛ وہ قائم رہنے والا نہیں، بلکہ قائم رکھا جانے والا ہے۔ یہی احساس انسان کے اندر سے خود پسندی، غرور اور باطل خود اعتمادی کے بت توڑ دیتا ہے۔
حقیقی خود شناسی انسان کو “میں” کی قید سے نکال کر “وہ” کی معرفت تک لے جاتی ہے۔ یہاں “عدم” سے مراد فنا یا بے حقیقت ہونا نہیں، بلکہ اس جھوٹے احساسِ خودی کا مٹ جانا ہے جو انسان کو اپنی ذات کو مرکزِ کائنات سمجھنے پر مجبور کرتا ہے۔ جب انسان اپنے محدود وجود کے پیچھے اس لامحدود حقیقت کو دیکھ لیتا ہے جس سے اسے وجود ملا ہے، تو اس کی نگاہ بدل جاتی ہے۔
شرک کی بنیاد بھی یہی غلط فہمی ہے کہ انسان کسی مخلوق، کسی طاقت یا حتیٰ کہ اپنی ذات کو اس مقام پر بٹھا دے جو صرف خالق کے لیے مخصوص ہے۔ خود شناسی اس فریب کو توڑتی ہے، کیونکہ جو شخص اپنی حقیقت کو جان لیتا ہے وہ جان لیتا ہے کہ وہ مالک نہیں، امانت دار ہے؛ مستقل نہیں، محتاج ہے؛ اختیار کا سرچشمہ نہیں، اختیار کا عطا کردہ حامل ہے۔
بندہ جب اپنی حقیقت پہچان لیتا ہے تو اس کے اندر عجیب سکون پیدا ہوتا ہے۔ پھر وہ لوگوں کے سامنے اپنی بڑائی ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتا، کیونکہ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اصل عظمت اپنی ذات کے پھیلاؤ میں نہیں بلکہ اپنے رب کے سامنے جھک جانے میں ہے۔ درخت جتنا پھلدار ہوتا ہے اتنا ہی جھکتا ہے، اور انسان جتنا معرفت حاصل کرتا ہے اتنا ہی عاجزی میں اترتا ہے۔
خود شناسی کا کمال یہ نہیں کہ انسان اپنے وجود کو بڑا سمجھنے لگے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے وجود کی حقیقت سمجھ لے۔ وہ جان لے کہ اس کی زندگی ایک عطیہ ہے، اس کی صلاحیتیں امانت ہیں، اس کی سانسیں قرض ہیں، اور اس کا سفر اپنے اصل مرکز کی طرف واپسی کا سفر ہے۔
جو شخص اپنے اندر کے بت گرا دیتا ہے، وہ باہر کے بتوں سے خود آزاد ہو جاتا ہے۔ جو اپنے نفس کے دھوکے سے نکل آتا ہے، وہ حقیقت کے نور کو پہچان لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے محدود “وجود” کے پردے سے نکل کر اس حقیقت کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو ہر وجود کا سرچشمہ ہے۔
آخرکار خود شناسی انسان کو مٹاتی نہیں، اسے پاک کرتی ہے؛ اسے ختم نہیں کرتی، اسے اس کے اصل مقام سے آشنا کرتی ہے۔ وہ اپنے ہونے کے غرور سے نکل کر اپنے ہونے کی حقیقت تک پہنچتا ہے۔ اور یہی معرفت کا وہ مقام ہے جہاں بندہ جان لیتا ہے کہ اصل ہستی صرف وہ ہے جس کے سبب ہر ہستی قائم ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top