تسلیم کے بعد تحقیق کا زوال

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی پوری زندگی ایک سوال ہے۔ وہ مٹی سے اٹھتا ہے، ستاروں تک دیکھتا ہے، ذرّے کو چیرتا ہے، کہکشاؤں کا حساب لگاتا ہے اور پھر بھی اپنے اندر کے ایک راز سے بے خبر رہتا ہے۔ تحقیق اس کی پیاس ہے، جستجو اس کا سفر ہے، اور سوال اس کے قدموں کی آواز۔ مگر ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں راستہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ راستہ خود منزل میں تحلیل ہو جاتا ہے۔
وہ مقام تسلیم ہے۔
تسلیم وہ خاموش دریا ہے جہاں عقل کی بے قرار لہریں آ کر سکون پاتی ہیں۔ یہاں انسان حقیقت کو فتح نہیں کرتا، بلکہ حقیقت کے سامنے خود کو کھو دیتا ہے۔ کیونکہ کچھ حقیقتیں ایسی نہیں ہوتیں جنہیں ہاتھ میں پکڑا جائے، وہ تو ایسی خوشبو ہوتی ہیں جن میں خود کو گم کرنا پڑتا ہے۔
تحقیق انسان کو دروازے تک لے جاتی ہے، مگر دروازہ کھل جانے کے بعد بھی اگر انسان چابی تلاش کرتا رہے تو یہ جستجو نہیں، غفلت ہے۔ جو آنکھ سورج دیکھ چکی ہو، اگر وہ پھر چراغ کی روشنی کا امتحان لینے لگے تو یہ بصارت نہیں، بصیرت سے محرومی ہے۔
تسلیم کے بعد تحقیق کبھی کبھی اُس مسافر کی مانند ہو جاتی ہے جو منزل پر پہنچ کر بھی نقشہ کھولے بیٹھا رہتا ہے۔ اسے راستہ تو مل گیا، مگر راستے کی محبت نے منزل کا ذوق چھین لیا۔
عارف جانتا ہے کہ عقل ایک چراغ ہے، مگر ہر چراغ کی ایک حد ہوتی ہے۔ چراغ راستہ دکھا سکتا ہے، سورج پیدا نہیں کر سکتا۔ عقل حقیقت کے دروازے تک پہنچا سکتی ہے، مگر حقیقت کے اندر داخل ہونے کے لیے دل کا دروازہ کھولنا پڑتا ہے۔
جو راز محبت سے کھلتے ہیں، وہ منطق کے ہتھوڑوں سے نہیں کھلتے۔ کچھ پردے علم سے اٹھتے ہیں اور کچھ صرف فنا سے۔ تحقیق “میں جانتا ہوں” کی طرف لے جاتی ہے، مگر تسلیم “میں نہیں، وہی ہے” کی منزل دکھاتی ہے۔
انسان کا سب سے بڑا حجاب جہالت نہیں، بلکہ اپنی عقل پر حد سے زیادہ اعتماد ہے۔ نادان شخص اندھیرے میں ہوتا ہے، مگر متکبر عقل مند کبھی کبھی روشنی میں بھی راستہ کھو دیتا ہے۔ کیونکہ اندھیرے میں چراغ تلاش کیا جا سکتا ہے، لیکن مصنوعی روشنی میں سورج کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
دریا جب بادل بن کر آسمان پر اٹھتا ہے تو اپنی شناخت کھو دیتا ہے، مگر اسی کھونے میں اسے وسعت ملتی ہے۔ قطرہ اگر اپنی انفرادیت پر اصرار کرے تو قطرہ رہتا ہے، سمندر میں فنا ہو جائے تو سمندر کا نام پا لیتا ہے۔ یہی تسلیم کا راز ہے۔
تحقیق کا کمال یہ ہے کہ وہ انسان کو سوال کی گہرائی تک لے جائے، مگر تسلیم کا کمال یہ ہے کہ وہ سوال کرنے والے کو ہی مٹا دے۔ کیونکہ آخری سوال کا جواب الفاظ میں نہیں ہوتا، کیفیت میں ہوتا ہے۔
ایک وقت آتا ہے جب زبان خاموش ہو جاتی ہے اور دل بولنے لگتا ہے۔ جب دلیلیں تھک جاتی ہیں اور یقین جاگ اٹھتا ہے۔ جب انسان حقیقت کو سمجھنے کی کوشش چھوڑ کر حقیقت کے نور میں خود کو پہچاننے لگتا ہے۔
وہاں تحقیق ایک پردہ بن سکتی ہے، کیونکہ وہ انسان کو حقیقت کے سامنے کھڑا رکھنے کے بجائے حقیقت کو اپنی گرفت میں لینے کا فریب دیتی ہے۔
حقیقت کو پایا نہیں جاتا، حقیقت میں پایا جاتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں طالب، مطلوب میں، سوال، جواب میں، اور قطرہ، سمندر میں تحلیل ہو جاتا ہے۔
تسلیم کے بعد تحقیق اگر دل کی رہنمائی میں نہ ہو تو وہ روشنی کی تلاش میں آنکھیں بند کر لینے کے مترادف ہے؛ کیونکہ بعض منزلوں پر پہنچنے کے لیے دیکھنا نہیں، جھکنا پڑتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top